Sunday, December 23, 2018

توہین رسالت اور بچوں کا انتقام

◼ *توہینِ رسالت اور بچوں کی جانب سے انتقام*:◼

🌀 امام "زمحشری" نے اپنی کتاب " ربیع الابرار" میں بحرین کے بچوں کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ:"بچے ایک بار صوالجہ (ڈنڈا اورگیند کےساتھ کھیلا جاتا ہے) کھیلنے کے لیےنکلے، کھیل کے دوران گیند جا کر نصرانیوں کے ایک پادری کو لگی، اس نے گیند قبضے میں لے لی اور بچوں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا، بچوں نے باربار اس سے گیند واپس کرنے کا مطالبہ کیا؛ مگر اس نے نہیں انکار کیا، تب ایک بچے نے کہا: " محمد ﷺ کی خاطر ہماری گیند ہمیں واپس کردو! اس پر بھی پادری نے انکار کیا اور نبی ﷺ کی شان میں گستاخانہ گفتگو کی!! یہ سنتے ہی سارے بچےاپنے ڈنڈوں کے ساتھ پادری پر حملہ آور ہوئے اوراس قدر مارا کہ وہ پادری مرگیا۔
یہ عمر بن الخطاب کی خلافت کا زمانہ تھا اور اس کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو اس قدر خوش ہوئے کہ کسی بڑی سے بڑی فتح پر بھی اتنے خوش نہیں ہوئے تھے نہ کبھی کسی بڑی سے بڑی غنیمت پر اتنے خوش ہوئے تھے۔ فرمایا : "اب اسلام غالب آچکا ہے کہ چھوٹے بچے بھی توہین رسالت کا بدلہ لے سکتے ہیں اور اپنے نبیﷺ کی مدد کرسکتے ہیں"۔

اس واقعہ کا حوالہ درکار ھے!

••• *باسمه تعالی*•••
*الجواب وبه التوفیق:*

  دنیا کے کسی بھی خطے کسی بھی گوشے میں بسنے والے مسلمان خواہ وہ کسی بھی مسلک و جماعت سے تعلق رکہتے ہوں؛ لیکن جب بات گستاخی رسول  ﷺ كي ہو تو سب ایک قوم ایک ملت بن کر اس گستاخی کی سزا اور اسکے سد باب کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں؛ کیونکہ مسلمان خواہ کیسا بھی ہو لیکن اسکا دل حب نبویﷺ سے ضرور سرشار رہتا ھے وہ بحیثیت ایک محمدی و امتی ہونے کے اس بات کو قطعی برداشت نہیں کرسکتا کہ نبی آخر الزماں ﷺ کی شان اقدس میں کوئی تنقیصی جملہ کہا جائے اور یہ بات قابل مدح بہی ھے؛ کیونکہ آپ ﷺ   کی ذات مبارکہ رب کے بعد سب سے اعلی وبالا ھے, اس کے متعلق ہم فقہی رو سے فقط اتنا عرض کرینگے کہ: جو شخص کافر ہو یا مسلم، سید الاولین والآخرین، شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین، حضرت محمد مصطفٰی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہنسی اُڑاتا ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وزندگی کے کسی گوشے کے بارے میں استِہزائیہ انداز اختِیار کرتا ہے، یا آپ کی توہین وتنقیص کرتا ہے، یا آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، یا آپ کو گالی بَکتا ہے، یا آپ کی طرف بُری باتوں کو منسوب کرتا ہے، یا آپ کی ازواجِ مطہرات اور امہات المؤمنین - رضی اللہ عنہن- کے حق میں نازیبا باتیں کرتا ہے، یا حضراتِ صحابۂ کرام - رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین- کی شان میں نامناسب ونا درست الفاظ استِعمال کرتا ہے، … ایسا آدمی سراسر کافر، مرتد، زندیق وملحد ہے، اگر ایسا شخص کسی مسلم ملک میں یہ حرکت کرتا ہے، تو اس کو کیفرِ کردار تک پہنچانا (قتل کرنا)مسلم حکومت پر واجب ہے۔

  تاہم یہ اجرائے سزا و نفاذِ تعزیر حکومت کی ذمہ داری ھوگی ہر کس و ناکس کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ اپنے طور سے اس گستاخ کو اسکے انجام تک پہونچائے ؛ البتہ اتنا ضرور ھے کہ  اگر حکومت وقت اس کی گستاخی کے ثبوت مل جانے کے بعد بہی سزا و تعزیر میں سستی و چشم پوشی کرتی ھے تو اہل اسلام پر امن طریقے سے اپنا احتجاج درج کراسکتے ہیں.
  غرضیکہ جس واقعے کی بابت آپ نے دریافت کیا ھے اس میں چند مسلم بچوں نے ایک گستاخ رسول ﷺکو عشق مصطفوی کے جذبات سے سرشار ہوکر اسکو قتل کردیا ؛ گو کہ شرعا یہ اختیار ان بچوں کو نہیں تہا لیکن احناف کے یہاں مسئلہ شرعیہ یہ ھے: کہ اگر یہ گستاخی کسی مسلم سے سرزد ہو اور اس کا پختہ ثبوت بہی ہو تو ایسا مسلم شخص مرتد ھے اور واجب القتل ھے اور اگر وہ غیر مسلم ہو تو حاکم وقت اپنی صوابدید سے اس کو جو سزا دینا چاہے دے سکتا ھے لیکن جمہور فقہاء کا مذہب یہ ھے کہ کہ گستاخ خواہ کوئی ہو اسکی سزا قتل ہی ھے ,یہی وجہ ھے کہ ملک خداداد پاکستان میں جو قانون گستاخ کے قتل کا ھے وہ بالکل بجا ھے؛ کیونکہ حکم الحاکم رافع للخلاف ہوا کرتا ھے.
ہاں حکومت کے علاوہ کوئی عام آدمی اس گستاخ کو قتل کردیتا ھے تو اس کو قصاصا قتل نہیں کیا جایئگا؛ لیکن اسکا یہ عمل عدم جواز پر محمول کیا جایئگا اور اللہ سے امید رکہی جایئگی کہ اسکے ساتھ عفو و غفران کا معاملہ ہو.

🔅  اب ہم اس واقعہ کے حوالے کی جانب رجوع کرتے ہیں : یہ واقعہ  علامة" زمخشری"__467-538ھ__ رح نے اپنی کتاب " ربیع الابرار فی نصوص الاخبار" میں ذکر کیا ھے۔

*اس واقعہ کی عربی عبارت*:

🔰 خرج غلمان من أهل البحرين يلعبون بالصوالجة، وأسقف البحرين قاعد، فصكت الكرة صدره فأخذها، فجعلوا يطلبون إليه في ردها، فأبى، فقال غلام منهم: أسألك بحق محمد لما رددتها علينا، فشتم رسول الله، فأقبلوا عليه بصوالجهم وما زالوا يخبطونه حتى مات.
فرفع ذلك إلى عمر رضي الله عنه، فوالله ما فرح بفتح ولا غنيمة من غنائم المسلمين كفرحه بقتل أولئك الغلمان السقف، وقال: الآن عز الإسلام، إن غلمة صغارا سمعوا شتم نبيهم فغضبوا له وانتصروا. ثم اهدر دم الأسقف.

المصدر:  ربيع الابرار في نصوص الاخبار
المؤلف: محمود بن عمر الزمخشري،
الصفحة: 30
المجلد: 5
الناشر: مؤسسة الاعلمي، بيروت، لبنان.


( *فائدة*)

1⃣  کوئی بات اگر حدیث نہ ہو اور وہ شرعی نقطہ نظر سے کسی نص  سے متصادم نہ ہو تو اسکو حدیث کا عنوان دئیے بغیر بیان کیا جاسکتا ھے, حکایات میں سند کی تفتیش (جبکہ اس میں کوئی الزام یا خرابی نہ ہو )بے جا غلو ھے؛ حکمت کی باتیں جہاں بہی ملیں ان کو لے لو, محدثین نے خود حکایات کے باب میں سند کے متعلق نرم پہلو اختیار کیا ھے۔

2⃣کیونکہ سند کی اہمیت خاص طور پر وہاں ھے جہاں امر شرعی بیان کیا جارہا ہو۔سند مل جائے تو عمدہ بات ھے ورنہ چشم پوشی کی جائے۔

1⃣قال الصغانی: اذا علم ان حدیثا متروک او موضوع, فلیروہ ولکن لا یقول علیہ: قال رسولﷲ صلیﷲ علیہ وسلم۔

ترجمہ: اگر کسی روایت کے متعلق معلوم ہو کہ وہ متروک یا منگھڑت ھے لیکن وہ نص شرعی سے متصادم نہ ہو تو اسکو حدیث کا عنوان دئیے بغیر بیان کرنا درست ہوگا۔

تذکرة الموضوعات،
صفحة: 8.
مؤلف:العلامة محمد طاہر الفتني الهندی.
مطبع:ادارةالطباعةالمنيرية.مصر

2⃣ واما اخبار الصالحین وحکایات الزاھدین والمتعبدین ومواعظ البلغاء وحکم الادباء, فالاسانید زینة لها.وليست شرطا لتاديتها.

*ترجمہ* جہاں تک نیک لوگوں کے واقعات, اللہ والوں عبادت گزاروں کی حکایات, مقریرین کے وعظ, ادباء کی نصیحتوں کی بات ھے, تو ان کی سند کی  محض خوبصورتی اور زینت ہوگی اسکے بیان و نشر کرنے کے لیے شرط قرار نہیں دیجایئگی۔

نوادر الحديث
الصفحة: 41
 المؤلف: الشيخ يونس الجونفوري.
الناشر:ادارة إفادات أشرفية دوبگه هردوئي روڈ لكناؤ .
__________
 والله تعاليٰ أعلم
✍🏻...كتبه: *محمد عدنان وقار الصديقي*
23/12/2018

Monday, November 19, 2018

کتا توہین رسالت برداشت نہ کرسکا

*کُتّا بھی توہین رسالت برداشت نہ کر سکا*

 ایک واقعہ کثرت سے حالیہ دنوں توہین رسالت کے متعلق سوشل میڈیا پر نشر ہورہا ھے جس میں ایک کتے کا عجیب و غریب عمل ( مرتکب اہانت کے قتل) کا ذکر ھے , مجہے اس واقعہ کی تحقیق مطلوب ھے, واقعہ یہ ھے:

شارح بخاری حضرت امام حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ  نے ایک کتے کا ذکر کیا ہے, جس نے رسول اللہ ﷺ کے دشمن کو کاٹ کھایا.

"ایک دن عیسائیوں کے بڑے پادریوں کی ایک جماعت منگولوں کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہوئی. جو ایک منگول شہزادے کی عیسائیت قبول کرنے پر منعقد کی گئی تھی، اس تقریب میں ایک عیسائی مبلغ نے رسول اللہ ﷺ کو گالی بکی، قریب ہی ایک شکاری کتا بندھا ہوا تھا. جو اس کی طرف سے گالی بکنے پر چھلانگیں مارنے لگا. اور زوردار جھٹکا دے کر رسی نکالی. اور اس بدبخت  پر ٹوٹ پڑا. اور اس کو کاٹ لیا. لوگوں نے آگے بڑھ کر اس کتے کو قابو کیا. اور پیچھے ہٹا یا، تقریب میں موجود بعض لوگوں نے کہا کہ یہ محمد (ﷺ) کے خلاف تمہاری گفتگو کی وجہ سے ہوا ہے، اس گستاخ  نے کہا. بالکل نہیں،
بلکہ یہ خودار کتا ہے. جب اس نے بات چیت کے دوران مجھے دیکھا کہ میں بار بار ہاتھ اٹھا رہا ہوں. اس نے سمجھا کہ میں اس کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا رہاہوں. تو اس نے مجھ پر حملہ کر دیا، یہ کہہ کر اس بد بخت نے ہمارے محبوب ﷺ کو پھر گالی بکی. اس بار کتے نے رسی کاٹ دی.  اور سیدھا اس ملعون  پرچھلانگ لگا کر اس کی منحوس گردن کو دبوچ لیا. اور وہ فورا ہلاک ہو گیا،
اس کو دیکھ کر 40000 (چالیس ہزار) منگولوں نے اسلام قبول کیا"

(الدرر الکامنہ 3/ 203)

اور امام الذھبی نے اس قصے کو صحیح اسناد کے ساتھ " معجم الشیوخ "صفحہ 387 پر نقل کیا ہے ، اس واقعے کے عینی شاہد جمال الدین نے کہا ہے کہ

" اللہ کی قسم کتے نے میری آنکھوں کے سامنے اس ملعون گستاخ کوکاٹا اور اس کی گردن کو دبوچا جس سے وہ ہلاک ہو گیا"

➖➖➖➖➖
••• *باسمہ تعالی*•••
*الجواب وبہ التوفیق:*

توہین رسالت ایک عظیم ترین جرم ھے, جسکی تفصیل کتب احادیث و فقہ میں مذکور ھے,

آپ نے جس واقعہ کے متعلق معلوم کیا ھے وہ واقعہ سوال میں ذکر کردہ دونوں کتابوں میں مروی ھے.. اور واقعہ کے راوی "زین علی بن مرزوق" ثقہ اور بھروسے مند ہیں؛ لہذا اس واقعے کو نشر و بیان کرنا درست ھے۔

💠 *معجم الشیوخ کی عبارت*

عَلِيُّ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الثِّقَةُ الْعَالِمُ زَيْنُ الدِّينِ أَبُو الْحَسَنِ الرَّبْعِيُّ السَّلامِيُّ الْمَوْصِلِيُّ التَّاجِرُ
وُلِدَ سَنَةَ خَمْسِينَ وَسِتِّ مِائَةٍ.

وَرَكِبَ الْبِحَارَ لِلتِّجَارَةِ وَرَأَى الْعَجَائِبَ، وَكَانَ ذَا رَأْيٍ، وَعَقْلٍ، وَشَجَاعَةٍ، وَدِيَانَةٍ، وَعَاشَ سَبْعِينَ سَنَةً.

حَدَّثَنَا الزَّيْنُ عَلِيُّ بْنُ مَرْزُوقٍ، بِحَضْرَةِ شَيْخِنَا تَقِيِّ الدِّينِ الْمِنْصَاتِيِّ، سَمِعْتُ الشَّيْخَ جَمَالَ الدِّينِ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّيْبِيَّ ابْنَ الْوَاصِلِيِّ يَقُولُ فِي مَلإٍ مِنَ النَّاسِ: حَضَرْتُ عِنْدَ سونجق خزندار هُولاكُو وَأَبَغَا، وَكَانَ مِمَّنْ تَنَصَّرَ مِنَ الْمَغُولِ، وَذَلِكَ فِي دَوْلَةِ أَبَغَا فِي أَوَّلِهَا، وَكُنَّا فِي مُخَيَّمِهِ، وَعِنْدَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أُمَرَاءِ الْمَغُولِ، وَجَمَاعَةٌ مِنْ كِبَارِ النَّصَارَى فِي يَوْمِ ثَلْجٍ، فَقَالَ نَصْرَانِيٌّ كَبِيرٌ لَعِينٌ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ مُحَمَّدٌ؟ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَاعِيًا، وَقَامَ فِي نَاسٍ عَرَبٍ جِيَاعٍ فَبَقِيَ يُعْطِيهِمُ الْمَالَ وَيَزْهَدُ فِيهِ فَيَرْبُطُهُمْ، وَأَخَذَ يُبَالِغُ فِي تَنَقُّصِ الرَّسُولِ، وَهُنَاكَ كَلْبُ صَيْدٍ عَزِيزٌ عَلَى سونجق فِي سِلْسِلَةِ ذَهَبٍ فَنَهَضَ الْكَلْبُ، وَقَلَعَ السِّلْسِلَةَ وَوَثَبَ عَلَى ذَاكَ النَّصْرَانِيِّ فَخَمَشَهُ وَأَدْمَاهُ، فَقَامُوا إِلَيْهِ فَقَامُوا إِلَيْهِ، وَكَفُّوهُ عَنْهُ وَسَلْسَلُوهُ، فَقَالَ بَعْضُ الْحَاضِرِينَ: هَذَا لِكَلامِكَ فِي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَتَظُنُّونَ أَنَّ هَذَا مِنْ أَجْلِ كَلامِي فِي مُحَمَّدٍ؟ لا، وَلَكِنَّ هَذَا كَلْبٌ عَزِيزُ النَّفْسِ رَآنِي أُشِيرُ بِيَدِي فَظَنَّ أَنِّي أُرِيدُ ضَرْبَهُ فَوَثَبَ، ثُمَّ أَخَذَ أَيْضًا يَتَنَقَّصُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَزِيدُ فِي ذَلِكَ فَوَثَبَ إِلَيْهِ الْكَلْبُ، ثَانِيًا وَقَطَعَ السِّلْسِلَةَ وَافْتَرَسَهُ، وَاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَأَنَا أَنْظُرُ ثُمَّ عَضَّ عَلَى زَرْدَمَتِهِ فَاقْتَلَعَهَا فَمَاتَ الْمَلْعُونُ.
وأسلم بسب هذه الواقعة العظيمة من المغل نحو من أربعين ألفا، واشتهرت الواقعة.

⬛ المصدر: معجم الشيوخ
      المؤلف: العلامة ذهبي
      الصفحة:387
 
      الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت لبنان.
      درجة: راويه ثقة،


🔰المصدر:  الدرر الكامنة
     المؤلف: ابن حجر العسقلاني
     المجلد: 3
     الصفحة:128
     الناشر: دائرة المعارف العثمانية  حيدر آباد، انديا.


والله تعالي أعلم
✍🏻...كتبه: *محمد عدنان وقار الصديقي*