Showing posts with label Facebook Whatsapp Data. Show all posts
Showing posts with label Facebook Whatsapp Data. Show all posts

Saturday, February 17, 2024

موت کے وقت پانچ فرشتے

 ▪️ *موت کے وقت پانچ فرشتے* ▪️


پیارے دوستو، یہ قدرت کا قانون ہے کہ اس دنیا میں جو بھی آتا ہے، اسے ایک نہ ایک دن لوٹ کر واپس اپنے خالق کی طرف جانا ہے۔ موت کا ذائقہ ہر ذی روح نے چکھنا ہے۔ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے: جب آدمی پر نزع کا وقت طاری ہوتا ہے، مطلب موت قریب ہوتی ہے تو اللہ عزوجل اس بندے کی جانب پانچ فرشتے بھیجتا ہے۔پہلا فرشتہ اس کے پاس اس وقت آتا ہے جب اس کی روح حلقوم تک پہنچتی ہے، یعنی حلق تک آجاتی ہے۔ وہ فرشتہ اس شخص کو پکار کر کہتا ہے: ” اے ابنِ آدم! تیرا طاقتور بدن کہاں گیا؟

آج یہ کتنا کمزور ہے۔ تیری فصیح زبان کہاں گئی؟ آج یہ کتنی خاموش ہے۔ تیرے گھر والے اور عزیزواقرباء کہاں گئے؟ تجھے کس نے تنہا کردیا؟ ” پھر جب اس کی روح قبض کر لی جاتی ہے اور کفن پہنا دیا جاتا ہے تو دوسرا فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے: ” اے ابنِ آدم! تو نے تنگدستی کے خوف سےجو مال واسباب جمع کیا تھا، وہ کہاں گیا؟ تو نے تباہی و بربادی سے بچنے کے لئےجوگھر بنائے تھے، وہ کہاں گئے؟ تو نے تنہائی سے بچنے کے لئے جو اُنس تیار کیا تھا، وہ کہاں گیا؟ ” پھر جب اس کا جنازہ اٹھایا جاتا ہے تو تیسرا فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے: ” اے ابنِ آدم! آج تو ایک ایسے لمبے سفر کی طرف رواں دواں ہے، جس سے لمبا سفر تو نے آج سے پہلے کبھی طے نہیں کیا، آج تو ایسی قوم سے ملے گا کہ آج سے پہلے کبھی اس قوم سے ملا نہیں، آج تجھے ایسے تنگ مکان میں داخل کیا جائے گا کہ آج سے پہلے کبھی ایسی تنگ جگہ میں داخل نہ ہوا تھا۔اگر تو اللہ عزوجل کی رضا پانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ تیری خوش بختی ہے اور اگر اللہ عزوجل تجھ سے ناراض ہوا تو یہ تیری بدبختی ہے۔ ”پھر جب اسے لحد میں اتار دیا جاتا ہے تو چوتھا فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے: ” اے ابنِ آدم! کل تک تو زمین کی پیٹھ پر چلتا تھا اور آج تو اس کے اندر لیٹا ہوا ہے، کل تک تو اس کی پیٹھ پر ہنستا تھا اور آج تو اس کے اندر رو رہا ہے، کل تک تو اس کی پیٹھ پر گناہ کرتا تھا اور آج تواس کے اندر نادم و شرمندہ ہے۔ ” پھر جب اس کی قبر پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور اس کے اہل و عیال، دوست و احباب اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو پانچواں فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے: ” اے ابنِ آدم! وہ لوگ تجھے دفن کر کے چلے گئے، اگر وہ تیرے پاس ٹہر بھی جاتے تو تجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، تو نے مال جمع کیا اور اسے غیروں کے لئے چھوڑ دیا، آج یا تو تجھے جنت کے عالی باغات کی طرف پھیرا جائے گا یا بھڑکنے والی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ ”


اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے!!!


••• *باسمہ تعالی* •••

*الجواب وبہ التوفیق:* 


  یہ بات امام ابن جوزیؒ نے اپنی کتاب " بحر الدموع " ( آنسوؤں کا سمندر ) میں ذکر کی ہے ؛ لیکن کوئی سند و حوالہ ذکر نہیں کیا ہے ؛ تاہم اس کتاب میں وارد روایات کا جائزہ لینے والے ادارے کی جانب سے حاشیہ میں درج ہے کہ یہ روایت کتب احادیث میں مل نہ سکی؛ لہذا یہ روایت بیان کرنے سے اجتناب رہے: 



🔘 *بحر الدموع* 🔘


قال النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إذا كان ابن آدم في سياق الموت، بعث الله إليه خمسة من الملائكة:

أما الملك الأول، فيأتيه وروحه في الحلقوم، فيناديه: يا ابن آدم، أين بدنك القوي؟ ما أضعفه  اليوم؟ أين لسانك الفصيح؟ ما أسكته اليوم؟ أين أهلك وقرابتك؟ ما أوحشك منهم اليوم!.

ويأتيه الملك الثاني إذا قبض روحه، ونشر عليه الكفن، فيناديه: يا ابن آدم، أين ما أعددت من  الغنى للفقر؟ أين ما أعددت من الخراب للعمران؟ أين ما أعددت من الأنس للوحشة؟.

ويأتيه الملك الثالث إذا حمل على الأعناق، فيناديه:  يا ابن آدم، اليوم تسافر سفرا بعيدا لم تسافر سفرا أبعد منه، اليوم تزور قوما لم تزورهم قبل هذا قط، اليوم تدخل مدخلا ضيقا لم تدخل أضيق منه، فطوبى لك إن فزت برضوان الله، وويل لك إن رجعت بسخط الله.

ويأتيه الملك الرابع إذا ألحد في قبره فيناديه: يا ابن  آدم، بالأمس كنت على ظهرها ماشيا، واليوم صرت في بطنها مضطجعا.ر بالأمس كنت على ظهرها ضاحكا، واليوم أصبحت في بطنها باكيا. بالأمس كنت على ظهرها مذنبا، واليوم أمسيت في بطنها نادما.

ويأتيه الملك الخامس إذا سويّ عليه التراب، وانصرف عنه الأهل والجيران والأصحاب، فيناديه:  يا ابن آدم، دفنوك وتركوك، ولو أقاموا عندك ما نفعوك. جمعت المال وتركته لغيرك. اليوم تصير إما لجنة عالية، أو إلى نار حامية".


★ المصدر: بحـر الدمـوع 

★ المحدث: الإمام ابن الجـوزيةؒ

★ الصفحة: 69

★ الطبع: دار الصحابة للتراث، طنطا، مصر.



♦️ *بحـر الدموع كي حقيقت* ♦️


امام ابن جوزیؒ خود ایک محدث ہیں اور بے اصل و من گھڑت روایات کا انہوں نے بخوبی تعاقب کیا ہے اور اس موضوع پر کتب بھی تالیف کی ہیں ؛ تاکہ واعظین اور قصہ گو لوگوں  کو معلوم پڑے کہ یہ روایات بے اصل ہیں ؛ تاہم خود امام ابن جوزی نے کچھ کتب وعظ و نصیحت کے موضوع پر تالیف کی ہیں اور وہاں حضرت امام نے سند یا مراجع کو جگہ نہیں دی ہے جس کی بنا پر ان کی اس طرح کی کتب میں وارد روایات محدثین کے یہاں بغیر تحقیق پڑھنا درست نہیں ؛ البتہ متکلم فیہا روایات کے علاوہ دیگر مضامین بہت عمدہ اور اثر انگیز ہیں 


⭕ *كتب حذر منها العلماء* ⭕


كتب ابن الجوزي الوعظية


أفاد شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله تعالى في الرد على البكري أن غير 

واحد من العلماء يروون في كتبهم أحاديث غرائب يًعلم أنها موضوعة ، وذكر من 

بينهم ابن الجوزي .


وعلى الرغم من أن ابن الجوزي قد ألف كتاب الموضوعات ليتجنبها القصاص 

والوعاظ ، فهو مع ذلك قد شحن كتبه الوعظية بالأحاديث الموضوعة ، والقصص 

الباطلة ، والأخبار التالفة ، ولا حول ولا قوة إلا بالله .


قال السخاوي : (وقد أكثر ابن الجوزي في تصانيفه الوعظية وما أشبهها من 

إيراد الموضوع وشبهه) .


★ المصدر: كتب حذر منها العلماء

★ المؤلف: أبوعبيدة مشهور بن حسن آل سلمان

★ المجلد: 2

★ الصفحة: 216

★ الرقم: 297

★ الطبع: دار الصميعي، الرياض، السعودية.



وﷲ تعالی اعلم

✍🏻... کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی*

17 فروری، 2024؁ء

Thursday, January 18, 2024

بی بی مریم اور موت کی تکلیف

 ▪️ *بی بی مریم اور موت کی تکلیف* ▪️


   حضرت مریم ( حضرت عیسی کی والدہ محترمہ) کی وفات کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام ان کی قبر پر گئے (چونکہ حضرت عیسی کو اللہ نے معجزہ عنایت کیا تہا کہ وہ مُردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کردیا کرتے تھے  ) چنانچہ انہوں نے اپنی والدہ کی قبر پر جاکر کہا: امی جان! اگر آپ چاہیں تو میں اللہ کے حکم سے آپ کو زندہ کرسکتا ہوں , اندر سے آواز آئی : بیٹا عیسی! دنیا اور اسکی زندگی بہت خوبصورت ہے ؛ مگر میں اگر اب زندہ ہوجاؤں تو ایک دن پھر مرنا ھے اور میں موت کی تکلیف اور اسکا کڑوا گھونٹ دوبارہ نہیں پی سکتی ۔



اس واقعے کی تحقیق درکار ہے!!!



   ••• *باسمہ تعالی* •••

*الجواب وبہ التوفیق:* 



  یہ واقعہ جہوٹ ھے ؛ کیونکہ حضرت مریم والدۂ حضرت عیسی کی وفات حضرت عیسی کے رفع آسمانی ( آسمان پر باحیات اٹھائے جانے کے ) بعد ہوئی ہے تو حضرت عیسی کیسے ان کی قبر پر جاسکتے ہیں ؟ 



⭕ *فائدہ* ⭕


  تاریخ ابن کثیر / جلد:2 صفحہ: 514 / مطبوعہ: دار هجر، جيزة، مصر.   


اور اسي طرح "تاريخ ابن عساكر، جلد: 70، صفحة: 121، مطبوعة: دار الفكر، بيروت، لبنان.


میں ایک واقعہ مذکور ہے: کہ سیدہ مریم کے سامنے ان کے بیٹے عیسی کے شبیہ یہوذا کو یہود نے سولی دی ؛ لیکن مریم کو لگا یہ ان کے ہی بیٹے ہیں اور پھر ان کا جسد خاکی دفنایا گیا اور وہ حضرت یحی کی والدہ کو لیکر قبر کی زیارت کو پہونچیں تو وہاں حضرت جبرئیل سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے حضرت مریم کو دلاسہ دیا: کہ یہ قبر آپ کے فرزند کی نہیں ؛ بلکہ اس شخص کی ھے جسکو اللہ نے عیسی کا ہم شکل کردیا تہا جو سولی دینے والی جماعت کا فرد تہا۔


اور اگر آپ کو عیسیؑ سے ملاقات کرنی ھے تو فلاں دن فلاں مقام ( غیطہ نامی مقام جہاں بکثرت درخت تھے)  پر آجانا وہ وہاں پہونچیں تو دونوں ماں بیٹوں  باہم ملاقات کی الخ



یہ واقعہ بھی بلحاظ سند محدثین کی عدالت میں معتبر اور لائق احتجاج نہیں۔



واللہ تعالی اعلم

✍🏻... کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی* 

18 جنوری،  2024؁ء

Friday, January 12, 2024

بائیں ہاتھ سے لو اور داہنے ہاتھ سے دو

 ▪️ *بایئں ہاتھ سے لو اور داہنے ہاتھ سے دو*▪️


  ایک بات عوام میں مشہور ہے کہ جب کسی کو کچھ دو تو الٹے ہاتھ ( بایئں) ہاتھ سے دو اور جب کسی سے وصول کرو تو داہنے (سیدھے ہاتھ ) سے کرو 

کیا اسکی شریعت میں کوئی بنیاد ہے؟



••• *باسمہ تعالٰی* •••

*الجواب وبہ التوفیق:* 



  یہ بات فقط اغلاط العوام میں سے ہی ہے ؛ شرعا اسکی کوئی بنیاد نہیں ؛ البتہ حدیث شریف میں تو یہ مذکور ہے کہ آقائے کریم حضور محمد مصطفی _صلی اللہ علیہ وسلم_ لینے اور دینے میں سیدھا یعنی داہنا ہاتھ استعمال فرماتے تھے:



❇️ *سنن النسائي* ❇️


عن عائشة قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب التيامن، يأخذ بيمينه، ويعطي بيمينه، ويحب التيمن في جميع أموره».


ترجمہ:  حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہا تعالی ارشاد فرماتی ہیں: کہ جناب نبی پاک علیہ الصلاہ والسلام کو تیامن یعنی اچھے کاموں کو داہنے ہاتھ سے کرنا پسند تہا آپ کا معمول تہا کہ آپ لین دین داہنے ہاتھ سے کیا کرتے تھے اور تمام ( اچھے ) امور میں داہنا ہاتھ یا داہنی طرف کو پسند فرماتے تھے۔



•  سنن النسائي

• الصفحة: 680

• الرقم: 5059

• الدرجة: صحيح

• الطبع: دار الحضارة للنشر والتوزيع، الرياض، السعودية.



💠 *سنن ابن ماجة* 💠


حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الهِقل بن زياد، حدثنا هشام بن حسان، عن يحي بن ابي كثير، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ليأكل أحدكم بيمينه، وليشرب بيمينه، وليأخذ بيمينه، وليعط بيمينه، فإن الشيطان يأكل بشماله، ويشرب بشماله، ويعطي بشماله، ويأخذ بشماله» .


※ *ترجمة* ※ 

حضور علیہ السلام کا فرمان ہے: تم سب داہنے ہاتھ سے ہی کھایا اور پیا کرو اور داہنے ہاتھ سے ہی لین کیا کرو ؛ کیونکہ شیطان الٹے ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے اور الٹے ہاتھ کو ہی لین دین میں استعمال کرتا ہے۔


٭ المصدر: سنن ابن ماجة

٭ المجلد: 4

٭ الصفحة: 406

٭ الرقم: 3266

٭ الدرجة: حسن لغيره

٭ الطبع: دار الرسالة، بيروت، لبنان.



والله تعالي اعلم

✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صؔديقي*

12 جنوري، 2024؁ء

Saturday, January 6, 2024

فاحشہ عورت کا حیا دار بن جانا

 ▪️ *فاحشہ عورت کا حیا دار بن جانا* ▪️


  ایک دفعہ آپ علیہ السلام کھانا تناول فرمارہے تھے ایک فاحشہ عورت گزری اس نے دیکھا تو بولی: مجھے نہیں کھلاؤگے؟ آقا نے جواب دیا: آؤ اور کھالو! وہ آئی اور فرمائش کی: کہ مجھے آپ کے منہ کا نوالہ چاہئے 

حضور نے عنایت فرمادیا اس نوالے کی برکت کہ وہ عورت مسلم ہوگئ اور تاعمر غلط کام سے باز رہی 



اس روایت کا حوالہ درکار ہے!!!


 ••• *باسمہ تعالی* •••

*الجواب وبہ التوفیق:*


  یہ روایت بسند ضعیف مجمع الزوائد اور المعجم الکبیر میں موجود ہے: نیز مذکورہ خاتون کے اسلام کی بابت کوئی ذکر نہیں ؛ البتہ اتنا مذکور ہے کہ وہ بے حیائی کے کاموں سے باز آگئ تہی؛ یہ روایت حضور علیہ السلام کی تواضع اور عاجزی و انکساری کے متعلق بیان ہوسکتی ہے!



❇️  *المعجم الکبیر* ❇️



حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي،  ثنا أبو غسان مالك ابن إسماعيل، ثنا عبد السلام بن حرب، عن أبي المهلب مطرح بن يزيد، عن عبيد الله بن زحر، عن علي بن يزيد عن القاسم، عن أبي أمامة، رضي الله عنه قال: كانت امرأة ترافث الرجال، وكانت بذيئة، فمرت بالنبي صلى الله عليه وسلم، وهو يأكل ثريدا على طريان، قالت: أنظروا إليه يجلس كما يجلس العبد، ويأكل كما يأكل العبد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وأي عبد أعبد مني؟ قالت: ويأكل ولا يطعمني، قال:  فكلي قالت: ناولني يدك! فناولها، قالت: أطعمني مما في فيك، فأعطاها، فأكلت، فغلبها الحياء، فلم ترافث أحدا.



٭ المصدر: المعجم الكبير

٭ المحدث: الطبراني

٭ المجلد: 8

٭ الرقم: 7812 / 7903

٭ الصفحة: 236 / 275

٭ الدرجة: ضعيف، فيه علي بن يزيد الهاني

٭ الطبع: مكتبة ابن تيمية، القاهرة، مصر.


💠 *مجمع الزوائد* 💠


 وعن أبي أمامة قال : كانت امرأة ترافث الرجال ، وكانت بذيئة ، فمرت بالنبي - صلى الله عليه وسلم - وهو يأكل ثريدا على طربال ، فقالت : انظروا إليه يجلس كما يجلس العبد ، ويأكل كما يأكل العبد ! فقال النبي - صلى الله عليه وسلم - : " وأي عبد أعبد مني ؟ " . قالت : ويأكل ولا يطعمني . قال : " فكلي " . قالت : ناولني بيدك . فناولها ، فقالت : أطعمني مما في فيك . فأعطاها فأكلت ، فغلبها الحياء فلم ترافث أحدا حتى ماتت . 


رواه الطبراني ، وإسناده ضعيف .


٭ المصدر: مجمع الزوائد

٭ المحدث: الهيثمي

٭ المجلد: 17

٭ الرقم: 14240

٭ الصفحة: 412

٭ الطبع: دار المنهاج، جدة، السعودية.


والله تعالي اعلم

✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صؔديقي* 

6جنوري،؁ 2024ء

Friday, July 28, 2023

اہل جنت کی تجارت

 


▪️ *اہلِ جنت کی تجارت* ▪️


  ایک روایت ہے کہ اگر اللہ تعالی جنت میں اہلِ جنت کو تجارت کی اجازت دیں تو اہل جنت کپڑے اور عطر کی تجارت کو پسند کرتے!!


  اس روایت کا حوالہ و تحقیق مطلوب ہے!!!



••• *باسمہ تعالی*•••

*الجواب وبہ التوفیق:* 


  یہ روایت کتب حدیث میں موجود ہے ؛ البتہ روایتی لحاظ سے ضعیف ہے ؛ لیکن کپڑے اور عطر کی تجارت کی فضیلت میں بیان ہوسکتی ہے:


☪️ *الروض الدانی* ☪️


  حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَيُّوبَ السَّكُونِيُّ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ  ، قَالَ : قَالَ  رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَذِنَ اللَّهُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ فِي التِّجَارَةِ لاتَّجَرُوا فِي الْبَزِّ وَالْعِطْرِ " ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ نَافِعٍ ، إِلا عَطَّافٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَيُّوبَ .


ترجمة:  اگر اللہ تعالی اہل جنت کو تجارت کی اجازت دیتے تو وہ کپڑے اور عطر کی تجارت کرتے ۔


٭ المصدر: الروض الداني إلي المعجم الصغير للطبراني 

٭ المجلد: 2

٭ الرقم: 699

٭ الصفحة: 17

٭ الطبع: المكتب الإسلامي، بيروت، لبنان.


❇️ *مجمع الزوائد* ❇️



عَنِ ابْنِ عُمَرَ  ، قَالَ : قَالَ  رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَذِنَ اللَّهُ فِي التِّجَارَةِ لِأَهْلِ الجَنَّةِ، لاتَّجَرُوا فِي الْبَزِّ وَالْعِطْرِ "


رواه الطبراني في الصغير، وفيه: عبد الرحمن بن ايوب السكوني، وهو ضعيف.


٭ المصدر: مجمع الزوائد

٭ المحدث: الإمام الهيثمي

٭ المجلد: 22

٭ الصفحة: 342

٭ الرقم: 18682

٭ الطبع: دار المنهاج، جدة، السعودية.


والله تعالي اعلم

✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صؔديقي*

28 جولائی، ؁2023ء

Monday, July 24, 2023

متبرک کاغذ اٹھانے کی فضیلت

 



💚 *متبرک کاغذ اٹھانے کی فضیلت* 💚


حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ کا فرمان ہے: 

جو کوئی زمین سے ایسا کاغذ اٹھائے، جس میں الله عزوجل کے ناموں میں سے کوئی نام ہو، تو الله عزوجل اس ( اٹھانے والے ) کا نام روحوں کے سب سے اعلی مقام علیین میں بلند فرمائے گا، اور اس کے والدین کے عذاب میں تخفیف ( یعنی کمی ) کرے گا، اگرچہ اس کے والدین کافر ہی کیوں نہ ہوں ـ



••• *باسمہ تعالٰی*•••

*الجواب وبہ التوفیق:* 


   یہ روایت امام ہیثمیؒ نے " مجمع الزوائد" میں ذکر کی ہے ؛ لیکن اسکی سند کو معتبر نہیں مانا ہے:


⏹️ *مجمع الزوائد* ⏹️


  

وعن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من كتاب  يلقى بمضيعة من الأرض، إلا بعث الله إليه ملائكة يحفونه بأجنحتهم ويقدسونه؛ حتى يبعث الله إليه وليا من أوليائه يرفعه من الأرض،


ومن رفع كتابا فيه اسم من أسماء الله، رفع الله اسمه في عليين، وخفف عن والديه العذاب؛ وإن كانا كافرين. 


(رواه الطبراني في الصغير، وفيه: الحسين بن عبد الغفار "،وهو متروك.


٭ المصدر: مجمع الزوائد

٭ المحدث: الإمام نور الدين الهيثميؒ

٭ المجلد: 9

٭ الصفحة: 447

٭ الرقم: 6910

٭ الطبع: دار المنهاج، جدة، السعودية.


 

❇️ *اللآلي المصنوعة* ❇️


  امام سيوطيؒ نے بهي اسكي سند پر اعتماد نهيں كيا هے:



※ وحديث علي أخرجه المؤلف في "الواهيات "قال: أنبأنا محمد بن ناصر، أنبأنا المبارك بن عبد الجبار، أنبأنا عبد العزيز بن الأزجي، حدثنا المفيد، قال: حدثنا عن سليمان بن مهران، عن حفص بن غياث، عن ابيه، عن جده، عن علي، مرفوعا: من كتاب يلقي بمضيعة من الأرض فيه اسم من أسماء الله، إلا بعث سبعين ألف ملك يحفظونه بأجنحتهم، ويقدسونه؛ حتي يبعث الله إليه وليا من أولياءه، يرفعه من الأرض،

ومن رفع من الأرض كتابا، فيه اسم من أسماء الله، رفعه الله في عليين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين...


قال المؤلف: "المفيد " ليس بشيء.


٭ المصدر: اللآلي المصنوعة

٭ المحدث: الإمام السيوطيؒ

٭ المجلد: 1

٭ الصفحة: 202

٭ الطبع: دار المعرفة، بيروت لبنان.



والله تعالٰي أعلم

✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صؔديقي*

24جولائی، ؁2023ء

Monday, June 5, 2023

شیطان کے بیٹھنے کی جگہ

••• *شیطان کے بیٹھنے کی جگہ* ••• 

 حضور نبیٔ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ! اپنے ناخنوں کو کاٹو ؛ کیونکہ بڑھے ہوئے ناخنوں پر شیطان بیٹھتا ہے۔ ( بحوالہ احیاء العلوم )
 اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے!

 ••• *باسمہ تعالٰی*
••• *الجواب وبہ التوفیق: 

جی یہ روایت امام غزالی نے احیاء العلوم میں نقل کی ہے : قال رسول الله ﷺ: يا أبا هريرة! قلّمْ أظفارك! فإن الشيطان يقعد علي ما طال منها. 

 ٭ المصدر: إحياء العلوم 
 ٭ المؤلف: الإمام الغزالي 
٭ المجلد: 1 
٭ الصفحة: 166 
٭ الطبع: دار ابن حزم، بيروت، لبنان. 

 💟 *المغني عن حمل الإسفار* 💟 

 علامة زين الدين عراقي نے اس روايت كي تخريج كي هے،اور لكها هے: كه يه ضعيف هے: 

 حديث: يا أبا هريرة! قلّمْ أظفارك! فإن الشيطان يقعد علي ما طال منها. الخطيب في ((الجامع)) بإسناد ضعيف من حديث جابر، قصوا أظافيركم، فإن الشيطان يجري ما بين اللحم والظفر. 

 ٭ المصدر: المغني عن حمل الإسفار 
٭ المحدث: العلامة زين الدين العراقي 
٭ الصفحة: 90 
٭ الرقم: 342 
٭ الطبع: مكتبة دار طبرية، رياض، السعودية. 

 💠 *الجامع لاخلاق الراوي* 💠 

 أنا أبو بكر أحمد بن محمد بن إبراهيم الأشناني بنيسابور ، نا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم ، نا العباس بن الوليد ، أنا محمد بن شعيب ، أنا عيسى بن عبد الله ، عن عثمان بن عبد الرحمن ، أنه أخبره عن محمد بن المنكدر ، عن جابر بن عبد الله ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال : " خللوا لحاكم ، وقصوا أظافيركم ، فإن الشيطان يجري ما بين اللحم والظفر " . 

 ٭ المصدر: الجامع لأخلاق الراوي 
٭ المحدث: الخطيب 
٭ المجلد: 1 
٭ الصفحة: 589 
٭ الرقم: 868 
٭ الطبع: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان. 

 🔆 *السلسلة الضعيفة* 🔆 

 علامة ناصر الدين الباني نے اس روايت كي تخريج كي، اور اسكي سند ميں راوي "عثمان بن عبد الرحمن " كے متعلق ائمه جرح كے اقوال نقل كيے هيں، جنكا حاصل يه هے كه مذكوره روايت قابل بيان نهيں: 

 ★ قلت : و هذا موضوع ، آفته عثمان بن عبد الرحمن ، و هو الزهري الوقاصي ، روى ابن عساكر ( 12 / 239 / ) عن صالح بن محمد الحافظ أنه قال : " كان يضع الحديث " . و قال ابن حبان : " كان يروي عن الثقات الموضوعات " . و عيسى بن عبدالله ، لم يتبين لي الآن من هو ؟ و الحديث أورده السيوطي في " الجامع الصغير " من رواية الخطيب في " الجامع " و ابن 
عساكر عن جابر . و بيض له المناوي فلم يتكلم عليه بشيء !!)

 ٭ المصدر: السلسلة الضعيفة 
٭ المحدث: العلامة ناصر الدين الالباني 
٭ المجلد: 4 
٭ الصفحة: 197 
٭ الرقم: 1705 
٭ الطبع: مكتبة المعارف، الرياض، السعودية.

 واللّٰه تعالٰي أعلم 
✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*
 5/6/2023

Monday, May 29, 2023

سفید کپڑا تسبیح کرتا ہے

▪️ *سفید کپڑا تسبیح کرتا ہے* ▪️

 ایسا بیان کیا جاتا ہے کہ سفید کپڑا اللہ کی تسبیح کرتا ہے ؛ لیکن جب کپڑے پر میل آنا شروع ہوجائے تو یہ کپڑا ذکر کرنا بند کردیتا ہے ۔

 اس روایت کا حوالہ اور تحقیق درکار ہے!!! 

 ••• *باسمہ تعالی*
 ••• *الجواب وبہ التوفیق:* 

 بعینہ ان الفاظ میں روایت کہ جس میں سفید کا لفظ ہو ہم کو تلاش کے بعد بھی نہ مل سکی ؛ البتہ مطلقا کپڑے کے متعلق کمزور ترین روایت مل سکی ہے کہ جو قابل احتجتاج نہیں ؛ ہاں نصوص سے اتنا ثبوت ملتا ھے کہ ہر شیئ اللہ کی حمد و ثنا تسبیح و تقدیس کرتی ہے ؛ لیکن رنگ یا کیفیت کی قید نہیں ھے: 

 ⏹️ *العلل المتناهية* ⏹️ 

 (حديث في غسل الثوب) أنا القزاز، انا ابو بكر أحمد بن علي، قال: اخبرنا محمد بن احمد ابن محمد بن الابنوسي، قال: نا عمر بن ابراهيم الكتاني، قال: نا ابراهيم بن احمد القرميسيني قال: نا ابراهيم بن الحسين الدمشقي، قال: نا شعيب بن احمد البغدادي، قال: حدثني جدي عبد الحميد بن صالح، عن برد عن مكحول، عن الاصبغ بن نباته، عن الحسن بن علي، عن عائشة، قالت: دخل علي رسول الله، فقال لي يا عائشة! اغسلي هذين البردين! قالت: فقلت: بابي وامي يا رسول الله! بالأمس غسلتهما، فقال لي: اما علمت؟ ان الثوب يسبح، فإذا اتسخ، انقطع تسبيحه . قال الخطيب: هذا حديث منكر، قال المؤلف: قلت : وكأنه اتهم به شعيبا على ان الاصبغ ليس بشيء، قال يحيى بن معين: لا يساوي الاصبغ شيئا. 

 ٭ المصدر: العلل المتناهية 
٭ المحدث: الإمام ابن الجوزية 
٭ الصفحة: 684 
٭ الجزء: 2 
٭ الرقم: 1138 
٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان. 

 ✴️ *الدر المنثور* ✴️ 

 الدر المنثور ميں سيوطي نے "خطيب بغدادي كي تاريخ "كے حوالے سے يه روايت ذكر كي هے:

 وأخْرَجَ الخَطِيبُ في“تارِيخِهِ”عَنْ عائِشَةَ قالَتْ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقالَ لِي:“يا عائِشَةُ، اِغْسِلِي هَذَيْنِ البُرْدَيْنِ”. فَقُلْتُ: يا رَسُولَ اللَّهِ، بِالأمْسِ غَسَلْتُهُما. فَقالَ لِي:“أما عَلِمْتِ أنَّ الثَّوْبَ يُسَبِّحُ، فَإذا اِتَّسَخَ اِنْقَطَعَ تَسْبِيحُهُ"» . 

 ٭ المصدر: الدر المنثور 
٭ المجلد: 5 
٭ الصفحة: 295 
٭ الطبع: دار الفكر، بيروت، لبنان.

 🔰 *الفوائد المجموعة* 🔰

 يا عائِشَةُ، اِغْسِلِي هَذَيْنِ البُرْدَيْنِ. فَقُلْتُ:بِأَبِيْ وَأُمِّيْ يا رَسُولَ اللَّهِ، بِالأمْسِ غَسَلْتُهُما. فَقالَ :أما عَلِمْتِ أنَّ الثَّوْبَ يُسَبِّحُ، فَإذا اِتَّسَخَ اِنْقَطَعَ تَسْبِيحُهُ"» . 

 ٭ المصدر: الفوائد المجموعة 
 ٭ المحدث: الإمام الشوكاني 
٭ الصفحة: 193 
٭ الرقم: 17 
٭ الطبع دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان. 

 💟 *روايت كا درجة* 💟

 اس روايت كي سند ميں "أصبغ بن نباتة" نامي راوي هيں، جن كے متعلق امام ذهبي نے ائمه كي جرح لكهي هيں: كه يه راوي قابل احتجاج نهيں: 

 🔅 *ميزان الاعتدال* 🔅

 أصبغ بن نباتة [ق] الحنظلي المجاشعي الكوفي. عن علي وعمار. وعنه ثابت البناني، والأجلح الكندي، وفطر بن خليفة، وطائفة. قال أبو بكر بن عياش: كذاب. وقال ابن معين: ليس بثقة. وقال - مرة: ليس بشئ. وقال النسائي وابن حبان: متروك. وقال ابن عدي: بين الضعف. وقال أبو حاتم: لين الحديث. وقال العقيلي: كان يقول بالرجعة. وقال ابن حبان: فتن بحب على، فأتى بالطامات، فاستحق من أجلها الترك. 

 ٭ المصدر: ميزان الاعتدال 
 ٭ المحدث: الإمام الذهبي 
٭ المجلد: 1 
٭ الصفحة: 271 
٭ الرقم: 1014 
٭ الطبع: دار المعرفة، بيروت، لبنان.

 🔆 *اللباب في علوم الكتاب* 🔆

 اللباب فی علوم الکتاب المعروف بـ تفسير ابن عادل میں حضرت مقدام بن معدی کرب کے حوالے سے روایت مذکور ہے کہ کپڑا جب تک نیا ہو تب تک تسبیح کرتا ہے اور جب میلا ہوجاتا ہے تو تسبیح چھوڑ دیتا ہے *( سفید رنگ کا ذکر اس میں بھی نہیں ہے)* ؛ لیکن سند اور درجہ سند منقول نہیں 

: "وعن المقدام بن معدي كرب، قال:إنَّ التُّرابَ يُسَبِّح مَا لمْ يبْتَلَّ، فإذا ابتلَّ ترك التَّسبيحَ، وإنَّ الخرزة تُسَبِّحُ، مَا لَمْ تُرفَعْ من موضعها، فإذا رفعتْ تركت التَّسبيح، وإنَّ الورقة تُسبِّح ما دامت على الشَّجرة، فإذا سقطت، تركت التَّسبيح، وإنَّ الماء يسبِّح ما دام جارياً، فإذا أركد، ترك التَّسبيح، *وإنَّ الثوب يسبِّح ما دام جديداً، فإذا وسخ، ترك.*" 

 ٭ المصدر: اللباب في علوم الكتاب 
٭ المفسير: ابن عادل الدمشقي 
٭ المجلد: 12 
٭ الصفحة: 296 
٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان. 

 وﷲ تعالی اعلم
 ✍🏻... کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

Sunday, March 26, 2023

روزہ میں قیلولہ

▪️ *روزہ میں قیلولہ* ▪️ 

 ایک روایت حضرت علی کی جانب نسبت کرکے مشہور کی جاتی ہے کہ روزے کی حالت میں دوپہر کو قیلولہ کرلیا کرو ؛ اس لیے کہ اللہ تعالی خواب میں روزہ دار کو کھلادیا کرتا ہے ۔ اس کی تحقیق درکار ھے!!! 

 ••• *باسمہ تعالی*•••
 *الجواب وبہ التوفیق:*

 یہ روایت نامعلوم راویوں کے حوالے سے شیعی کتب میں ھے ؛ لیکن فقط شیعی کتاب میں ہونا اور مجہول و نامعلوم روات کے حوالے سے ہونا اس بات کو مشکوک بنارہا ھے ؛ لہذا اس کی نسبت حضرت علی کی جانب نہ کی جائے: 

 ✴️ *الكافي* ✴️

 عدة من أصحابنا، عن سهل بن زياد، عن منصور بن العباس، عن عمرو بن سعيد، عن الحسن بن صدقة قال: قال أبو الحسن (عليه السلام): قيلوا فإن الله يطعم الصائم، ويسقيه في منامه.  


٭ المصدر: الكافي 
٭ المؤلف: أبوجعفر الكليني 
 ٭ المجلد: 4 
٭ الصفحة: 65 
٭ الطبع: دار الكتب الاسلامية، تهران، إيران.

 واللٰهُ تعاليٰ أعلم 
✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*
 26 مارچ، 2023

Friday, March 17, 2023

بنی اسرائیل کے نوجوان کا قصہ

▪️ *بنی اسرائیل کے نوجوان کا قصہ* ▪️

 بنی اسرائیل میں ایک نوجوان تھا جو کہ بڑا نافرمان تھا۔ اتنا کہ شہر والوں نے بیزار ہو کر اسے شہر بدر کر دیا۔ چلتے چلتے وہ ایک ویرانے میں جا پہنچا ۔ حالات کی تنگی اس پر آ پڑی ۔ کھانا پینا ختم ہوا ۔ پھر بیماری نے آ لیا ۔ یہاں تک کہ مرض الموت میں گرفتار ہوا۔ ایسے میں اس نے اللہ کو پکارا: اے وہ ذات جو معاف کرے تو گھٹتا نہیں اور عذاب دے تو بڑھتا نہیں۔ اے اللہ ! اگر مجھے معاف کرنے سے تیرے ملک میں کوئی کمی آتی ہو یا مجھے عذاب دینے سے تیری سلطنت میں اضافہ ہو تو پھر میرا کوئی سوال نہیں۔ اے میرے رب ساری عمر تیری نافرمانی میں کٹ گئی آج تک کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ ۔۔اے میرے رب میرا آج کوئی سنگی ساتھی نہیں رہا، میرا آج تیرے سوا کوئی سہارا نہیں رہا۔سب ناتے رشتے ٹوٹ گئے۔ آج میرے جسم نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ تُو مجھے اکیلا نہ چھوڑ۔۔ تو مجھے معاف فرما دے۔۔اے میرے رب مجھے معاف فرما دےکہ میں نے تیرے بارے میں سنا ہے کہ تو غفور الرحیم ہے۔ اسی حال میں اس کی جان نکل گئی۔ موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی : اے موسیٰ! میرا ایک دوست فلاں جنگل میں مر گیا ہے اس کےغسل کا انتظام کرو۔اس کا جنازہ پڑھواور لوگوں میں اعلان کردو کہ آج جو شخص اس کا جنازہ پڑھے گا اس کی بخشش کر دی جائے گی۔ 

 اس روایت کی تحقیق و تخریج فرمادیں!!!


 ••• *باسمہ تعالی*•••
 *الجواب وبہ التوفیق:*

 یہ واقعہ بغیر سند کے حضرت وھب بن منبہ سے مروی ھے ؛ لہذا اسکو حدیث نہیں مانا جایئگا:

 ☪️ *كتاب التوابين* ☪️

 وعن وهب بن منبه ، قال : " كان في زمن موسى عليه السلام شاب عات مسرف على نفسه ، فأخرجوه من بينهم لسوء فعله ، فحضرته الوفاة في خربة على باب البلد ، فأوحى الله تعالى إلى موسى عليه السلام : إن وليا من أوليائي حضره الموت ، فاحضره وغسله ، وصل عليه ، وقل لمن كثر عصيانه يحضر جنازته لأغفر لهم ، واحمله إلي لأكرم مثواه ، فنادى موسى في بني إسرائيل ، فكثر الناس ، فلما حضروه عرفوه ، فقال : يا نبي الله ، هذا هو الفاسق الذي أخرجناه ، فتعجب موسى من ذلك ، فأوحى الله إليه : صدقوا وهم شهدائي ، إلا أنه لما حضرته الوفاة في هذه الخربة نظر يمنة ويسرة ، فلم ير حميما ولا قريبا ، ورأى نفسه غريبة وحيدة ذليلة ، فرفع بصره إلي ، وقال : إلهي عبد من عبادك ، غريب في بلادك ، لو علمت أن عذابي يزيد في ملكك ، وعفوك عني ينقص من ملكك لما سألتك المغفرة ، وليس لي ملجأ ولا رجاء إلا أنت ، وقد سمعت فيما أنزلت أنك قلت : إني أنا الغفور الرحيم ، فلا تخيب رجائي. يا موسى ، أفكان يحسن بي أن أرده وهو غريب على هذه الصفة ، وقد توسل إلي بي ، وتضرع بين يدي ، وعزتي لو سألني في المذنبين من أهل الأرض جميعا لوهبتهم له لذل غربته. يا موسى ، أنا كهف الغريب ، وحبيبه ، وطبيبه ، وراحمه " 

 ٭ المصدر: كتاب التوابين 
٭ المحدث: الإمام ابن قدامة المقدسي 
٭ الصفحة: 82 
٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.

 ✴️ *آداب الدعاء* ✴️ 

 اسی طرح یہ واقعہ ابن عبد الہادی نے "آداب الدعاء" میں نقل کیا ھے: 

 • المصدر: آداب الدعاء 
 • المؤلف: الإمام يوسف بن حسن بن عبد الهادي المقدسي الحنبلي 
• الصفحة: 172 
• الطبع: دار النوادر، بيروت، لبنان.


 🔅 *واقعه كي حقيقت* 🔅

 بظاہر یہ واقعہ اسرائیلی روایات میں سے ہے، حدیث کی کتابوں میں اس کا کہیں ثبوت ہمیں نہیں ملا؛ *لہذا مذکورہ واقعے کو اسرائیلی روایت کہہ کر بیان کیاجا سکتا ہے*، لیکن حدیث کہہ کر اس کو بیان نہیں کرسکتے۔

 اور اسرائیلی روایات بیان کرنے کے بارے میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اصول یوں بیان فرمایا ہے: ’’ بنی اسرائیل کی روایات صرف مسئلہ کی مضبوطی اور اس کی گواہی کے لیے لائی جاتی ہیں خود ان سے مسائل ثابت نہیں ہو سکتے، روایاتِ بنی اسرائیل تین قسم کی ہیں:

 1- جس کی تصدیق خود ہمارے ہاں موجود ہے، یعنی قرآن کی کسی آیت یا حدیث کے مطابق بنی اسرائیل کی کسی کتاب میں بھی کوئی روایت مل جائے، اس کی صحت میں تو کوئی کلام نہیں۔

 2- جس کی تکذیب خود ہمارے ہاں موجود ہو، یعنی کسی آیت یا حدیث کے خلاف ہو، اس کے غلط ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

 3- جس کی ہم نہ تصدیق کرسکتے ہیں نہ تکذیب، اس لیے کہ ہمارے ہاں نہ تو کوئی ایسی روایت ہے، جس کی مطابقت کی وجہ سے ہم اسے صحیح کہہ سکیں، نہ قرآنِ مجید کی کسی آیت یا کسی حدیث کے مخالف ہو کہ اس بنا پر ہم اسے غلط کہہ سکیں۔ 

 ♠ لہذا یہ تیسری قسم کی روایات وہ ہیں جن کے بارے میں ہمارے لیے یہ حکم ہے کہ خاموش رہیں، نہ انہیں غلط کہیں نہ صحیح سمجھیں، البتہ انہیں ذکر کرنا جائز ہے؛( لیکن یہ صراحت ہو کہ یہ از قبیل اسرائیلیات ہے.)

 ★ "ولكن هذه الأحاديث الإسرائيلية تذكر للاستشهاد، لا للاعتضاد، فإنها على ثلاثة أقسام:
 ① أحدها: ما علمنا صحته مما بأيدينا مما يشهد له بالصدق، فذاك صحيح.  
② والثاني: ما علمنا كذبه بما عندنا مما يخالفه. 
 ③ والثالث: ما هو مسكوت عنه لا من هذا القبيل ولا من هذا القبيل، فلانؤمن به ولانكذبه، وتجوز حكايته لما تقدم". 

 ∅ المصدر: تفسير ابن كثير 
∅ المحدث: الإمام ابن كثير الدمشقي 
∅ المجلد: 1 
∅ الصفحة: 9 
∅ الطبع: دار طيبة، رياض، السعودية. 

 والله تعالي أعلم 
✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*

 17، مارچ، 2023

Sunday, November 27, 2022

حضرت عمر کی اہلیہ ان پر حاوی تہیں؟

▪️ *حضرت عمر کی اہلیہ ان پر حاوی تہیں؟* ▪️

 ایک واقعہ خطباء اور واعظین معاشرت اور گھریلو مسائل کے متعلق بہت بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص امیرُالمُؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر حاضرہوتا ہے۔ جب آپ کے دروازے پر پہنچا تو ان کی زوجہ کو ناراضی کے عالم میں گفتگو کرتے سنا۔ وہ شخص یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ میں تو اپنی بیوی کی شکایت کرنے کے ارادے سے ان کے پاس آیا تھا(مگر)یہی معاملہ تو خود ان کے ساتھ بھی ہے(لہٰذا یہ کیونکر میرا مسئلہ حل کر پائیں گے؟ )۔ امیرُالمؤمنین حضرت عمر نے اسے بلوایا اور آنے کا مقصد دریافت فرمایا۔ اس نے عرض کی کہ میں تو آپ کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت کرنے کے ارادے سے آیا تھا، تو جب میں نے(آپ کے بارے میں)آپ کی زوجۂ محترمہ کی گفتگو سُنی تو(مایوس ہوکر)واپس لوٹ گیا۔ امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا فاروق نے اس سے ارشاد فرمایا: میری بیوی کے مجھ پر چند حقوق(Rights)ہیں(یعنی مجھے اس سے چند فوائد حاصل ہوتے ہیں) جن کی بنا پر میں اس سے درگزر کرتا ہوں: (1)وہ میرے لئے جہنم سے آڑ ہے، اس کی وجہ سے میرا دل حرام سے بچا رہتا ہے(یعنی میں اس کے ذریعے خواہشِ نفس کی تسکین کرلیتا ہوں اور یوں حرام کام سے بچ جاتا ہوں)۔ (2)جب میں اپنے گھر سے نکل جاتا ہوں تووہ میری خزانچی اور میرے مال کی نگہبان بن جاتی ہے۔ (3)میری دھوبن ہے، میرےکپڑے دھوتی ہے۔ (4) میرے بچے کی پرورش کرتی ہے اور(5)میرے لئے روٹیاں اورکھانا پکاتی ہے۔ یہ سن کروہ شخص بولا کہ بے شک مجھے بھی اپنی بیوی سے وہی فائدے حاصل ہوتےہیں جو آپ کو حاصل ہیں مگر میں نےاس کے ساتھ کبھی درگزر سے کام نہ لیا ؛لہٰذا اب میں بھی درگزر سے کام لوں گا۔ 

 كيا يه واقعه معتبر هے؟!

 ••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق:* 

یہ واقعہ متعدد کتب میں منقول ہے ؛ لیکن سب میں بغیر سند مذکور ھے اور واقعے کا بیان محض صیغۂ تمریض یعنی غیر یقینی انداز سے ھے ؛ لہذا اس واقعے کی بابت یقینی ہونا معلوم نہیں ہوتا ھے: 

 ⏹️ *تنبيه الغافلين* ⏹️

 ذُكِرَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إلَى عُمَرَ يَشْكُو إلَيْهِ زَوْجَتَهُ، فَلَمَّا بلغَ بَابَه،سَمِعَ امْرَأَتَهُ أُمَّ كُلْثُومٍ تَطَاوَلَتْ عَلَيْهِ، فَقَال الرَّجُلُ : إني أردت أن أشكو إليه زوجتي،، وبه من البلوي مثل ما بي، فرجع، فدعاه عمر، فسأله، فقال: إني أردت أن أشكو إليك من زوجتي، فَلما سَمِعْتُ من زَوْجَتِكَ ما سمعتُ،رَجَعْتُ، فَقَالَ عُمَرُ : إنِّي أتجاوز عنها لِحُقُوقٍ لَهَا عَلَيَّ، أولها: إنها ستر بيني وبين النار فيسكن بها قلبي عن الحرام، والثاني: إنها خازنة لي إذا خرجت من منزلي، حافظة لي، والثالث: إنها قصارة لي، تغسل ثيابي، والرابع: إنها ظئر لولدي، والخامس: إنها خبازة، وطباخة لي، فقال الرجل: إن لي مثل ما لك، فما تجاوزت عنها، فأتجاوز عنها.

 ٭ المصدر: تنبيه الغافلين 
٭ المؤلف: الفقيه أبو الليث السمر قندي 
 ٭ الصفحة: 517 
٭ الطبع: دار ابن كثير، دمشق، الشام.

 والله تعالي أعلم
 ✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*
 27 / 11 / 2022

Tuesday, November 22, 2022

علماء کیخلاف زبان درازی کرنا

▪️ *علماء کیخلاف زبان درازی کرنا* ▪️

 علمائے حق کی فضیلت میں ایک بات بیان ہوتی ھے کہ جو شخص علمائے حق کیخلاف زبان درازی کرتا ھے , ان پر ناحق الزامات لگاتا ھے , وہ ایسا ھے جیسے کتے بھونکا کرتے ہیں یعنی علماء کیخلاف اسکی بکواس کو کتوں کے بھونکنے کی طرح قرار دیا گیا کیا یہ روایت معتبر ھے؟

 ••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق:*

 بہتان تراشی , الزامات لگانا , یا ناروا بات کہنا تو ہر کسی کے متعلق ہی منع ھے ؛ البتہ علمائے دین کیخلاف اس طرح کی زبان استعمال کرنے کو واقعتا حدیث طیبہ میں کتوں کے بھونکنے کی طرح قرار دیا گیا ھے :  

💟 *مسند احمد* ☪️

 حدثنا يحيٰ بن حماد، حدثنا أبوعوانة، عن عطاء بن السّائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو، أنه حدث عن النبي ﷺ، قال: ضَافَ ضَيْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وفي دَارِهِ كَلْبَةٌ مُجِحّ ، فَقَالَتِ الْكَلْبَةُ: "وَاللهِ لَا أَنْبَحُ ضَيْفَ أَهْلِي"، قَالَ: فَعَوَى جِرَاؤُهَا فِي بَطْنِهَا، قَالَ: قِيلَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: فَأَوْحَى اللهُ -عز وجل- إِلَى رَجُل مِنْهُمْ: "هَذَا مَثَلُ أُمَّة تكونُ مِنْ بَعْدِكُمْ يَقْهَرُ سُفَهَاؤُهَا أَحْلَامَهَا". 

 ٭ المصدر: مسند أحمد 
 ٭ المجلد: 11 
٭ الصفحة: 158 
٭ الرقم: 6588 
٭ الدرجة: ضعيف  
٭ الطبع: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان.

 والله تعالي أعلم

 ✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صدیقی*

Wednesday, August 17, 2022

سند غلامی اہل بیت کا نوشتہ

▪️ *سندِ غلامیٔ اہلِ بیت کا نوشتہ* ▪️

 ایک واقعہ بہت زیادہ واعظین اور خطباء دھڑلے سے بیان کرتے ہیں کہ : ایک مرتبہ حسنین کریمین اور فاروق اعظم کے بیٹے بچپن میں ساتھ مل کر کھیل رہے تھے کہ اچانک کسی بات کو لے کر لڑائی ہو جاتی ہے! باتوں ہی باتوں میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے فاروق اعظم کے شہزادے سے فرمایا کہ "تو میرا غلام اور تیرا باپ میرے نانا کا غلام"- یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے کو برا لگا اور وہ اس بات کی شکایت کرنے کے لیے اپنے والد کے پاس چلے گئے؛ والد صاحب سے کہا کہ حسنین مجھے ایسا ایسا کہتے ہیں- حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ جاؤ اور ان سے یہ بات لکھوا کر لے آؤ؛ چناں چہ ابن عمر نے حسنین کریمین سے کہا کہ آپ نے جو کہا ہے اسے کاغذ پر لکھ دیجیے- امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے وہی بات لکھ بھی دی- جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھوں میں وہ کاغذ دیا گیا تو آپ اسے چومنے لگے اور بہت خوش ہوئے؛ پھر اپنے بیٹے سے فرمایا: بیٹا اب مجھے میدان حشر کا کوئی خوف نہیں کیوں کہ مجھے آل رسول نے رسول اللہ کا غلام لکھ دیا ہے- اس چِٹّھی کو میرے کفن میں رکھ دینا تاکہ منکر نکیر مجھ سے سوالات نہ کریں- پھر آپ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے حسنین کریمین کے فضائل بتائے اور ان کی غلامی کرنے کا حکم دیا- اس واقعہ کی سند و حوالہ مطلوب ھے!!!  

••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق:*

 یہ واقعہ مختلف الفاظ میں بیان ہوتا رہتا ھے ؛ البتہ اس کی کوئی معتبر سند یا معتبر حوالہ تلاش کے بعد بھی دستیاب نہ ہوسکا ؛ لہذا اسکو بیان کرنے گریز کرنا ضروری ھے ۔
 البتہ یہ واقعہ شیعی کتاب " چودہ ستارے " میں مرقوم ھے؛ لیکن یہ کتاب چونکہ غالی رافضی کی ھے اور خرافات کا مجموعہ ھے , اور نہ وہاں سند مذکور ھے نہ حوالہ ؛ لہذا کہا جایئگا کہ یہ واقعہ محض مشہور ھے اور واعظین کی زباں زد ھے : 

 💎 *چودہ ستارے* 💎

 علمائے اہل سنت کا بیان ھے : کہ ایک دن منزل مفاخرت میں عبد ﷲ بن عمر امام حسن اور امام حسین کے سامنے فخر و افتخار کی باتیں کرنے لگے یہ سن کر امام حسن نے فرمایا: کہ تم تو ہمارے غلام زادے ہو ؛ اتنی بڑھ چڑھ کر کیا باتیں کر رھے ہو؟ اس پر عبد ﷲ بن عمر رنجیدہ ہوکر اپنے باپ کے پاس گئے اور امام حسن نے جو کچھ کہا تہا اسے بیان کیا , یہ سنکر حضرت عمر نے فرمایا: بیٹا! یہ بات ان سے لکھوالو! اور اگر لکھدیں تو میرے کفن میں رکھ دینا! ایک روایت میں ھے کہ انہوں نے لکھ دیا , اور حضرت عمر نے وصیت کردی کہ اسے ان کے کفن میں رکھا جائے؛ کیونکہ محمد و آلِ محمد کی غلامی بخشش کا ذریعہ ھے۔

 • نام کتاب : چودہ ستارے 
• نجم الحسن کراروی 
 • صفحة: 226 
• طبع: امامیہ کتب خانہ,مغل حویلی اندرون، موچی دروازہ،
 لاھور، پاكستان. 

 ❇️ *فتاوی اجملیہ* ❇️

 اس واقعہ کا ناقابلِ قبول ہونا رضاخانی فتوے " فتاوی اجملیہ " میں بھی مذکور ھے: " یہ واقعہ کسی عربی کی معتبر و مستند کتاب میں میری نظر سے نہیں گزرا ؛ تو یقین کیساتھ نہ اسکو صحیح کہا جاسکتا ھے نہ غلط "۔

 ÷ نام کتاب: فتاوي أجملية 
÷ نام مؤلف : مفتي اجمل سنبهلي 
÷ مجلد: 4 
÷ صفحة: 629 
÷ طبع: شبير برادرز، اردو بازار، زبيده سينٹر، لاهور، پاكستان. والله تعالي أعلم 

 ✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*

 17
 اگست، 2022

Friday, June 24, 2022

مچھلی کے منہ میں زبان کیوں نہیں ہوتی

• *مچھلی کے منہ میں زبان کیوں نہیں ہوتی؟* • 

 ﷲ نے تمام جانوروں کے منہ میں زبان پیدا کی ھے ؛ مگر مچھلی کو زبان نہیں دی گئ , اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حکمِ خداوندی سے فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا اور ابلیس رجیم ( مردود) ہوکر مسخ شدہ ( بری ) صورت میں زمین پر پھینک دیا گیا تو وہ سمندروں کی طرف گیا تو اسے سب سے پہلے مچھلی نظر آئی جسے اس نے آدم علیہ السلام کی تخلیق کا قصہ سنایا اور یہ بھی بتلایا کہ وہ بحر و بر کے جانوروں کا شکار کرے گا تو مچھلی نے تمام دریائی جانوروں تک حضرت آدم ؑ کی کہانی کہہ سنائی ؛ اسی وجہ سے اللہ تعالی نے زبان کے شرف سے محروم کردیا۔

 یہ واقعہ مکاشفۃ القلوب صفحہ: 139 کے حوالہ سے مذکور ھے اسکی تحقیق مطلوب ھے!!!

 ••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق*: 

 یہ واقعہ امام غؔزالیؒ کی جانب منسوب کتاب " مکاشفۃ القلوب " میں مذکور ھے ؛ لیکن یہ صیغۂ تمریض ( غیر یقینی انداز بیان) سے منقول ھے اور کتاب کے مؔحشی ٭دکتور عبد ﷲ الخالدی٭ نے اس پر کلام کیا ھے کہ یہ ایک حکایت اور کہانی ھے جو بالکل انوکھی اور عجیب ھے ( یعنی ثبوت کے درجے کو نہیں پہونچتی ھے) ؛ لہذا مچھلی کے بے زبان ہونے کی یہ وجہ حتمی نہیں ھے۔ 

 ❇️ *مكاشفة القلوب* ❇️ 

 فإن قيل: ما الحكمة في أن الله تعالى خلق كل مخلوق ذا لسان ناطق، وغير ناطق، وليس للسمك لسان أصلاً؟ فقيل: لأن الله تعالى لما خلق آدم أمر الملائكة فسجدوا كلهم إلا إبليس فلعنه الله وأخرجه من الجنة ، ومسخه ، فأهبط إلى الأرض ، فجاء إلى البحار ، فأول ما رآه السمك . فأخبره بخلق آدم . وقال : إنه يصطاد ويأخذ دواب البحر والبر ، فبلغ السمك دواب البحر بخبر آدم فأذهب الله لسانه. 

 وقال المحشي: هذه الحكاية أشبه بالنوادر، والطرف.

 ٭ المصدر: مكاشفة القلوب 
 ٭ المؤلف: الإمام الغزاليؒ 
٭ المحقق: د/ عبد الله الخالدي 
٭ الصفحة: 76 
٭ الطبع: دار القلم، بيروت، لبنان.

 والله تعالي أعلم 

✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صؔديقي*

 24 جون، 2022

Saturday, April 23, 2022

امام کعبہ کی تجویز

▪️ *امام کعبہ کی تجویز* ▪️ 

ایک پوسٹ کافی زیادہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جاتی ھے جس میں حرم مکی کے امام محترم شیخ عبد الرحمن سدیس کی تصویر چسپاں ہوتی ھے اور ان کی جانب منسوب ایک تجویز لکہی ہوتی ھے : کہ رمضان کے آخری دس دن مندرجہ ذیل تین اعمال کا اہتمام کرلیں:

 1) ہر رات ایک روپیہ خیرات کریں ؛ جس دن لیلت القدر ہوگی وہ ایک روپیہ کی خیرات ایسے ہوگی جیسے آپ نے 84 سال خیرات کی

 2) ہر رات دو رکعت نماز نفل ادا کریں جس رات شب قدر 
ہوگی وہ نماز ایسی ہوجایئگی جیسے 84 برس عبادت کی ہو 3) ہر رات تین بار سورہ اخلاص پڑھیں ؛ اگر شب قدر ہوئی تو وہ تلاوت ایسی ہوجایئگی گویا 84 سال روزانہ قرآن پڑھا ہو اس پوسٹ کی تحقیق مطلوب ھے!!! 

 ••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق:*

 امام کعبہ نے یہ تجویز پیش کی ھے یا نہیں کی ھے اس سے قطع نظر پوسٹ کے مندرجات پر نظر ڈالتے ہیں :

 💟 *قرآن کریم میں ھے:* لَیۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَیۡرࣱ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرࣲ ۝٣ سورة القدر / الآية: 3 

 ÷ ترجمة ÷ 

 شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ھے ( یعنی ہزار مہینہ تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ھے اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ھے )

 ☪️ *تفسیر سعدی* ☪️ 

 تفسیر سعدی میں اس آیت کریمہ کے تحت لکہتے ہیں : کہ اس رات کی فضیلت ہزار ماہ کے برابر کردی گئ ھے ؛ جو عمل اس شب میں کیا جائے اسکا اجر و ثواب ہزار ماہ تک کرنے سے بہی زیادہ افضل ہوگا , اللہ کریم کے اس قدر اجر عطا کرنے سے عقلیں حیران ہوجاتی ہیں الخ

 🔘 تعادل من فضلها ألف شهر ، فالعمل الذي يقع فيها ، خير من العمل في ألف شهر خالية منها ، وهذا مما تتحير فيه الألباب ، وتندهش له العقول ، حيث مَنَّ تبارك وتعالى على هذه الأمة الضعيفة القوة والقوى ، بليلة يكون العمل فيها يقابل ويزيد على ألف شهر ، عُمْرُ رجلٍ مُعَمِّرٍ عُمْرًا طويلا نيفا وثمانين سنة ".

 ٭ المصدر: تيسير الكريم الرحمان في تفسير كلام المنان _تفسير السعدي_ 
 ٭ المفسر: عبد الرحمن بن ناصر السعدي 
٭ الصفحة: 1098 
٭ الطبع: مكتبة دار السلام للنشر والتوزيع،الرياض،السعودية.

 ❇️ *معارف القرآن* ❇️

 اس رات کی سب سے بڑی فضیلت
 تو وہی ھے جو اس سورت میں بیان ہوئی ھے کہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں یعنی تراسی ٨٣ سال سے زائد کی عبادت سے بھی بہتر ھے ؛ پھر بہتر ہونے کی کوئی حد مقرر نہیں کتنی بہتر ھے کہ دوگنی چوگنی دس گنی سو گنی وغیرہ سبہی احتمال ہیں۔ 

 • المصدر: معارف القرآن 
• المؤلف: الشيخ شفيع العثمانيؒ 
• المجلد: 8 
• الصفحة: 792 
• الطبع: مكتبة معارف القرآن، كراچي، پاكستان.

 °°° *خلاصہ تحریر* °°° 

 یہ پوسٹ نشر کی جاسکتی ھے ؛ البتہ امام کعبہ کے کہنے کا اگر پختہ ثبوت ھے تو ان کے نام سے منسوب کیا جاسکتا ھے ؛ بصورت دیگر ان کا نام گرامی حذف کردیا جائے۔

 وﷲ تعالی اعلم 
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی*

 23 اپریل، ؁ 2022ء

Thursday, March 17, 2022

حضرت حسن اور شب برات کا عمل

 ▪️ *حضرت حسنؓ اور شبِ برات کا عمل* ▪️


عبقری میگزین کے حوالے سے یہ پوسٹ گردش کر رہی ھے کہ حضرت طاؤس یمانیؒ فرماتے ہیں : کہ میں نے امام حسن بن علیؓ سے پندرہ شعبان کی رات اور اس میں عمل کے بارے میں پوچھا : تو آپؓ نے ارشاد فرمایا: کہ میں اس رات کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں : 

ایک حصے میں اپنے نانا جان صلی ﷲ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھتا ہوں 

دوسرے حصے میں ﷲ تعالی سے استغفار کرتا ہوں 

تیسرے حصے میں نماز پڑھتا ہوں 

میں نے عرض کیا : جو شخص یہ عمل کرے اسکے لیے کیا ثواب ہوگا؟

آپؓ نے فرمایا: میں نے حضرت علیؓ سے سنا اور انہوں نے حضور نبی اکرمؐ سے سنا , آپ نے فرمایا: اسے مقربین لوگوں میں لکھ دیا جاتا ھے.



_اس روایت کا کیا درجہ ھے؟_


••• *باسمہ تعالی*•••

*الجواب وبہ التوفیق:* 


  

 یہ روایت امام سخاویؒ نے " القول البدیع " میں نقل کی ھے ؛ لیکن اسکے متعلق فرمایا ھے: کہ یہ معتبر نہیں ھے: 



🔰 *القول البدیع* 🔰


ثم قال: وروي عن طاوس اليماني أنه قال سألت الحسن بن علي رضي الله عنهما عن ليلة الصك يعني ليلة النصف من شعبان وعن العمل فيها ، فقال: [أنا أجعلها أثلاثاً، فثلث أصلي فيه على جدي النبي صلى الله عليه وسلم ائتماراً لأمر الله عز وجل، حيث يقول: يا أيها الذين آمنواْ صلواْ عليه وسلمواْ تسليماً، وثلث أستغفر الله تعالى فيه مثنى مثنى ؛لقوله تعالى: وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون، وثلث أركع فيه وأسجد لقوله تعالى: واسجد واقترب. فقلت وما ثواب من فعل ذلك؟ قال سمعت أبي يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: (من أحيى ليلة الصك كتب من المقربين) يعني الذين في قوله تعالى: فأما إن كان من المقربين.


*قال السخاوي: ولم أقف له على أصل أعتمده*.

 والله أعلم.


٭ المصدر: القول البديع

٭ المحدث: السخاوي 

٭ الصفحة: 396

٭ الطبع: مؤسسة الرّيّان، المدينة المنورة، السعودية.


واللّٰه تعالي أعلم

✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صؔديقي* 

17 مارچ، 2022؁ء

Friday, October 15, 2021

جمعہ کے دن پرندے اور کیڑے مکوڑے

▪️ *جمعہ کے دن پرندے اور کیڑے مکوڑے* ▪️

 ایک بات کی تحقیق دریافت کرنی ھے کہ جس دن جمعہ ہوتا ھے اس دن پرندے، اور کیڑے مکوڑے ایک دوسرے سے مل کر کہتے ہیں : سلامتی ہو، سلامتی ہو ؛ یہ عمدہ دن ھے ۔ 

 ••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق:* 

 یہ بات متعدد کتب میں قوت القلوب اور احیاء العلوم کے حوالے سے منقول ھے ؛ البتہ یہ حدیث یا صحابی کا قول نہیں ھے زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جاسکتا ھے : کہ بزرگوں و صوفیاء کا مقولہ ھے۔ 

 🔖 *احیاء العلوم* 🔖

 ¤ ويقال: إن الطير والهوام يلقي بعضها بعضا في يوم الجمعة، فتقول: سلام، سلام، يوم صالح.

 ٭ المصدر: إحياء العلوم 
٭ المؤلف: الإمام الغزاليؒ 
٭ المجلد: 
1 ٭ الصفحة: 234 
٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان. 

 🏷️ *قوت القلوب* 🏷️

 ⚁ ويقال: إن الطير والهوام يلقي بعضها بعضا في يوم الجمعة، فتقول: سلام، سلام، يوم صالح. 

 ٭ المصدر: قؔوت القلوب 
٭ المؤلف: الشيخ أبو طالب المكيؒ 
٭ الجزء: 1 
٭ الصفحة: 195 
٭ الطبع: مكتبة دار التراث، القاهرة، مصر. 

 وﷲ تعالی اعلم 

✍🏻... کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی*

 15 اکتوبر، ؁ء 2021

Wednesday, September 8, 2021

امام یحی بن معین پر خواتین کو چھیڑنے کا الزام

▪️ *امام یحی بن معینؒ پر خواتین کو چھیڑنے کا الزام* ▪️

 روافض چونکہ ہر زاویہ سے اسلام و اساطین اسلام , محدثین و کتب حدیث کیخلاف ریشہ دوانیاں کرتے آئے ہیں اسی تناظر میں ایک شیعہ کو کہتے سنا : کہ حدیث کے جلیل القدر امام یحی بن معین خواتین کو چھیڑا کرتے تھے , مجھے سن کر ذرا یقین نہیں آیا ؛ لیکن مفتی صاحب مجھے آپ سے معلوم کرنا ھے کہ شیعہ نے بہ بات کس بنیاد پر کی ھے؟ 

 ••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق:* 

 امام مزیؒ نے حضرت امام یحی بن معینؒ کے متعلق ایک ضعیف راوی " حسین بن فہم" کا قول نقل کیا ھے : کہ ایک بار امام یحی بن معینؒ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے بازار مصر میں ایک باندی کو ہزار دینار میں فروخت ہوتے دیکھا اور اس باندی سے زیادہ حسین و جمیل خاتون میں نے کبہی نہیں دیکھی اور مزید فرمایا: کہ خدا اس باندی پر رحم کرے اور اس پر ہی کیا ؛ بلکہ تمام خوبصورت لوگوں پر خدا کی رحمت ہو؛ اب آپ خود ملاحظہ کیجئے کہ اس میں کہاں چھیڑ چھاڑ یا ان کے کردار پر انگلی اٹھانے کی گنجائش ھے وہ ایک واقعہ بتارھے ہیں اور خوبصورت لوگوں کے استحصال کیلیے بدقماش لوگوں کی غلط نظریں یا ارادے ہوتے ہیں تو امام موصوفؒ نے ان کی حفاظت کی دعا فرمادی , اس میں تو ایک عام انسان بھی غلط نہ سوچے گا, افسوس ھے شیعہ و روافض پر کہ وہ اپنے بغض کی بنا پر وہ سب کچھ ہفوات بکتے ہیں جنکا حقیقت سے ذرا بہی تعلق نہیں ہوتا ھے:

 🏷️ *تہذیب الکمال* 🏷️ 

 ◆ وقال الحسين بن محمد بن فهم: سمعت يحيى بن معين وذكر عنده حسن الجواري. قال: كنت بمصر فرأيت جارية بيعت بألف دينار ما رأيت أحسن منها صلى الله عليها. فقلت يا أبا زكريا مثلك يقول هذا؟ قال: نعم. صلى الله عليها وعلى كل مليح!.

 ٭ المصدر: تهذيب الكمال 
 ٭ المحدث: الإمام المزيؒ 
٭ المجلد: 31 
٭ الصفحة: 561 
٭ الرقم: 6926 
٭ الطبع: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان.


 *تاريخ مدينة دمشق*

 أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا أبو محمد الجوهري أنا محمد بن عبيد الله بن الشخير أبو بكر الصيرفي نا أحمد بن الحسن، بن علي المقرئ دبيس قال سمعت الحسين بن فهم، يقول سمعت يحيى بن معين يقول وذكر عنده حسن الجوار ، قال كنت بمصر فرأيت جارية بيعت بألف دينار ما رأيت أحسن منها صلى الله عليها وعلى كل مليح.

 ٭ المصدر: تاريخ مدينة دمشق 
٭ المؤلف: ابن عساكرؒ 
٭ المجلد: 65 
٭ الصفحة: 33 
٭ الطبع: دار الفكر، بيروت، لبنان.


 *لسان الميزان*

 امام ابن حجر عسقلانیؒ نے راوی واقعہ حسین بن فہم کے متعلق لکہا: وہ قوی نہیں ھے: 

 ◆ الحسين بن فهم صاحب محمد بن سعد. قال الحاكم: ليس بالقوي. وقال الخطيب: الحسين بن محمد بن عبد الرحمن بن فهم بن محرز سمع محمد بن سلام الجمحي ويحيى بن مَعِين وخلف بن هشام وطائفة. وعنه إسماعيل بن الخطبي وأحمد بن كامل وأبو علي الطوماري وآخرون. قال: وكان عسرا في الرواية متمنعا إلا لمن أكثر ملازمته. ذكره الدارقطني فقال ليس بالقوي. وعنه قال ولدت سنة 211. وقال ابن كامل: مات في رجب سنة 289 قال وكان حسن المجلس مفننا في العلوم حافظا للحديث والأخبار والأنساب والشعر عارفا بالرجال متوسطا في الفقه. 

 ٭ المصدر: لسان الميزان 
٭ المحدث: الإمام ابن حجر العسقلانيؒ 
٭ المجلد: 3 
٭ الصفحة: 202 
٭ الرقم: 2594 
٭ الطبع: دار البشائر الإسلامية، بيروت، لبنان.


 🔖 *سير أعلام النبلاء* 🔖

 امام ذھبیؒ نے اس بات کی وضاحت کی ھے کہ اگر یہ واقعہ امام یحی بن معین کی نسبت کسی درجے میں ثابت بھی ہو تو یہ ان کے مزاح پر محمول ہوگا۔


 ◆ "هذه الحكاية محمولة على الدعابة من أبي زكريا، وتروى عنه بإسناد آخر". 

 ٭ المصدر: سير أعلام النّبلاء 
 ٭ المحدث: الإمام الذهبيؒ 
 ٭ الصفحة: 4206 
٭ الرقم: 6694 
٭ الطبع: بيت الأفكار الدولية، الأردن. 

 🕯️ *خلاصۂ کلام* 🕯️

 جتنا واقعہ منقول ھے اگر اسکو مستند بھی مان لیا جائے تو نہ اس میں کوئی چھیڑخانی والی بات ھے نہ ہی قباحتی یا مروءت کے خلاف کوئی بات ؛ لہذا روافض کی دشنام طرازیوں اور بے جا اتہامات کی جانب التفات نہ کی جائے۔ وﷲ تعالی اعلم

 ✍🏻... کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی* 
8 ستمبر 2021

Saturday, August 28, 2021

دربار یزید میں نبیرہ علی کی تقریر

▪️ *دربار یزید میں نبیرۂ علی کی تقریر* ▪️

 مفتی صاحب آج کل ایک ویڈیو گردش کر رہی ھے جس میں ایک ننہا بچہ منبر پر بیٹھ کر خوش نما آواز اور عربی شستہ لہجہ میں ایک خطبہ پڑھ رہا ھے اور اس خطبہ کا عنوان ھے *امام سجاد* کا خطبہ جو یزید کے دربار میں عوام الناس کی موجودگی یزید بن معاویہ کے رو برو دیا گیا , اس خطبہ کی سند و حقیقت کے متعلق جواب ارشاد فرمایئں!

 عین نوازش ہوگی۔  

( خطبہ کا ویڈیو لنک سوال کے ہمرشتہ کردیا گیا ھے)

 ••• *باسمہ تعالی* ••• 
*الجواب وبہ التوفیق:*

 یہ خطبہ بغیر کسی سند " خطیب خوارزم" ابو المؤید موفق بن احمد " مکی حنفی نے مقتل حسین نامی کتاب میں نقل کیا ھے, جس کے عربی الفاظ و ترجمہ درج ذیل ہیں:

 🔖 *مقتل حسين* 🔖

 *خطبة الإمام زين العابدين عليه السلام في مجلس يزيد*

 وروي : أنّ يزيد أمر بمنبر وخطيب ، ليذكر للناس مساوئ للحسين وأبيه علي عليهما السّلام ، فصعد الخطيب المنبر ، فحمد الله وأثنى عليه ، وأكثر الوقيعة في علي والحسين ، وأطنب في تقريظ معاوية ويزيد ، فصاح به علي بن الحسين : « ويلك ، أيّها الخاطب ! اشتريت رضا المخلوق بسخط الخالق ؟ فتبوأ مقعدك من النار » ، ثمّ قال : « يا يزيد ! ائذن لي حتّى أصعد هذه الأعواد فأتكلّم بكلمات فيهنّ لله رضا ، ولهؤلاء الجالسين أجر وثواب » ، فأبى يزيد ، فقال الناس : يا أمير المؤمنين ! ائذن له ليصعد ، فلعلّنا نسمع منه شيئاً ، فقال لهم : إن صعد المنبر هذا لم ينزل إلّا بفضيحتي وفضيحة آل أبي سفيان ، فقالوا : و ما قدر ما يحسن هذا ؟ فقال : إنّه من أهل بيت قد زقّوا العلم زقّاً ، ولم يزالوا به حتّى أذن له بالصعود. فصعد المنبر ، فحمد الله وأثنى عليه ، ثمّ خطب خطبة أبكى منها العيون ؛ وأوجل منها القلوب ، فقال فيها : « أيّها الناس ! اُعطينا ستّاً ، وفضّلنا بسبع : اعطينا العلم ، والحلم ، والسماحة ، والفصاحة ، والشجاعة ، والمحبّة في قلوب المؤمنين ، وفضّلنا بأنّ‏ منّا النبي المختار محمّداً صلّى الله عليه وآله ، ومنّا الصدّيق ، ومنّا الطيّار ، ومنّا أسد الله وأسد الرسول ، ومنّا سيّدة نساء العالمين فاطمة البتول ، ومنّا سبطا هذه الاُمّة ، وسيّدا شباب أهل الجنّة ، فمن عرفني فقد عرفني ، ومن لم يعرفني أنبأته بحسبي ونسبي : أنا ابن مكّة ومنى ، أنا ابن زمزم والصفا ، أنا ابن من حمل الزكاة بأطراف الرداء ، أنا ابن خير من ائتزر وارتدى ، أنا ابن خير من انتعل واحتفى ، أنا ابن خير من طاف وسعى ، أنا ابن خير من حجّ ولبى ، أنا ابن من حمل على البراق في الهوا ، أنا ابن من أسرى به من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى ، فسبحان من أسرى ، أنا ابن من بلغ به جبرائيل إلى سدرة المنتهى ، أنا ابن من دنا فتدلّى فكان من ربّه قاب قوسين أو أدنى ، أنا ابن من صلّى بملائكة السما ، أنا ابن من أوحى إليه الجليل ما أوحى ، أنا ابن محمّد المصطفى ، أنا ابن علي المرتضى ، أنا ابن من ضرب خراطيم الخلق حتّى قالوا : لا إله إلّا الله ، أنا ابن من ضرب بين يدي رسول الله بسيفين ، وطعن برمحين ، وهاجر الهجرتين ، وبايع البيعتين ، وصلّى القبلتين ، و قاتل ببدر وحنين ، و لم يكفر بالله طرفة عين. أنا ابن صالح المؤمنين ووارث النبيّين ، وقامع الملحدين ، ويعسوب المسلمين ، ونور المجاهدين ، وزين العابدين ، وتاج البكائين ، وأصبر الصابرين ، وأفضل القائمين من آل ياسين ، ورسول ربّ العالمين ، أنا ابن المؤيّد بجبرائيل ، المنصور بميكائيل ، أنا ابن المحامي عن حرم المسلمين ، وقاتل الناكثين والقاسطين والمارقين ، والمجاهد أعداءه الناصبين ، وأفخر من مشى من قريش أجمعين ، وأوّل من أجاب واستجاب لله من المؤمنين ، وأقدم السابقين ، وقاصم المعتدين ، ومبير المشركين ، وسهم من مرامي الله على المنافقين ، ولسان حكمة العابدين ، ناصر دين الله ، وولي أمر الله ، وبستان‏ حكمة الله ، وعيبة علم الله ، سمح سخي ، بهلول زكي أبطحي رضي مرضي ، مقدام همام ، صابر صوام ، مهذب قوام ، شجاع قمقام ، قاطع الأصلاب ، مفرق الأحزاب ، أربطهم جنانا ، وأطبقهم عنانا ، وأجرأهم لسانا ، وأمضاهم عزيمة ، و أشدّهم شكيمة ، أسد باسل ، وغيث هاطل ، يطحنهم في الحروب ـ إذا ازدلفت الأسنة ، وقربت الأعنة ـ طحن الرحى ، ويذروهم ذرو الريح الهشيم ، ليث الحجاز ؛ وصاحب الإعجاز ؛ وكبش العراق ، الإمام بالنصّ والاستحقاق مكّي مدني ، أبطحي تهامي ، خيفي عقبي ، بدري أحدي ، شجري مهاجري ، من العرب سيّدها ، ومن الوغى ليثها ، وارث المشعرين ، وأبو السبطين ، الحسن والحسين ، مظهر العجائب ، ومفرق الكتائب ، والشهاب الثاقب ، والنور العاقب ، أسد الله الغالب ، مطلوب كلّ طالب ، غالب كلّ غالب ، ذاك جدّي علي بن أبي طالب.أنا ابن فاطمة الزهراء ، أنا ابن سيّدة النساء ، أنا ابن الطهر البتول ، أنا ابن بضعة الرسول ». قال : ولم يزل ، يقول : « أنا أنا » حتّى ضج الناس بالبكاء والنحيب ، وخشي يزيد أن تكون فتنة ، فأمر المؤذّن : أن يؤذّن ، فقطع عليه الكلام وسكت ، فلمّا قال المؤذّن : الله أكبر ! قال عليّ بن الحسين : « كبّرت كبيراً لا يقاس ، و لا يدرك بالحواس ، لا شي‏ء أكبر من الله » ، فلمّا قال : أشهد أن لا إله إلّا الله ! قال علي : « شهد بها شعري وبشري ، ولحمي ودمي. ومخي وعظمي » ، فلمّا قال : أشهد أنّ محمّداً رسول الله ! التفت عليّ من أعلى المنبر إلى يزيد ، وقال : « يا يزيد ! محمّد هذا جدّي أم جدّك ؟ فإن زعمت أنّه جدّك فقد كذبت ، وإن قلت : إنّه جدّي ، فلم قتلت عترته » ؟ قال : وفرغ المؤذّن من الأذان والإقامة ، فتقدّم يزيد وصلّى صلاة الظهر.

 ( *ترجمة*) 

 روایت ھے: کہ یزید نے منبر لگانے اور کسی مقرر کو بیان کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ اپنی تقریر میں لوگوں کے سامنے حضرت حسین اور ان کے والد گرامی حضرت علی کی شان میں گستاخی کرے چنانچہ خطیب منبر پر چڑھا اللہ کی حمد و ثنا کی اور حضرت علی و حسین کی شان میں بدتمیزی کی , اور حضرت معاویہ اور یزید کی تعریفوں کے پُل باندھے وہاں ( ملک شام میں دربار یزید میں قیدی کی حیثیت سے ) حضرت حضرت حسین کے فرزند حضرت علی بن حسین بہی تھے تو انہوں نے جرأت سے کہا: اے خطیب! تو برباد ہو؛ تو مخلوق ( یزید ) کی خوشنودی کیلیے خدا کی ناراضگی مول لیتا ھے اور اپنا ٹھکانہ جہنم میں بناتا ھے! پھر حضرت نے کہا: یزید! مجھے منبر سنبہالنے کی اجازت دے تاکہ میں ایسی بات بیان کروں جس میں اللہ کی رضامندی ھے اور سامعین کیلیے اجر و ثواب ھے! یزید نے انکار کردیا؛ لیکن عوام نے مطالبہ کیا کہ امیر المومنین! اس نوجوان کو اجازت دیجائے یزید نے ان سے کہا: اگر اسکو اجازت ملی تو یہ منبر سے تبہی اترے گا جب میری اور ابوسفیان کی آل و اولاد کی رسوائی نہ کردے , لوگوں کا مطالبہ بدستور جاری رہا, اور حضرت علی بن حسین کو اجازت مل گئ , وہ منبر پر آئے اور خدا کی حمد و ثنا کی پھر ایسی تقریر کی کہ تمام کی آنکہیں ڈبڈبا گئیں اور دل ڈر گئے ان کی تقریر یہ تہی: لوگو! ہمیں چھ چیزیں عطا کی گئی ہیں اور ہمیں سارے جہان پر سات خصوصیات سے فضیلت حاصل ھے , ہمیں علم , بردباری, سخاوت, فصاحت, بہادری اور مومنوں کے دلوں میں محبت دی گئ ھے, اور ہماری فضیلت یہ ھے کہ ہم میں سے ہی نبی مختار محمد صلی ﷲ علیہ وسلم ہیں , اور صدیق ہیں اور جعفر طیار ہیں اور ہمارے ہی بڑے بزرگ اللہ اور اسکے رسول کے شیر ہیں, اور ہمارے ہی خاندان سے تو سارے جہان کی خواتین کی سردار حضرت فاطمہ بتول ہیں اور ہمارے ہی تو اس امت کے دو سردار ہیں اور دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں , پھر فرمایا: جو مجھے پہچانتا ھے تو بہتر ھے وہ مجھے پہچانتا ہے اور جو نہیں جانتا تو تو میں اسکو اپنا حسب و نسب بیان کیے دیتا ہوں! لوگو! سنو ! میں مکہ اور منی کا فرزند ہوں میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں , میں کپڑے اور چادر پہننے والوں میں سب سے بہتر انسان کا بیٹا ہوں , میں چپل پہننے والوں اور برہنہ پا چلنے والوں میں سے سب سے بہتر کا فرزند ہوں , میں طواف و سعی کرنے والوں میں سب سے بہترین کی اولاد ہوں , میں حج و تلبیہ پڑھنے والوں میں سے سب سے بہتر کا فرزند ہوں , میں فرزند ہوں اس شخصیت کا جسکو فضاؤں میں براق پر سوار کیا گیا, میں ہوں بیٹا اس ذات کا جسکو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی لیجایا گیا, _ پاکیزہ ھے ان کو لیجانی والی ذات_ میں اس کی اولاد ہوں جسکو جبرئیل سدرہ المنتہی لیکر گئے , میں اسکا فرزند ہوں جو رب سے نزدیک سے نزدیک تر ہوا, اور ایک قوس سے بھی کم فاصلہ اسکے اور رب کے درمیان رہ گیا, میں اسکا بیٹا ہوں جس پر آسمان کے فرشتے درود پڑھتے ہیں میں اسکا بیٹا ہوں جس کے پاس عزت والا رب وحی بھیجتا تہا, میں محمد مصطفی کا بیٹا اور علی مرتضی کا فرزند ہوں , میں اس کا بیٹا ہوں جس نے ( کافر ) مخلوق کی ناک پر وار کیا اور وہ کلمہ توحید پڑھنے لگے, میں اسکا بیٹا ہوں جس نے رسول ﷲ کے سامنے دو دو تلواروں سے جنگ لڑی , اور دو دو نیزوں سے مقابلہ کیا, اور دو ہجرتیں کی , اور دو بیعتیں کیں , اور دونوں قبلوں کی جانب رخ کرکے نماز پڑھی, اور جس نے بدر و حنین میں سخت لوہا لیا, اور زندگی کے کسی بھی پل خدا کی ناشکری اور اسکا انکار نہ کیا،میں مومنوں کے نیکو کار, نبیوں کے وارث , ملحدوں کے قمع کرنیوالے , مسلمانوں کے سردار, مجاہدوں کی مشعل , عبادتگزاروں کے سرتاج, رونے والوں کے تاج, سب سے زیادہ صابر, آل نبی کے شب بیداروں میں سب سے افضل , کا بیٹا ہوں, میں ایسے شخص کا فرزند ہوں جس کو جبرئیل کی تائید حاصل ھے, جسکو میکایل کی نصرت حاصل ھے, میں اسکا بیٹا ہوں جو مسلمانوں کی عزت کا محافظ ھے, جو سرکشوں , ناانصافوں, حد سے تجاوز کرنے والوں سے قتال کرنیوالا, اور اپنے سخت دشمنوں سے جہاد کرنیوالا , سارے قریش کی شان ھے, اور سب سے پہلے ( بچوں میںقبول کرنے والا ھے, سابقین اولین میں شمار ھے,زیادتی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہونچانیوالا ھے, مشرکوں کو نیست کرنیوالا , اور منافقوں پر خدا کا تیر ھے, عبادت گزاروں کی حکمت کی زبان ھے, خدا کے دین کا مددگار ھے, خدا کے معاملہ ( خلافت ) کو سنبھالنے والا اور اسکی حکمت کا باغ , علم باری کا رازادر ھے, شریف و سخی ھے, عقلمند و ذہین ھے, وسیع العلم , راضی برضا ھے خدا کا پسندیدہ ھے, جراتمند , بہادر صابر روزے دار ھے, تہذیب یافتہ , غلط کاروں کو سمجہانیوالا, بہادر , شرافت و سخاوت کا سمندر , دشمنوں پرخچے اڑانے والا, عدو کی صفیں پلٹنے والا, مضبوط دل والا, لگاموں کو تھمانے والا, بیباک, عزائم کو پورا کرنے والا, بلند حوصلوں والا ( وہ شہسوار جسکے گھوڑے کی لگامیں لوہے کی ہوں) بہادر شیر , موسلا دھار بارش جیسا, جنگ میں دشمنوں کو گندم کی پیسنے والا, اور مخالفین گروہ کو ہوا میں اڑانے والا, سرزمین حجاز کا شیر , جس کی زبان میں بلا کی بلاغت ھے, عراق کا سردار ھے, جس کی امامت کی شاہد آیات و احادیث ہیں , جو امامت کا مستحق ھے, پیدائشی مکی ھے اور اقامتی مدنی ھے, بطحا اور تہامہ کا لعل ھے, بیعت عقبہ کا شریک , بدری اور احدی صحابی ھے, بیعت رضوان کا حاضرین اور مہاجر بہی ھے, اس کی سرادری عرب میں تسلیم ھے، دو پیارے فرزندوں( حسن و حسین) کے باپ ہیں, عجائبات علم کے اظہار کرنے والے , دشمنوں کے فوجی دستوں کو تتر بتر کرنے والے, روشن ستارے, غالب نور , ﷲ کے فاتح شیر, ہر چاہنے والے کے مطمح نظر, ہر فاتح کے فاتح, وہی تو میرے دادا علی بن ابوطالب ہیں, میں فاطمہ زھراء کا فرزند , خواتین کی سردار کا بیٹا, جگر گوشہ رسول کا حصہ ہوں, راوی کہتا ھے: حضرت علی بن حسین اپنا تعارف اس انداز بدیع میں کرارھے تھے اور اور لوگوں پر رونا و گریہ طاری تہا, یزید کو لگا کہ کوئی انہونی نہ ہوجائے چنانچہ اس نے مؤذن کو کہا: اذان پڑھے , اور حضرت علی اذان سن کر خاموش ہوگئے , جب مؤذن نے ﷲ اکبر ﷲ اکبر کی صدا لگائی تو حضرت علی نے کہا: خدا تو اتنا بڑا ھے کہ اسکا کوئی پیمانہ نہیں اس سے بڑا کچھ ہے ہی نہیں, جب مؤذن نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو انہوں نے کہا: اس بات کی گواہی میرے جسم کا رواں رواں دیتا ھے میرا گوشت پوست دیتا ھے, پھر جب مؤذن نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں تو حضرت علی منبر پر بیٹھے یزید کی جانب گھوم کر گویا ہوئے: یزید! یہ جو اذان میں محمد نام آتا ھے یہ محمد تیرے جد امجد ہیں یا میرے؟ اگر تیرے گمان میں یہ ھے کہ یہ تیرے جد ہیں تو جہوٹا قرار پایئگا اور تیرا کہنا ھے کہ یہ میرے جدامجد ہیں تو پھر تو بتا! کہ تونے انکے خاندان کو قتل کیوں کیا؟ راوی کہتا ھے: یزید خاموش رہا اور مؤذن نے اذان ختم کی اور یزید آگے بڑھا اور نماز ظہر کی امامت کرائی۔

 ٭ المصدر: مقتل الحسين
 ٭ المؤلف: أبو المؤيد الموفق بن أحمد المكي أخطب خوارزم
 ٭ المجلد: 2 
٭ الصفحة: 76 
٭ الطبع: دار أنوار الهدي، قُمْ، إيران. 

 🔅 *صاحب کتاب کا تعارف* 🔅 

 امام ابو الوفاء قرشی نے " جواهر مضيئة في طبقات حنفیہ " میں ان کا ذکر کیا ھے کہ یہ ماہر فن نحو, ادیب فقیہ ہیں اور 
عربیت کے تعلم میں علامہ زمخشری کے تلامذہ میں سے ہیں:   
«الموفق بن أحمد بن محمد المكي، خطيب خوارزم، استاذ
 ناصر بن عبد اللّه صاحب المغرب، أبو المؤيد، مولده في حدود سنة 484. ذكره القفطي في أخبار النحاة. أديب فاضل له معرفة في الفقه والأدب. روى مصنفات محمد بن الحسن عن عمر بن محمد بن أحمد النسفي. ومات رحمه اللّه سنة 568، وأخذ علم العربية عن الزمخشري» 

 ٭ المصدر: الجواهر المضيئة 
٭ المؤلف: محي الدين أبو محمد عبد القادر بن محمد بن محمد بن نصر الله ابن سالم ابن أبي الوفاء القرشي الحنفي 
٭ المجلد: 3 
٭ الصفحة: 523 
٭ الرقم: 1718 
٭ الطبع: دار هجر للطباعة والنشر والإعلان، قاهرة، مصر.

 🕯️ *خلاصۂ کلام* 🕯️

 یہ خطبہ بلا سند منقول ھے ؛ لہذا اس کی نسبت و ثبوت حتمی نہیں کہی جاسکتی ھے جبکہ صاحب کتاب خوارزمی کے متعلق امام ابن تیمیہ نے کہا: کہ حدیث کے باب میں ان کا مقام وہ نہیں کہ ان کی جانب رجوع کیا جائے :

 «إن أخطب خوارزم هذا، له مصنّف في هذا الباب، فيه من الأحاديث المكذوبة ما لا يخفى كذبه على من له أدنى معرفة بالحديث، فضلاً عن علماء الحديث، وليس هو من علماء الحديث ولا ممن يرجع إليه في هذا الشأن ألبتة»

 ٭ المصدر: منهاج السنة 
٭ المحدث: الإمام ابن تيمية 
٭ المجلد: 5 
٭ الصفحة: 41 
٭ الطبع: جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية، الرياض، السعودية. 

 والله تعالي أعلم

 ✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*

 28 اگست، 2021

Tuesday, August 3, 2021

حضرت عثمان غنی کی کرامت

 ▪️ *حضرت عثمان غنیؓ کی کرامت* ▪️


  ایک واقعہ حضرت عثمان غنیؓ کے متعلق بیان ہوتا ھے: کہ آپ کی شہادت سے پہلے والی رات آپ کو نبی کریمؐ خواب میں یا بیداری میں  نظر آئے اور آپ کا حال معلوم کیا نیز آپ کو ٹھنڈا پانی بہی پلایا ۔


اس واقعہ کا حوالہ و تحقیق مطلوب ھے!!!



••• *باسمہ تعالی* •••

*الجواب وبہ التوفیق:* 


  یہ واقعہ متعدد کتب مناقب و تاریخ میں مذکور ھے, امام سیوطی الحاوی للفتاوی میں ذکر کیا ھے؛ لیکن خواب یا بیداری کی صراحت نہیں ھے مطلقا دیکہنے کا ذکر ھے:


🔖 *الحاوی للفتاوی* 🔖



ومنهم عثمان بن عفان - رضي الله عنه - قال عبد الله بن سلام : ثم أتيت عثمان لأسلم عليه - وهو محصور - فقال : مرحبا بأخي ، رأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في هذه الخوخة فقال : يا عثمان حصروك ؟ قلت : نعم ، قال : عطشوك ؟ قلت : نعم ، فأدلى لي دلوا فيه ماء فشربت حتى رويت حتى إني لأجد برده بين ثديي وبين كتفي ، فقال : إن شئت نصرت عليهم ، وإن شئت أفطرت عندنا ، فاخترت أن أفطر عنده ، فقتل ذلك اليوم . انتهى . 



• المصدر : الحاوی للفتاوی

• المحدث: الامام السیوطی

• المجلد: 2

• الصفحة: 249

• الطبع : دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.

 


🔅 *فضائل الصحابة* 🔅


  امام احمد بن حنبل نے فضائل صحابہ میں یہ واقعہ ذکر کیا ھے؛ لیکن خواب کی صراحت فرمائی ھے: 


حدثنا عبد الله، قال: حدثني ابي، قال: يزيد بن هارون، قال: أنا فرج بن فضالة، عن مروان بن أبي أمية، عن عبد الله بن سلام، قال: أتيت عثمان وهو محصور، أسلِّمُ عليه، فقال: مرحبا بأخي، مرحبا بأخي، ما يسرني أنك وراءك، ألا أحدثك ما رأيت الليلة في المنام، قلت: بلي! قال: رايت رسول الله في هذه الخوخة، وإذا خوخة في البيت، فقال: حصروك؟  قلت: نعم، قال: أعطشوك؟ قلت: نعم، قال: فأدلٰي لي دلوا من ماء، فشربت منه؛ حتي روِيْتُ، فإني لاجد برده بين كتفيَّ و بين يدي، قال: إن شئتَ، نُصرْت عليهم، وإن شئت أفطرتَ عندنا، فاخترتُ ان أفطر عنده، قال: فقتِل في ذلك اليوم.


٭ المصدر: فضائل الصحابةؓ

٭ المحدث: الإمام احمدؒ 

٭ الصفحة: 489

٭ الرقم: 792

٭ الطبع: جامعة أم القري، مكة المكرمة، السعودية.



🔸 *: بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث* 🔸


امام ھیثمی مصری نے بھی یہ واقعہ نقل فرمایا ھے؛ لیکن خواب کا ذکر نہیں ھے: اور محقق کتاب نے اس روایت کو ضعیف کہا ھے:


※ حدثنا ابو علي الحسن بن قتيبة الخزاعي، ثنا الفرج بن فضالة، عن مهاجر بن حبيب، وإبراهيم بن مصقلة، قالا: بعث عثمان بن عفان الي عبد الله بن سلام، وهو محصور، فدخل عليه، فقال له: إرفع رأسك! تري هذه الكوة؟ فإن رسول الله أشرف منها الليلة، فقال: يا عثمان! احصروك؟ قلت: نعم، فادلي لي دلوا، فشربت منه، فاني لاجد برده علي كبدي، ثم قال لي: ان شئت دعوت الله، فنصرك عليهم، وإن شئت افطرت عندنا؟ قال عبد الله: فقلت له: ما الذي اخترت؟ قال: الفطر عنده، فانصرف عبد الله إلي منزله، فلما ارتفع النهار، قال لابنه: اخرج! فانظر ما صنع عثمان؟ فانه لا ينبغي ان يكون هذه الساعة حيا، فانصرف اليه، فقال: قد قُتِلَ الرّجل، رحمه الله.


* المصدر: : بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث

* المحدث: الإمام الهيثميؒ

* المحقق: حسين احمد صالح الباكري

* المجلد: 2

* الصفحة: 901

* الرقم: 979

* الدرجة: ضعيف

٭ الطبع: الجامعة الإسلامية، المدينة المنورة.


🔰 *تاريخ مدينة دمشق* 🔰


   امام ابن عساکرؒ نے تاریخ دمشق میں یہ واقعہ نقل فرمایا ھے ( خواب کے لفظ کی صراحت کے بغیر )



💦 قال ونا ابن ابي الدنيا، حدثنا إسحاق بن إسماعيل، ثنا يزيد بن هارون، عن فرج بن فضالة، عن مروان بن أبي أمية، عن عبد الله بن سلام. قال: أتيت أخي عثمان لأسلم عليه وهو محصور فدخلت عليه فقال: مرحبا بأخي، رأيت رسول الله ﷺ الليلة في هذه الخوخة - قال: وخوخة في البيت - فقال: « يا عثمان حصروك؟قلت: نعم!قال: عطشوك؟قلت: نعم، فأدلى دلوا فيه ماء فشربت حتى رويت، إني لأجد برده بين ثديي وبين كتفي، وقال لي:إن شئت أفطرت عندنا » فاخترت أن أفطر عنده، فقتل ذلك اليوم.


٭ المصدر: تاريخ مدينة دمشق

٭ المحدث: ابن عساكرؒ

٭ المجلد: 39

٭ الصفحة: 386

٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت لبنان.



▫️ *المطالب العالیة* ▫️


المطالب العالیہ میں یہ روایت مذکور ھے اور محقق سند کے مطابق ضعیف ھے یعنی تاریخ دمشق, فضائل صحابہ, بغیہ الباحث وغیرہ کی سندیں ضعیف ہیں ۔ 



{ المصدر: المطالب العالية

{ المحدث: الإمام ابن حجر العسقلانيؒ

{ المحقق: عبد القادر بن عبد الكريم جوندل

{ المجلد: 18

{ الصفحة: 75

{ الرقم: 4383

{ الطبع: دار العاصمة، الرياض، السعودية. 



  🕯️ *خلاصۂ کلام* 🕯️


  خؔلیفہ سوم،  شہید مظلوم،  داماد رسول، حضرت ذوالنورینؓ کا یہ واقعہ من گھڑت نہیں ھے اگر چہ بعض سندیں شدید ضعیف یا ضعیف ہیں؛ نیز بعض روایات میں دیدار نبیؐ کی بات خواب سے متعلق ھے تب تو کوئی کلام ہی نہیں ؛ لیکن بعض لوگوں کا خیال ھے کہ بحالت بیداری گھر کی کھڑکی پر حضور اکرمؐ کے دیدار سے مشرف ہوئے اور ٹھنڈے پانی کا ڈول آپ علیہ السلام نے انؓ کو عطا فرمایا جسکے پانی کی شیرینی اور خوشگوار احساس حضرت غنیؓ کو تادیر رہا اس پر کسی کو اعتراض نہ ہونا چاہئے ؛  کیونکہ 

 اگر کوئی شخص عشقِ رسولؐ میں ترقی کرتے ہوئے عشق کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے اور گویا وہ عشقِ رسولؐ میں مستغرق ہوجائے تو حالت منام کی طرح حالت یقظہ میں بھی اس کو زیارت ہوسکتی ہے، مگر یہ دولت عام نہیں بلکہ حضرت عثمان غنیؓ جیسے عاشق رسول  کو نصیب ہوتی ہےاور پھر یہ زیارت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ کشفی ہوتی ہے، اور کشف و کرامات کا کسی صحیح العقیدہ کو انکار نہیں ہوسکتا۔



وﷲ تعالی اعلم


✍🏻کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی*


۳ اگست، ۲۰۲۱ ؁ء