Friday, September 3, 2021
بہترین رزق پانے اور برائیوں سے محفوظ رہنے کا نسخہ
Wednesday, February 10, 2021
ادھورے کام پورے ہونگے
▪️ *ادھورے کام پورے ہونگے* ▪️
مولانا صلاح الدین سیفی صاحب کی ایک ویڈیو کلپ وائرل ھے جس میں وہ ایک دعا بیان فرمارھے ہیں : جو شخص صبح و شام سات مرتبہ یہ دعا پڑھے:《حسبي الله الذي لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم》 ﷲ اسکے ادھورے کام پورے فرمایئنگے خواہ پڑھنے والا سچے دل سے پڑھے یا جھوٹے دل سے پڑھے.
اس دعا کی تحقیق و حوالہ مطلوب ھے!!!
••• *باسمہ تعالی* •••
*الجواب وبہ التوفیق:*
یہ دعا امام ابوداود نے سنن ابوداود کے اندر( موقوفا) حضرت ابوالدرداء سے روایت کی ھے جسکے روات ثقہ ( معتبر ) ہیں ؛ تاہم محقق د/ شعیب الارنؤوط صاحب نے اپنی تحقیق میں لکھا ھے : کہ اسکا متن ( چاہے سچے دل سے پڑھے چاہے جھوٹے دل سے پڑھے) یہ کسی راوی کی زیادتی ھے :
💠 حدثنا يزيد بن محمد الدمشقي، قال: حدثنا عبد الرزاق بن مسلم الدمشقي - وكان من ثقات المسلمين من المتعبدين- قال: حدثنا مدرك بن سعد، قال: يزيد - شيخ ثقة - عن يونس بن ميسرة بن حَلْبَس، عن أم الدرداء، عن أبي الدرداء قال: عن أبي الدَّرداءِ، قال: مَن قال إذا أصبَحَ وإذا أمْسى: حَسْبيَ اللهُ، لا إلهَ إلَّا هو، عليه تَوكَّلتُ، وهو ربُّ العَرشِ العَظيمِ، سَبعَ مرَّاتٍ، كَفَاهُ اللهُ ما همَّه، صادِقًا كان بها أو كاذِبًا.
٭ المصدر: سنن أبي داود
٭ المجلد: 7
٭ الصفحة: 414
٭ الرقم: 5081
٭ الدرجة: رجاله ثقات، وهو موقوف، وفي متنه زيادة منكرة.
٭ الطبع: دار الرسالة العالمية، بيروت، لبنان.
🔮 *عمل اليوم والليلة* 🔮
امام ابن السنی نے عمل الیوم واللیلہ میں یہ روایت مرفوعا( نبی کریم ) سے روایت کی ھے ؛ لیکن اس میں _صادقا کان بہا او کاذبا_ کے الفاظ نہیں ہیں:
حدثني احمد بن سليمان الجرمي، حدثنا احمد بن عبد الرزاق الدمشقي، حدثني جدي عبد الرزاق بن مسلم الدمشقي، حدثنا مدرك بن سعد أبوسعد، قال: سمعت يونس بن حلبس، يقول: سمعت أمَّ الدّرداء عن أبي الدرداء ، عن النبي ﷺ، قال: مَن قال في كلِّ يومٍ حينَ يُصبِحُ وحينَ يُمْسي: حَسبيَ اللهُ لا إلهَ إلَّا هو، عليه تَوكَّلْتُ، وهو ربُّ العَرشِ العَظيمِ، سَبعَ مراتٍ، كَفاه اللهُ -عزَّ وجلَّ- ماهَمَّه من أمرِ الدُّنيا والآخِرةِ.
٭ المصدر: عمل اليوم والليلة
٭ المحدث:
٭ الصفحة: 36
٭ الرقم: 71
٭ الدرجة: صحيح
٭ الطبع: مكتبة دار البيان، دمشق، سوريا.
🕯️ *خلاصۂ کلام* 🕯️
مذکورہ دعا مستند و قابل عمل و بیان ھے ؛ تاہم سچے دل سے ہی پڑھی جائے ۔
وﷲ تعالی اعلم
✍🏻... کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*
10 فروری : 2021
Monday, July 27, 2020
قبولیت دعا کا وظیفہ
بکھرے موتی نامی کتاب کے حوالے سے مذکور ھے :
حضرت سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مسجد میں آرام کر رہا تھا، اچانک غیب سے آواز آئی، اے سعید! ان کلمات کو پڑھ کر تو جو دعاء مانگے گا اللہ تعالٰی قبول کرے گا،حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں کہ ان جملوں کے بعد میں نے جو دعاء مانگی ہے وہ قبول ہوئی ہے۔وہ کلمات یہ ہیں: اللَّهُمَّ إِنَّكَ مَلِيكٌ مُقْتَدِرٌ مَا تَشَاءُ مِنْ أَمْرٍ يَكُونُ.
《بکھرے موتی ج:١ ،ص :١٠٩》
اس كا حواله تحقيق مطلوب هے.
••• *باسمہ تعالی* •••
*الجواب وبہ التوفیق:*
حضرت سعید ابن مسیب سے یہ دعا بسند ضعیف منقول ھے؛ لیکن یہ ثابت بالحدیث نہیں ھے, یہ ان کا مجرب عمل مانتے ہوئے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
🔰 *دعا کا حوالہ*🔰
یہ دعا "مصنف ابن شیبہ" میں مذکور ھے:
حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ سَعِيدٌ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَأَنَا أَرَى أَنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ ، وَإِذَا عَلَيَّ لَيْلٌ طَوِيلٌ ، فَإِذَا لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرِي ، فَقُمْتُ فَسَمِعْتُ حَرَكَةً خَلْفِي فَفَزِعْتُ ، فَقَالَ : أَيُّهَا الْمُمْتَلِئُ قَلْبُهُ فَرْقًا ، لَا تَفْرَقْ ، وَلَا تَفْزَعْ ، وَقُلِ : *اللَّهُمَّ إِنَّكَ مَلِيكٌ مُقْتَدِرٌ مَا تَشَاءُ مِنْ أَمْرٍ يَكُونُ*، ثُمَّ سَلْ مَا بَدَا لَكَ ، قَالَ سَعِيدٌ : فَمَا سَأَلْتُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا اسْتَجَابَ لِي.
• المصدر: مصنَّف ابن ابي شيبة
• المجلد: 15
• الصفحة: 162
• الرقم: 29932
• الطبع: دار قرطبة، بيروت، لبنان.
☢️ *ایک اور وظیفہ* ☢️
مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت علی سے ایک اور دعا منقول ھے جو صحیح سند سے ثابت ھے:
حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن ربعي عن عبد الله بن شداد عن عبد الله بن جعفر قال : قال لی علی : ألا أعلمك كلمات لم أعلمها حسنا ولا حسينا ، إذا طلبت حاجة وأحببت أن تنجح فقل : *لا إله إلا الله وحده لا شريك له العلي العظيم ولا إله إلا الله وحده لا شريك له الحكيم الكريم* ثم سل حاجتك .
ترجمہ: حضرت علی سے مروی ھے: کہ جب تمکو کوئی حاجت ہو اور تم اس میں کامیاب ہونا چاہو تو یہ کلمات پڑھو: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْحَكِيمُ الْكَرِيمُ. پھر اپنی حاجت کا اللہ سے سوال کرو!
٭ المصدر: مصنف ابن ابي شيبة
٭ المجلد: 15
٭ الصفحة: 162
٭ الرقم: 29931
٭ الطبع: دار قرطبة، بيروت، لبنان.
واللّٰه تعالي اعلم
✍🏻...كتبه *محمد عدنان وقار صديقي*
27 جولائي: 2020
Sunday, May 10, 2020
دعائے جمیلہ
روایت ہیکہ ایک دن حضرت رسالت پناہؐ مسجد مدینہ منورہ میں بیٹھے تہے کہ حضرت حبرئیلؑ آئے اور کہا: یا رسول ﷲ! حق تعالی سلام فرماتا ھے اور یہ دعا جمیلہ آپ کی امت کیلیے بھیجی ھے حضور نے دریافت کیا کہ اسکا ثواب کتنا ھے ؟ جبرئیل نے کہا کہ جو اسکو پڑھے یا اپنے پاس رکھے اگر چہ اسکے گناہ مانند کفِ دریا یا مثل ریت جنگل یا موافق درختوں کے پتوں کے ہوں حق تعالی بخش دےگا اور وقتِ جان کندنی اپنے یدِقدرت سے خاتمہ بالخیر کریگا اور قبر میں ایک فرشتہ قیامت تک اس کی حفاظت کریگا اور جوکوئی پندرہویں رمضان کو روزہ کھولنے کے وقت پڑھیگا یا پڑھنانہ جانتا ہو تو اپنے ہاتھ میں رکہیگا اور گیارہ مرتبہ درود شریف " اللہم صل علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا ومولانا محمد وبارک وسلم برحمتک یا ارحم الراحمین" باوضو پڑھے گا تو ثواب بے حد پایئگا اور جو حاجت رکہتا ہو ﷲ اسکو پورا کرےگا اگر ساری عمر میں ایک دفعہ پڑھے یا اپنے پاس رکھے قیامت کے دن آسانی سے پلصراط سے گزر کر جنت میں داخل ہوگا اور جو کوئی اس دعا کو پڑھے یا اپنے پاس رکھے قیامت میں اسکا چہرہ روشن ہوگا اور وہ دعائے معروفہ یہ ہے:
یَا جَمیلُ یا ﷲ یا رقیب یا ﷲ یا عجیب یا ﷲ
یَا رؤف یا ﷲ یا معروف یا ﷲ یا لطیف یا ﷲ
یا حَنّانُ یا ﷲ یا منَّان یا ﷲ یا مجیب یا ﷲ
یا عظیمُ یا ﷲ یا دَیَّانُ یا ﷲ یَا بُرھَانُ یا ﷲ الی آخرہ .
اس دعائے جمیلہ کے فضائل کے متعلق روشنی ڈالیں کیا واقعتا اسکے حدیث میں مذکورہ فضائل وارد ہیں؟
•• *باسمہ تعالی* ••
*الجواب وبہ التوفیق:*
(طویل ترین)دُعائے جمیلہ جو آپ نے معلوم ہے، وہ کسی حدیث میں تو وارِد نہیں، نہ ان کی کوئی فضیلت ہی احادیث میں ذکر کی گئی ہے، اور جو فضائل اس کے شروع میں درج کئے گئے ہیں، ان کو صحیح سمجھنا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ یہ خالص جھوٹ ہے، اور جھوٹی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا وبالِ عظیم ہے۔ تاہم الفاظ کسی نے بڑی محنت سے جمع کیے ہیں ؛ فی نفسہ الفاظ درست ہیں ۔
مستفاد:
• نام کتاب: آپ کے مسائل اور ان کا حل
• نام مؤلف: علامہ لدھیانوی شہید
• جلد: 2
• صفحہ:286
• طبع: مکتبہ لدھیانوی کراچی۔
وﷲ تعالی اعلم
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*
16 رمضان 1441ھ
Saturday, March 28, 2020
طاعون کے وقت ذکر رسول
آج کل ہر طرف " کرونا وائرس " نامی طاعون اور وباء پھیلی ہوئی ھے لوگ اسکے علاج کے لیے دینی و دنیوی علاج خوب بیان کر رھے ہیں اسی کے متعلق ایک پوسٹ منسوب بطرف _عارف باللہ حضرت حکیم اختر صاحب نور ﷲ مرقدہ_ نشر ہورہی ھے جس میں لکہا ھے : حکیم الامت مجدد ملت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے سرور عالم کی محبت میں ایک کتاب لکھی جسکا نام " نشر الطیب فی ذکر الحبیبؐ " ہے, یہ کتاب عشقِ رسول میں ڈوبی ہوئی ھے جس سے معلوم ہوا کہ اسکا مصنف کتنا بڑا عاشقِ رسول ہے, جب حضرت تھانوی حضور کے فضائل پر اس کتاب کو لکھ رھے تہے تو اس زمانے میں قصبہ " تھاتہ بھون " میں طاعون پھیلا ہوا تہا تو جس دن کتاب لکھتے قصبے میں کوئی موت نہیں ہوتی تھی اور جس دن ناغہ ھوجاتا تہا اسی دن کئی اموات ہوجاتی تہیں, جب حضرت تہانوی کو مسلسل یہ روایت( خبر) پہونچی تو آپ روزانہ لکہنے لگے۔اور جب روزانہ سرورِ عالم کے فضائل اور آپ کی شان کو لکہنے لگے تو وہاں طاعون ختم ہوگیا ؛ لہذا درود شریف کی کثرت بلاؤں کو ٹالنے کا اکسیر نسخہ ھے اور ایک درود شریف پر دس درجے بلند ہوتے ہیں اور دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور حضور پاک سے محبت کا حق بھی ادا ہوتا ھے۔
اس مضمون کی تحقیق مطلوب ھے کہ واقعی ایسا ہوا تہا؟
••• *باسمہ تعالی* •••
*الجواب وبہ التوفیق:*
جی یہ تحریر درست ھے اور حضرت عارف باللہ حکیم اختر صاحب نورﷲ مرقدہ نے اسکا ذکر اپنے سلسلہ مواعظ " آدابِ عشقِ رسول " میں فرمایا ھے۔
÷ نام کتاب: آدابِ عشقِ رسولؐ
÷ نام مؤلف: الشيخ حكيم اخترؒ
÷ صفحة: 11
÷ طبع: كتب خانه مظهري، گلشنِ اقبال كراچي، پاكستان.
🌼 *حضرت تھانوی کے الفاظ*🌼
طاعون کاایک متبرک علاج منجملہ اور علاجوں کے ذکر نبی کریم ﷺبھی ہے اور یہ علاج تجربہ میں آیا ہے۔یعنی میں نے ایک کتاب نشرالطیب لکھی ہے حضور ﷺکے حالات میں اسکے لکھنے کے زمانہ میں خود اس قصبہ میں تھا جس میں طاعون تھا تو میں نے یہ تجربہ کیا۔جس روز اس کا کچھ حصہ لکھا جاتا تھا تو اس روز کوئی حادثہ نہیں سنا جاتا تھا۔اور جس روز ناغہ ہوجاتا تھا۔اس روز دو چار اموات سننے میں آتی تھیں ؛ ابتداء میں تو میں نے اسکو اتفاق پر محمول کیا ؛ لیکن جب کئی مرتبہ ایسا ہوا تو مجھے خیال ہوا کہ یہ حضور کے ذکر مبارک کی برکت ھے آخر میں نے یہ التزام کیا کہ روزانہ اسکا کچھ حصہ ضرور لکھ لیتا تہا۔
• نام کتاب: خطبات حکیم الامت( میلاد النبیؑ)
• نام خطیب: حضرت حکیم الامتؒ
• جلد: 5
• صفحہ: 112
• طبع: ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ, چوک فوارہ, ملتان , پاکستان۔
🌻 *نشر الطیب کی عبارت* 🌻
آج کل فتن ظاہری جیسے طاعون زلزلہ, اور گرانی و تشویشات مختلفہ کے حوادث سے عام لوگ اور فتن باطنی جیسے شیوع بدعات و الحاد , کثرت فسق و فجور سے خاص لوگ پریشان خاطر اور مشوش رہتے ہیں ایسے اوقات میں علماء امت ہمیشہ جناب رسول کی تلاوت و تالیف روایات اور نظم مدائح و معجزات اور تکثیر صلات و سلام سے توسل کرتے رہتے ہیں ؛ چنانچہ بخاری شریف کے ختم کا معمول اور حصن حصین کی تالیف اور قصیدہ بردہ تصنیف کی وجہ مشہور و معروف ھے میرے قلب پر بہی یہ بات وارد ہوئی کہ اس رسالہ میں رسولﷲ کے حالات و روایات بھی ہونگے,جابجا اسمیں درود شریف بہی لکھا ہوگا پڑھنے سننے والے بھی اسکی کثرت کرینگے ؛ کیا عجب ھے کہ حق تعالی ان تشویشات سے نجات دیں!.
پھر ذیل میں حاشیہ ھے اس میں صراحت ھے:
چنانچہ ابتداء رسالہ سے اس وقت تک کہ ربیع الثانی سنہ 1329 ھ ہے بفضلہ تعالی یہ قصبہ ہر بلا سے محفوظ ہے ( کیونکہ یہ رسالہ اب تک شائع نہیں ہوا) بالخصوص امسال تمام بلاد و امصار و قری میں طاعون کا اشتداد و امتداد رہا اکثر جگہ رمضان کے بعد سے شروع ھوا ھے اور اس وقت تک ساتواں مہینہ ھے امن نہیں ہوا ؛ مگر بفضلہ تعالی یہاں خود کچھ بھی اثر نہ ہوا, میرا یقین پہلے سے تہا کہ یہاں طاعون نہیں ہوگا ؛ مگر اب بعد مشاہدے کے ظاہر کرتا ہوں کہ وہ خیال (میرا کہ اسکی برکت ہوگی) صحیح ہوا, سو میں یہ بھی امید کرتا ہوں اگر یہ رسالہ شائع ہوا تو جہاں جہاں اسکا بطریق سنت مشغلہ ہوگا ان شاءﷲ ہر قسم کا امن و سکون میسر ہوگا, آگے ہر شخص کا اعتقاد ھے انا عند ظن عبدی بی حدیث قدسی میں ارشاد ہے۔
* نام کتاب : نشر الطیب
* نام مؤلف : حضرت تھانویؒ
* صفحہ: 7
طبع: مشتاق بُک کارنر, الکریم مارکیٹ,* اردو بازار لاھور پاکستان۔
🌷 *درود کی برکت سے دفع طاعون* 🌷
حضرت ابن ابی حجلہ حضرت ابن خطیب یبروذ سے نقل فرماتے ہیں: کہ ایک صالح مرد نے ان کو بتایا: کہ نبی کریم پر کثرت سے درود پڑھنا طاعون (پلیگ) کو دور کرتا ھے, اور ابن ابی حجلہ نے کہا: کہ یہ بات بہت مقبول اور رائج ھے, اور وہ خود اٹھتے بیٹھتے درود " اللهم صل علي محمد وعلي آل محمد صلاة تعصمنا بها من الاهوال والآفات، و تطهرنا بها من جميعالسيآت. " پڑھا کرتے تھے,
٭ نام كتاب: القول البديع
٭ نام محدث: السخاويؒ
٭ صفحة: 416
٭ طبع: مؤسسة الريان، السعودية.
💐 *ترمذی میں اشارہ* 💐
عن ابی بن کعب: كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ إذا ذهب ثُلُثَا الليلِ قام فقال يا أيُّها الناسُ اذكُروا اللهَ اذكروا اللهَ جاءتِ الراجفةُ تَتْبَعُها الرادِفَةُ جاء الموتُ بما فيه جاء الموتُ بما فيه قال أُبَيٌّ قلْتُ يا رسولَ اللهِ إِنَّي أُكْثِرُ الصلاةَ عليْكَ فكم أجعَلُ لكَ من صلاتِي فقال ما شِئْتَ قال قلتُ الربعَ قال ما شئْتَ فإِنْ زدتَّ فهو خيرٌ لكَ قلتُ النصفَ قال ما شئتَ فإِنْ زدتَّ فهو خيرٌ لكَ قال قلْتُ فالثلثينِ قال ما شئْتَ فإِنْ زدتَّ فهو خيرٌ لكَ قلتُ أجعلُ لكَ صلاتي كلَّها قال : *إذًا تُكْفَى همَّكَ ويغفرْ لكَ ذنبُكَ*.
خلاصہ: درود کی برکت سے غموم( آفتیں) ختم ہونگے اور مغفرت ہوگی۔
× الراوي: أبي بن كعبؓ
× المحدث: الترمذيؒ
× المصدر: سنن الترمذي
× المجلد : 4
× الصفحة : 245
× الرقم: 2457
×خلاصة: حسن صحيح
× طبع : دار الغرب الاسلامی,بیروت.
🥀 *بذل الماعون کی عبارت*🥀
بذل الماعون میں امام ابن حجر عسقلانی نے بہی ابن ابی حجلہ کی بات ذکر کی ھے: کہ درود کی کثرت دفع طواعین میں اکسیر ہے اور انہوں نے حضرت ابی ابن کعب کی روایت سے استدلال فرمایا ھے:
- أنَّ رجلًا قال للنبيِّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ أجعَلُ لكَ نِصفَ صلاتي … الحديثَ وفي آخرِهِ أجعلُ لَكَ صلاتي كلَّها قالَ إذًا تُكفى همَّكَ ويغفَرَ ذنبُكَ.
+ الراوي: أبي بن كعبؓ
+ المحدث: ابن حجر العسقلانيؒ
+ المصدر: بذل الماعون
+ الصفحة : 333
+ خلاصة: إسناده قوي
+ طبع: دار العاصمة، رياض.
🌹 ••• *خلاصۂ کلام* •••🌹
سوال میں معلوم کردہ پوسٹ بالکل درست ھے, نیز وباؤں کے وقت حضور اکرمؐ پر درود کثرت سے پڑھنا مؤثر ہے۔
وﷲ تعالی اعلم.
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*
28 مارچ / 2020
Wednesday, December 18, 2019
گھر کے حصول کا وظیفہ
جو لوگ ذاتی گھر کے حصول کے لیے کوشاں و ساعی ہیں ان کے لیے عمدہ مجرب وظیفہ حدیث میں وارد ھے: جب تم وضو بناؤ تو دوران وضو یہ دعا پڑھتے رہیں : *اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي ، وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي*.
اسکی برکت سے خدا تعالی وسیع گھر کا انتظام فرمادینگے۔
🔹 یہ وظیفہ "اؔبن السنی" نے «عمل الیوم واللیلہ» میں ذکر فرمایا ھے؛ البتہ سند ضعیف ھے؛ لیکن اتنا ضعف قادح نہیں ھے.
۩ اخبرنا ابوعبد الرحمن، قال حدثنا محمد بن عبد الاعلي، قال حدثنا معتمر بن سليمان،قال سمعت بن عباد بن علقمة ، قال سمعت أبا مجلز يقول: قال أَبُو مُوسَى الأشعري: ( أَتَيْتُ رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ ، فسمعته يقول: ( اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي ، وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي ) . ملخصاـ الخ.
• نام کتاب: عؔمل اليوم والليلة
• نام مؤلف: ابن السنيؒ
• صفحة : 71
• نمبر: 29
• حکم: ضعيف
• طبع: دار ابن حزم، بيروت، لبنان.
وﷲ تعالی اعلم
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی*
۱۸ دسمبر: ء۲۰۱۹
سو مرتبہ لا الہ الا ﷲ الملک الحق المبین کا ورد
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص لا الہ الاالله الملک الحق المبین کا سو مرتبہ ورد کرے گا تو خدائے عزیز و غالب اسے فقر سے پناہ دے گا ، وحشت قبر کو ختم کرے گا اور اس کو بے نیاز بنا دے گا اور وہ دروازۂ جنت پر دستک دینے والا ہوگا۔
اس وظیفہ کے متعلق کیا رائے ھے؟
•• *باسمہ تعالٰی* ••
*الجواب وبہ التوفیق:*
یہ وظیفہ حدیث میں مذکور ھے, اسکے متعلق " عؔلامہ عراقی " نے کہا : کہ اسکی سند میں ایک راوی _فضل بن غانم_ ضعیف ہیں؛ اور یہ ضعف قادح نہیں ھے لہذا اس وظیفہ کو پڑھا جاسکتا ھے۔اور اس میں مذکور فضیلت کی اللہ تبارک و تعالی سے امید لگائی جاسکتی ھے۔
۩ لا إلهَ إلا اللهُ الملكُ الحقُّ المبينُ من قالها في يومٍ مائةَ مرةٍ كان له أمانٌ من الفقرِ وأمانٌ من وحشةِ القبرِ واستجلب به الغِنَى واستقرع به بابَ الجنةِ .
٭ الراوي : علي بن أبي طالبؓ
٭ المحدث : العراقيؒ
٭ المصدر : المغني عن حمل السفار
٭ الصفحة: 313
٭ الرقم:1181
٭ خلاصة : [فيه] الفضل بن غانم ضعيف.
٭ الطبع: مكتبة طبرية، رياض.
واللہ تعالی اعلم
✍🏻••• کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔديقي*
ایک چھوٹا سا وظیفہ
چہرے پر خوبصورتی, بدن میں طاقت, نگاہ کی تیزی و حفاظت اور دماغ و ذہن کی تیزی کے لیے ایک وظیفہ روایت میں مذکور ھے : کہ جس شخص نے فجر کی نماز کے بعد تین مرتبہ یہ کلمات پڑھے :
سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔
تو ﷲ اسکو چہرے کی بدصورتی, سے محفوظ رکھےگا,بدن۔میں طاقت دےگا, نگاہ تیز ہوگی اور ذہن و دماغ کی تیزی عطا فرمایئگا۔
اس کی تخریج درکار ھے!!!
••• *باسمہ تعالی* •••
*الجواب وبہ التوفیق:*
یہ وظیفہ اور کلمات محدثین نے ذکر کیے ہیں :
🔘 *مسند احمد میں*
حدثنا یزید بن ھارون عن الحسن عن ابی کریمة، حدثنی رَجُل مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، قَالَ: " أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: ( يَا قَبِيصَةُ مَا جَاءَ بِكَ؟ ) ، قُلْتُ : كَبِرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، فَأَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مَا يَنْفَعُنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ ، قَالَ: ( يَا قَبِيصَةُ ، مَا مَرَرْتَ بِحَجَرٍ، وَلَا شَجَرٍ ، وَلَا مَدَرٍ ، إِلَّا اسْتَغْفَرَ لَكَ، يَا قَبِيصَةُ، إِذَا صَلَّيْتَ الْفَجْرَ ، فَقُلْ : سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ، تُعَافَى مِنَ الْعَمَى، وَالْجُذَامِ ، وَالْفَالِجِ ، يَا قَبِيصَةُ، قُلْ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِمَّا عِنْدَكَ ، وَأَفِضْ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ ، وَانْشُرْ عَلَيَّ رَحْمَتَكَ ، وَأَنْزِلْ عَلَيَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ ) .
اس روایت کو امام "احمد بن حنبلؒ" نے ذکر کیا ھے؛ لیکن اس کے اندر " لا حول ولا قوہ الا باللہ " کا ذکر نہیں فقط سبحان ﷲ العظیم وبحمدہ".تک مذکور ھے نیز اس روایت کی سند میں ایک راوی نامعلوم و مجہول ہیں جسکی بنا پر یہ سند ضعیف ہوجاتی ھے جیساکہ مؔحقق "شعیب الارنؤطؒ" صاحب نے لکہا ھے۔
إسناده ضعيف لابهام الراوي عن قبيصة،
٭ المصدر: مسند احمد
٭ المحدث: الامام احمد بن حنبلؒ
٭ المحقق: شعيب الأرنؤطؒ
٭ المجلد: 34
٭ الصفحة: 207
٭ الرقم: 20602
٭ الطبع: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان.
🔹 *المعجم الکبیر میں*
اس روایت کو "امام طبرانیؒ" نے _المعجم الکبیر _میں ذکر فرمایا ھے: اسکی سند میں بہی ایک راوی " نافع ابو ہرمز" ہیں جنکو ضعیف کہا گیا ھے؛ البتہ اس روایت میں سوال میں ذکر کردہ مکمل وظیفہ منقول ھے:
• نام کتاب: المعجم الکبیر
• نام محدث: طبرانیؒ
• جلد: 18
•صفحہ : 368
• نمبر: 940
• طبع: مکتبہ ابن تیمیہؒ, قاہرہ مصر۔
🌷 *مجمع الزوائد میں*
امام ہیثمیؒ نے بہی اسکو مجمع الزوائد میں طبرانیؒ کے حوالہ سے ذکر فرماکر سند کی حیثیت بہی بیان کی ھے کہ یہ ضعیف ھے:
× نام کتاب: مجمع الزوائد
× نام محدث: ہیثمیؒ
× جلد:
× صفحة: 108
× حدیث نمبر: 16979
× طبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.
☪ *عمل اليوم والليلة ميں*
اؔبن السنیؒ نے اس روایت کو دو سندوں سے کیساتھ ذکر کیا ھے:
1 پہلی روایت میں وہی نافع ابوہرمز ضعیف راوی ہیں
2)دوسری سند میں " خلیل بن مرہ" ہیں جنکو محقق دکتور عبد الرحمن کؔوثر ابن الشیخ محمد عاشق الٰہی البرنی _بلند شہری_ صاحب نے ضعیف لکہا ھے:
= نام کتاب: عمل اليوم والليلة
= نام محدث: ابن السنيؒ
= نام محقق: عبد الرحمن كوثر
= صفحة: 97
= حدیث نمبر: 134/133
= طبع:شركة دار ارقم، بيروت، لبنان.
⚠ *فائدہ*⚠
البتہ ابن السنیؒ کی کتاب کے ایک اور محقق نے ان دونوں روایات کی تحقیق کرتے ہوئے لکہا: کہ ان کی سند ضعیف جدا یعنی بہت کمزور ہے , اسکے روات میں ضعیف راوی تو ہیں لیکن ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ پر کذب کا الزام بھی ہے۔
+ مصدر: عجالة الراغب
+ المحدث: ابن السنيؒ
+ المحقق: ابو اسامة سليم عبد الهلالي
+ صفحة: 187
+ رقم: 135/134
+ طبع: دار ابن حزم، بيروت، لبنان.
( *خلاصہ کلام*)
محققین کی تحقیقات کی روشنی میں یہ بات ظاہر ھے: کہ مسند احمد کی روایت سندا ضعیف ھے؛ لہذا اس وظیفہ کو پڑھا جاسکتا ھے اور امید اس فضیلت کی لگائی جاسکتی ھے.
وﷲ تعالی اعلم
✍🏻 ...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*
Sunday, July 14, 2019
قیامت میں نجات کا وظیفہ
حضرت حماد بن ابی حنیفہؒ سے روایت ہے کہ میرے والد (امام ابو حنیفہؒ) نے خواب میں ننانوے /99 مرتبہ ﷲ رب العزت کی زیارت کی, پھر میرے والد صاحب نے اپنے دل میں سوچا: اب کی مرتبہ اگر ﷲ کی زیارت ہو تو ضرور بالضرور ﷲ تعالی سے پوچھونگا کہ یاﷲ! وہ کون سی چیز ہے جس کی وجہ سے آپ اپنے بندوں کو قیامت کے دن نجات دینگے, چنانچہ والد ماجد کو یہ شرف حاصل ہوا اور انہوں نے ﷲ تعالی سے پوچھا, ﷲ پاک نےفرمایا: جو شخص صبح و شام یہ کلمات پڑھے گا اسکو قیامت کے دن نجات دونگا,
وہ کلمات یہ ہیں:
👈🏻 سبحان الأبدي الأبد، سبحان الواحد الأحد، سبحان الفرد الصمد، سبحان رافع السماء بغير عمد، سبحان من بسط الأرض على ماء جمد، سبحان من خلق الخلق فأحصاهم عدد، سبحان من قسم الرزق ولم ينس أحد، سبحان الذي لم يتخذ صاحبة ولا ولدا، سبحان الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد.
کیا واقعتا ان کلمات کو پڑھنے سے اخروی نجات ہوگی؟؟
🔘 *باسمہ تعالی*🔘
*الجواب وبہ التوفیق:*
یہ واقعہ چند کتب میں مذکور ہے؛ لیکن اسکی کوئی سند وہاں مذکور نہیں نیز خواب میں بتایا گیا وظیفہ بہی حجت نہیں کہ اسکی یہ فضیلت تسلیم کی جائے۔ کیونکہ غیر نبی کے خواب دلیل نہیں ہواکرتے ۔
المصدر: فتاوی دینیہ
المؤلف: مفتی اسماعیل کچھولوی
المجلد:1
الصفحہ:111
الناشر: محمود بشیر راندیری
📖 *واقعہ کی عبارت*
♦قال الحصكفي في الدر المختار:
ورأى ربه في المنام مائة مرة ، ولها قصة مشهورة .
وقال ابؔن عابدين الشامي تحته:
( قوله : ولها ) أي لرؤيته ربه تعالى في المنام قصة مشهورة ذكرها الحافظ النجم الغيطي .
وهي أن الإمام رضي الله عنه قال : رأيت رب العزة في المنام تسعا وتسعين مرة فقلت في نفسي إن رأيته تمام المائة لأسألنه : بم ينجو الخلائق من عذابه يوم القيامة . قال : فرأيته سبحانه وتعالى فقلت : يا رب عز جارك وجل ثناؤك وتقدست أسماؤك ، بم ينجو عبادك يوم القيامة من عذابك ؟ فقال سبحانه وتعالى : من قال بعد الغداة والعشي : سبحان الأبدي الأبد ، سبحان الواحد الأحد ، سبحان الفرد الصمد ، سبحان رافع السماء بلا عمد ، سبحان من بسط الأرض على ماء جمد ، سبحان من خلق الخلق فأحصاهم عدد ، سبحان من قسم الرزق ولم ينس أحد ، سبحان الذي لم يتخذ صاحبة ولا ولد ، سبحان الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد ، نجا من عذابي . ا هـ . ط .
1⃣ المصدر:الدر مع الرد المحتار
المؤلف: الحصكفي و الشامي
المجلد: 1
الصفحة:144
الطبع: دار عالم الكتب الرياض، السعودية.
2⃣ المصدر:نورالايضاح(محشي)
الصفحة: 4
الطبع: مكتبة رحمانيه، لاهور باكستان. ومكتبة بلال، ديوبند.
3⃣ المصدر: الخیرات الحسان
المؤلف :ابن حجر الہیتمیؒ
الصفحة:73
الطبع :مطبع السعادة، مصر
🔰 *دوسرا واقعہ*
بعینہ اسی طرح کا واقعہ علامہ دؔمیریؒ نے اپنی کتاب " «حیاة الحیوان» " میں بہی ذکر کیا ہے؛ لیکن وہ واقعہ امام احمد بن حنبلؒ کی جانب منسوب کیا ہے,
💡وروى الإمام أحمد بن حنبل رضي الله تعالى عنه، أنه رأى رب العزة في المنام تسعا وتسعين مرة، فقال: إن رأيته تمام المائة لأسألنه، فرآه تمام المائة فسأله وقال: يا رب بماذا ينجو العباد يوم القيامة؟ فقال له: من قال كل يوم، بكرة وعشيا، ثلاث مرات سبحان الأبدي الأبد، سبحان الواحد الأحد، سبحان الفرد الصمد، سبحان من رفع السماء بغير عمد، سبحان من بسط الأرض على ماء جمد، سبحانه لم يتخذ صاحبة ولا ولدا، سبحانه لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد.
المصدر: حیاة الحیوان
المؤلف: كمال الدين الدمیری
المجلد:1
الصفحة: 58
الطبع: دار الکتب العلمیة، بیروت لبنان.
🔅 •••_*خلاصہ کلام*_ •••
دونوں واقعات میں جو وظیفہ و کلمات مذکور ہیں ان کی وہ فضیلت معتبر نہیں؛ البتہ کلمات فی نفسہ درست ہیں کوئی ان کو پڑھے تو غلط نہیں ۔
والله تعالي اعلم
✍🏻.... كتبه:« *محمد عدنان وقار صديقي* »
Sunday, June 23, 2019
دنیا میں جنت دیکہنے کا مجرب عمل
ایک دعا عام طور پر مشہور کی جاتی ھے کہ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جس آدمی نے روزانہ ( بلا ناغہ) ایک مرتبہ یہ کلمات ( جو آئیندہ آئینگے) بطور وظیفہ کے پڑھے, وہ آدمی مرے گا نہیں یہاں تک کہ جنت میں اپنا مکان دیکھ لے یا اسے دکھا دیا جائے . وہ دعائیہ کلمات مبارکہ یہ ہیں:
👈🏻 سُبْحَانَ الْقَائِمِ الدَّائِمِ , سُبْحَانَ الْحَيِّ الْقَيُّومِ ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لا يَمُوتُ ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَلِيِّ الأَعْلَى ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى .
کیا اس وظیفہ کو معتبر مانا جاسکتا ھے؟!!!
٭ *باسمه تعالي*٭
*الجواب وبه التوفيق*
یہ وظیفہ اور دعائیہ کلمات انہی الفاظ میں " تاریخ ابن عساکر" میں مذکور ہے ۔
📕 أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمَزْرَفِيِّ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْمُهْتَدِي ، نَبَّأَنَا عَمْرُو بْنُ أَحْمَدَ أَيُّوبُ بْنُ شَاهِينَ ، نَبَّأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَبَّأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ شَاكِرٍ ، نَبَّأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ , يَعْنِي الْغَسَّانِيَّ ، نَبَّأَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ الْحَرَشِيُّ ، عَنْ *أَبَانٍ* ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً : سُبْحَانَ الْقَائِمِ الدَّائِمِ , سُبْحَانَ الْحَيِّ الْقَيُّومِ ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لا يَمُوتُ ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَلِيِّ الأَعْلَى ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى ، لَمْ يَمُتْ حتى يَرَى مَكَانَهُ مِنَ الْجَنَّةِ أَوْ يُرَى لَهُ " ،
المصدر: تاریخ دمشق( ابن عساکر)
المؤلف: ابن عساکرؒ
المجلد:12
الصفحہ:247
الطبع: دار الفکر, بیروت, لبنان.
💡 *روایت کی حیثیت*
اس روایت کی سند میں ایک راوی" ابان" ہیں جنکو روایت حدیث کے باب میں غیر معتبر اور متروک کہا گیا ہے ؛ لہذا مذکورہ دعا کی فضیلت مستند نہ مانی جائے.
♦ _*أبان ابن ابی عیاش*_
قال احمد بن حنبل: متروک الحدیث , ترکه الناس حدیثه منذ دھر۔
قال ابن معین: لیس حدیثه بشیئ
وقال البخاری: کان شعبة سیئ الرائ فیه۔
المصدر: تهذيب التهذيب
المؤلف: ابن حجر العسقلانيؒ
المجلد: 1
الصفحة:98
الطبع: دار الكتاب الاسلامي، قاهرة، مصر.
📖 *تهذيب الكمال ميں*
وقال أبو طالب أحمد بن حميد: سمعت أحمد بن حنبل يقول: لا يكتب عن أبان بن أبي عياش. قلت: كان له هوى؟
قال: كان منكر الحديث.
وقال معاوية بن صالح، عن يحيى بن معين: ضعيف.
وقال أبو بكر بن أبي خيثمة، عن يحيى: ليس حديثه بشئ.
وقال عباس الدوري، عن يحيى: قال لي عفان: قال لي أبو عوانة: جمعت أحاديث الحسن عن الناس، ثم أتيت بها أبان ابن أبي عياش، فحدثني بها، قال يحيى: وأبان متروك الحديث.
المصدر: تهذيب الكمال
المؤلف:ابو الحجاج يوسف المزي
المجلد:2
الصفحة:19
الطبع: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان.
《 *خلاصة الكلام*》
یہ وظیفہ اپنے الفاظ و معانی کے اعتبار سے درست ھے یعنی کوئی اگر بطور دعا کے ان کو پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے؛ تاہم اسکی نسبت اور اس میں مذکورہ فضیلت کا اعتبار نہ کرے۔
والله تعاليٰ اعلم
✍🏻 ... _كتبه_ *محمد عدنان وقار صديقي*