Showing posts with label Masail مسائل فتوی. Show all posts
Showing posts with label Masail مسائل فتوی. Show all posts

Saturday, February 17, 2024

امام ابن قیم پر ایک الزام

 ▪️ *امام ابن قیم پر ایک الزام* ▪️


  میں نے ایک شیعہ ویب سائٹ پر تحریر دیکھی جس میں امام ابن قیم پر وہ الزام لگا رہے ہیں کہ امام موصوف کی فقہ کے تناظر میں ایسی خواتین کو جنکے شوہر نہ ہوں اور ان پر شہوت کا غلبہ ہو مصنوعی آلۂ تناسل سے استفادہ کرنے کی اجازت ہے اور شیعہ مزید لکھتے ہیں کہ کیا یہی ہے خالص اسلام یا یہ اسلام بنی امیہ یا ابن تیمیہ کے پیروکاروں کا اسلام ہے؟



 اس الزام کی کیا حقیقت ہے!!!



••• *باسمہ تعالی* •••

*الجواب وبہ التوفیق:* 


  شیعہ حضرات کا شیوہ یہی رہا ہے کہ کسی بھی طرح وہ امت میں انتشار و افتراق کی آگ کو ہوا دیتے رہیں ؛ مذکورہ بالا مسئلے میں اگر غور کیا جائے تو یہ مسئلہ امام ابن القیم نے بدائع الفوائد میں ذکر کیا ہے اور انہوں نے کسی کی یہ رائے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ رائے صحیح نہیں ؛ اب شیعہ حضرات خود بتایئں کہ جب امام ابن القیم اس بات کو غیر صحیح کہہ رہے ہیں تو ان پر اس کے کہنے کا الزام کس طرح عائد ہوسکتا ہے؛ بیان الفوائد کی عبارت درج ذیل ہے:


🔘 *بیان الفوائد* 🔘



 وإن كانت امرأة، لا زوج لها واشتدت غلمتها، فقال بعض أصحابنا: يجوز لها اتخاذ الاكرنبج (وهو شيء يعمل من جلود على صورة الذكر) فتستدخله المرأة أو ما أشبه ذلك من قثاء وقرع صغار، والصحيح عندي: أنه لا يباح؛ لأنّ النبي إنما أرشد صاحب الشهوة إذا عجز عن الزواج إلى الصوم، ولو كان هناك معنيً غيره لذكره.



÷ ترجمہ ÷ اگر کوئی ایسی خاتون ہو جسکا شوہر نہ ہو اور اسکی شہوت ناقابل برداشت ہو تو ہمارے بعض اصحاب یہ تدبیر بتاتے ہیں کہ وہ مصنوعی آلے کی مدد سے خواہش کی تکمیل کرلیوے ۔امام ابن القیم فرماتے ہیں: کہ صحیح یہ ہے کہ یہ طریقہ درست نہیں ؛ کیونکہ حدیث میں تو شہوت کے زور کو توڑنے کا علاج روزہ بتایا گیا ہے لہذا اگر روزے کے علاوہ بھی کوئی اور طریقہ ہوتا تو وہ صاحب شریعت کی جانب سے ضرور بتادیا جاتا ۔


٭ المصدر: بيان الفوائد

٭ المصنف: الإمام ابن القيم

٭ المجلد: 4

٭ الصفحة: 1471

٭ الطبع: دار عالم الفوائد، مكة المكرمة.


🔅 *اصل بات کیا ہے* 🔅


  امام ابن القیم پر شیعوں کا الزام صحیح نہیں ھے ؛ البتہ اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس نکاح کی کوئی صورت نہ ہو یا وہ شادی شدہ تو ہو لیکن بیوی کے قریب جانے کی صورت نہ نظر آتی ہو مثلا: بیرون ملک میں مقیم ہو اور چھٹی سے قبل گھر واپس آنا ممکن نہ ہو یا جیل میں قید ہو اور پر شہوت کا اس قدر غلبہ ہو کہ روزہ رکھنے سے بھی شہوت کا خمار نہ اتر رہا ہو اور اسکے لیے زنا میں پڑنے کا خطرہ ہو تو ایسا شخص اگر شہوت کے ازالے کے لیے زنا کی جگہ مشت زنی کرلے تو اھون البلیتین کے پیش نظر ایسا کرنے کی اجازت ہوگی اور یہ بات عقل و نقل کے بالکل موافق ہے  

فقہ کا ایک اصول اور ضابطہ ہے ،اورسخت مجبوری میں بسا اوقات اس کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش ہوتی ہے؛ البتہ یہ قاعدہ ایک روایت کی خوشبو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے یعنی اس قاعدے کو حدیث کی تائید حاصل ہے یہ مجبوری و اضطرار کے وقت کی بات ھے 



♦️ *الأشباہ والنظائر* ♦️



الرَّابِعَةُ: [إذَا تَعَارَضَ مَفْسَدَتَانِ رُوعِيَ أَعْظَمُهُمَا ضَرَرًا بِارْتِكَابِ أَخَفِّهِمَا]


نَشَأَتْ مِنْ هَذِهِ الْقَاعِدَةِ قَاعِدَةٌ رَابِعَةٌ، 

وَهِيَ مَا:


إذَا تَعَارَضَ مَفْسَدَتَانِ رُوعِيَ أَعْظَمُهُمَا ضَرَرًا بِارْتِكَابِ أَخَفِّهِمَا".


قَالَ الزَّيْلَعِيُّؒ فِي بَابِ شُرُوطِ الصَّلَاةِ: ثُمَّ الْأَصْلُ فِي  جِنْسِ هَذِهِ الْمَسَائِلِ أَنَّ مَنْ اُبْتُلِيَ بِبَلِيَّتَيْنِ، وَهُمَا مُتَسَاوِيَتَانِ يَأْخُذُ بِأَيَّتِهِمَا شَاءَ، وَإِنْ اخْتَلَفَا يَخْتَارُ أَهْوَنَهُمَا؛ لِأَنَّ مُبَاشَرَةَ الْحَرَامِ لَا تَجُوزُ إلَّا لِلضَّرُورَةِ وَلَا ضَرُورَةَ فِي حَقِّ الزِّيَادَةِ.


مِثَالُهُ: رَجُلٌ عَلَيْهِ جُرْحٌ لَوْ سَجَدَ سَالَ جُرْحُهُ، وَإِنْ  لَمْ يَسْجُدْ لَمْ يَسِلْ، فَإِنَّهُ يُصَلِّي قَاعِدًا يُومِئُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛ لِأَنَّ تَرْكَ السُّجُودِ أَهْوَنُ مِنْ الصَّلَاةِ مَعَ الْحَدَثِ.


أَلَا تَرَى أَنَّ تَرْكَ السُّجُودِ جَائِزٌ حَالَةَ الِاخْتِيَارِ فِي التَّطَوُّعِ عَلَى الدَّابَّةِ، وَمَعَ الْحَدَثِ لَا يَجُوزُ بِحَالٍ. ... اھ


*خلاصہ* 


امام زیلعیؒ نے فرمایا: اگر کسی کے سامنے خرابیاں ہیں یا دو مصیبتیں ہیں تو دیکھے اگر دونوں کا نقصان و مضرت برابر ھے تو پھر جو چاہے اختیار کرلے ؛ لیکن اگر ایک کا نقصان زیادہ ھے اور دوسری کا کم ھے تو پھر عقلا و شرعا کم نقصان والی مصیبت کو اختیار کرلیا جائے گا ؛ کیونکہ مجبوری ھے

اور یہ حالت اضطرار ہے اور اس حالت میں اگر حرام کا ارتکاب ہوا تو گنجائش کا پہلو نکلتا ھے


مثال کے طور پر ایک شخص ہے اسکو ایسا زخم ھے کہ سجدہ کرتے وقت اس سے خون رِس رہا ھے اور اگر سجدہ نہ کرے ت

 و خون نہیں بہتا ھے تو اب دو صورتیں ہیں یا تو خون بہتا رھے اور یہ سجدہ کرے یا نماز میں رکوع و سجدہ اشارے سے کرلیوے اور خون کو نہ بہنے دے تو اب ہم اسکو یہ مسئلہ بتایںگے کہ بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے ؛ کیونکہ یہ صورت کم نقصان والی ھے اور خون( جس سے وضو ٹوٹے گا) کے ساتھ نماز پڑھنا زیادہ نقصان والی ھے 

اور اسکی نظیر موجود بھی ھے کہ بغیر عذر سجدہ نہ کیا جائے جیسے: سواری پر نفل نماز ہو تو سجدہ کا اشارہ جائز ھے ؛ لیکن یہ حدث یعنی خون وغیرہ کے بہتے ہوئے حالت اضطرار کے علاوہ میں سجدہ کی گنجائش تک نہیں نہ فرض میں نہ نفل میں۔ 

(*اسی طرح زنا اور مشت زنی دونوں ہی مصیبت ہیں لیکن اگر واقعتا زنا میں پڑجانے کا خوف و خطر ہو تو ایسی صورت میں مشت زنی ایک راستہ ہوگا ؛ لیکن اس کی عادت نہ بنالی جائے ؛ کیونکہ یہ طریقہ فقط شہوت کے غلبے کو توڑنے کے لیے بقدر ضرورت ہے*



٭ المصدر: الأشباه والنظائر

٭ المؤلف: الإمام ابن نؔجيم المصريؒ

٭ الصفحة: 76

٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.




🔘 *المقاصد الحسنة* 🔘



 حديث: "من ابتُلِي ببَلِيَّتَين فليخترْ أسهلَهما".


يُستأنس له بقول عائشة :


 "مَا خُيِّر النَّبيُّ ﷺ بين أَمرين إلَّا اختار أَيسرَهما ما لم يكن إثمًا".


٭ المصدر: المقاصد الحسنة

٭ المحدث: الإمام السخاويؒ

٭ الصفحة: 629

٭ الرقم: 1077

٭ الطبع: دار الكتاب العربي، بيروت، لبنان.



🔰 *صحيح البخاري* 🔰


حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشةؓ: أنها قالت: ما خُيِّرَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بيْنَ أمْرَيْنِ قَطُّ إلَّا أخَذَ أيْسَرَهُمَا، ما لَمْ يَكُنْ إثْمًا، فإنْ كانَ إثْمًا كانَ أبْعَدَ النَّاسِ منه، وما انْتَقَمَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ لِنَفْسِهِ في شيءٍ قَطُّ، إلَّا أنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ بهَا لِلَّهِ.


★ المصدر: صحيح البخاري

★ المجلد: 2

★ الصفحة: 1721

★ الرقم: 6126

★ الطبع: الطاف اينڈ سنز، کراچی، پاکستان.



❇️ *فقہ حنبلی و حنفی کی عبارات* ❇️ 


امام ابن قدامہ حنبلی نے الکافی میں لکھا کہ زنا کے خدشے کی وجہ سے اگر کوئی مشت زنی کا ارتکاب کرلیوے تو یہ ضرورت کے تحت حد اباحت میں آئے گا:



ويحرم الاستمناء باليد، لأنها مباشرة تفضي إلي قطع النسل، فحرمت كاللواط، ولا حد فيه، لأنه لا إيلاج فيه، فإن خشي الزنا أبيح له؛  لأنه يروي عن جماعة من الصحابة رضي الله عنهم.


• المصدر: الكافي في فقه الإمام أحمد بن حنبل

• المصنف: شيخ الإسلام ابن قدامة المقدسي

• المجلد: 4

• الصفحة: 93

• الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.



🔰 *شرح منتهي الإدارات* 🔰



شیخ منصور بن یونس بہوتی نے شاندار تفصیل لکھی ہے کہ جو مرد بغیر ضرورت مشت زنی کا مرتکب ہوا تو اس نے حرام فعل کیا اور اسلامی قلمرو میں اسکو تعزیر کی جائے گی ؛ لیکن اگر زنا میں پڑنے کا قوی اندیشہ تہا یا ہم جنس پرستی کی جانب میلان ہوگیا تہا تو اب وہ مشت زنی کرنے میں سزا سے باز رکھا جائے گا یعنی مشت زنی فی نفسہ ناجائز عمل ہے البتہ کسی کو نکاح کرنے کی قدرت ہی نہ ہو تو یہ حالت مستثنی ہے نیز *یہی بات خاتون کے لیے بھی ہے کہ اسکے لیے بھی خود تلذذی جائز نہیں ہے البتہ اگر ایسی خاتون ہو کہ کوئی اس سے نکاح ہی نہیں کر رہا ھے اور خاتون کو شہوت کا غلبہ ھے اور ڈر ہے کہ زنا کا ارتکاب ہوجائے تو پھر خود لذتی کی اجازت ہوگی*



★ المصدر: شرح منتهي الإدارات

★ المصنف: الإمام البهوتي

★ الصفحة: 229

★ الطبع: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان.


♦️ *الدر المختار مع رد المحتار* ♦️


امام احمد اور امام شافعی رحمہما اللہ کے قول قدیم میں تو اگرچہ رخصت تھی مگر قول جدید یعنی دوسرا محقق قول حرام ہونے کا ہے, اگر کسی پر شہوت کا غلبہ بہت ہو جائے اور قضاء شہوت کے لیے بیوی نہ ہو یا پاس نہ ہو اور زنا میں ابتلا کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں گنجائش ہے یعنی جو وعید مشت زنی کے سلسلہ میں وارد ہے اس وعید کا وہ شخص مستحق نہ ہوگا۔ 



"وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» ولو خاف الزنى، يُرجى أن لا وبال عليه.


(قوله: وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد ، لكن هذا إذا لم ينزل، أما إذا أنزل فعليه القضاء، كما سيصرح به وهو المختار، كما يأتي لكن المتبادر من كلامه الإنزال بقرينة ما بعده فيكون على خلاف المختار 


(قوله: ولو خاف الزنى إلخ) الظاهر: أنه غير قيد، بل لو تعين الخلاص من الزنى به، وجب؛ لأنه أخف،

 وعبارة الفتح: فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب اهـ

 زاد في معراج الدراية: وعن أحمد والشافعي في القديم الترخص فيه، وفي الجديد يحرم،


ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته اهـ

 وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة: أنه يكره، ولعل المراد به كراهة التنزيه، فلا ينا  في قول المعراج، يجوز، تأمل!


 وفي السراجع:  إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر،


قال أبو الليث: أرجو أن لا وبال عليه، وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم اهـ"



٭ المصدر: الدر المختار مع رد المحتار (باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده) 

٭ المجلد: 3

٭ الصفحة: 371

٭ الطبع: دار عالم الكتب، الرياض، السعودية.



☸️ *الفقه علي المذاهب الأربعة* ☸️


امام عبد الرحمن الجزیری کہتے ہیں: حنبلیوں کے یہاں بھی بحالت اضطرار خود لذتی کی جانب جانا یہ قول قوی نہیں ( یعنی شہوانی ہیجان کو دور کرنے کے لیے دیگر جائز طرق کو زیر عمل لایا جائے گا مثلا: ادویہ کے ذریعے یا نکاح کے ذریعے ہی )



وقالوا: لوكان الاستمناء باليد مباحا في الشرع، لأرشد إليه الرسول صلي الله عليه وسلم؛  لأنه أسهل من الصوم، ولكن عدم ذكره دلّ علي تحريمه، قال صاحب كتاب " سبل السلام " قد أباح الاستمناء بعض الحنابلة، وبعض علماء الحنفية - إذا خاف علي نفسه في الوقوع في الزنا- وهو رأي ضعيف، لايعتد به.


⚂ المصدر: الفقه علي المذاهب الاربعة

‌⚂ المصنف: عبد الرحمن الجزيري

⚂ المجلد: 4

⚂ الصفحة: 137

⚂ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.




⚠️ *خلاصۂ کلام* ⚠️


  امام ابن القیمؒ یا فقہ حنبلی وغیرہ کی رو سے اگر مشت زنی یا عورت کی خود لذتی مطلقا جائز ہوتی تب تو اہل تشیع اپنے الزام میں حق بجانب تھے ؛ لیکن فقہی کتب سے تو یہ معاملہ ظاہر ھے کہ مذکور امر کی گنجائش مجبوری اور حالت اضطرار میں ہے جبکہ محبوری میں تو قرآن کریم بھی ایسی چیزوں کی اجازت دیتا ہے جو فی نفسہ حرام ہیں : فَمَنِ ٱضۡطُرَّ فِی مَخۡمَصَةٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفࣲ لِّإِثۡمࣲ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ﴾ [المائدة ٣]

تو اگر مجبوری میں جواز و اباحت پر شیعوں کو فقہ حنبلی پر  اعتراض ہے تو یہ اعتراض قرآن کریم پر ہونا چاہئے۔!!!


⭕ *ہمارا شیعوں سے سوال* ⭕


اگر کسی شخص (مرد و زن ) کے پاس نہ تو وسائل نکاح ہوں یا وہ شادی شدہ ہوں لیکن بیوی یا شوہر سے قربت ممکن نہ ہو اور شہوت کا زور اس حد ہو کہ زنا ہی ایک آخری راستہ ہو تو آپ کے نظریۂ شیعیت کی روشنی میں ایسے شخص کے لیے کیا راہنمائی ہے؟ کیا وہ زنا کرلے یا مشت زنی کرے یا وہ ( خاتون )  مصنوعی آلۂ تناسل سے یا اپنی انگشت سے فشار شہوت ختم کرے ؟


اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ اس بارے میں شریعت کا کوئی حکم موجود نہیں تو یہ آپ کی کم علمی ہوگی ؛ کیونکہ قرآن تو کہتا ہے کہ اس کتاب مقدس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے : ﴿وَنزلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ﴾ [ النحل/ 89] 


اور اگر آپ یہ کہیں کہ ہم اس بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں یہ بھی درست موقف نہ ہوگا ؛ کیونکہ قرآن تو زور دے رہا ہے کہ کتاب کا علم رکہنے والے علماء مستفتی کو جواب ضرور دیں : وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ (187)


اور اگر شیعہ علماء یہ جواب اختیار کریں کہ ایسا شخص زنا ہی کرلیوے تو پھر بات ہی ختم ؛ کیونکہ صاف زندقہ اور گمراہی ھے ؛ عقل و نقل اجماع وغیرہ سب کے خلاف ھے 


اور اگر آپ بھی وہی راہ منتخب کرتے ہیں کہ زنا کی بجائے اھون طریقہ اختیار کرلیا جائے کہ مرد مشت زنی اور خاتون خود لذتی کے ذریعے شہوانی ہیجان کا دفعیہ کرلے تو پھر آپ کو اعتراض کس بات پر ہے ؟



وﷲ تعالی اعلم

✍🏻... کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی* 

17 فروری، 2024؁ء

Friday, September 17, 2021

ازواج مطہرات کی عدت

▪️ *ازواج مطہراتؓ کی عدت* ▪️ 

 کیا حضور کریمؐ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد باحیات ازواج مطہراتؓ نے عدت کی تہی یا نہیں ؟ 

 ••• *باسمہ تعالی* ••• 
*الجواب وبہ التوفیق*:

 اس بارے میں دونوں طرح کی رائے ہیں ؛ لیکن امام قرطبیؒ نے سورہ احزاب آیت نمبر: 53 کی تفسیر میں عدت کے نہ ہونے کو راجح اور صحیح قرار دیا ھے: 

 🏷️ *تفسير القرطبي* 🏷️

 الرابعة عشرة - اختلف العلماء في أزواج النبي صلى الله عليه وسلم بعد موته، هل بقين أزواجا أم زال النكاح بالموت، وإذا زال النكاح بالموت فهل عليهن عدة أم لا؟ فقيل: عليهن العدة، لأنه توفي عنهن، والعدة عبادة. وقيل: لا عدة عليهن، لأنها مدة تربص لا ينتظر بها الإباحة. وهو الصحيح، لقوله عليه السلام: (ما تركت بعد نفقة عيالي) وروي (أهلي) وهذا أسم خاص بالزوجية، فأبقى عليهن النفقة والسكنى مدة حياتهن لكونهن نساءه، وحرمن على غيره، وهذا هو معنى بقاء النكاح. وإنما جعل الموت في حقه عليه السلام لهن بمنزلة المغيب في حق غيره، لكونهن أزواجا له في الآخرة قطعا بخلاف سائر الناس، لان الرجل لا يعلم كونه مع أهله في دار واحدة، فربما كان أحدهما في الجنة والآخر في النار، فبهذا انقطع السبب في حق الخلق وبقي في حق النبي صلى الله عليه وسلم وقد قال عليه السلام: (زوجاتي في الدنيا هن زوجاتي في الآخرة). وقال عليه السلام م: (كل سبب ونسب ينقطع إلا سببي ونسبي فإنه باق إلى يوم القيامة). 

 ( المصدر: تفسير القرطبي 
( المجلد: 17 
( الصفحة: 210 
( الطبع: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان.

 *احکام القرآن* 

 اسی طرح کی بات امام ابوبکر ابن العربیؒ نے سورة احزاب آيت: 53 كے تحت احکام القرآن میں لکھی ھے: 

 ٭ المصدر: أحكام القرآن 
٭ المفسر: الإمام ابوبكر محمد بن عبد الله ابن العربيؒ 
 ٭ المجلد:3 
٭ الصفحة: 617 
٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان. 

 🔖 *طبقات ابن سعد* 🔖

 امام محمد بن سعدؒ نے طبقات میں تین اثر ذکر کیے ہیں جن کے راوی محمد بن عمر واقدیؒ ہیں وہ اثر مرجوح ہیں؛ ممکن ھے کہ ازواج مطہرات نے اس غمناک حالت میں زیب و زینت ترک کردی ہو اور راوی نے اسکو عدت سے تعبیر کردیا ہو:

 *ذكر عدد أزواج النبي صلى الله عليه وسلم*

 أخبرنا محمد بن عمر حدثني بن أبي سبرة عن عمرو بن سليم عن عروة بن الزبير أنه سأله هل اعتد نساء رسول الله بعد وفاته فقال نعم اعتددن أربعة أشهر وعشرا فقلت يا أبا عبد الله ولم يعتددن وهن لا يحللن لاحد من العالمين وإنما تكون العدة للاستبراء فغضب عروة وقال لعلك ذهبت إلى قوله يا نساء النبي لستن كأحد من النساء أما العدة فإنما عملن بالكتاب .


 أخبرنا محمد بن عمر حدثني بن أبي سبرة عن عمر بن عبد الله العنسي قال حدثني جعفر بن عبد الله بن أبي الحكم قال حد نساء رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعة أشهر وعشرا وكن يزور بعضهن بعضا ولا يبتن عن بيوتهن ولقد تعطلن حتى كأنهن رواهب وما كان يمر بهن يوم أو اثنان أو ثلاثة إلا وكل امرأة منهن يسمع نشيجها. 


 أخبرنا محمد بن عمر عن بن أبي سبرة عن عمر بن عبد الله العنسي قال سألت عكرمة عن نساء رسول الله صلى الله عليه وسلم هل اعتددن فقال ما طلق امرأة منهن مدخولا بها إلا اعتدت ثلاث حيضات ثم يقول اعتدت الكلابية ثلاث حيض واعتدت سودة حين راجعها في أول حيضة قبل أن تطهر واعتد نساؤه في الوفاة بعده أربعة أشهر وعشرا. 

 • المصدر: كتاب الطبقات الكبير 
• المؤلف: محمد بن سعد الزهريؒ 
• المجلد: 10 
• الصفحة: 210 
• الطبع: مكتبة الخانجي، قاهرة، مصر.

 والله تعالي اعلم

 ✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صؔديقي*

 17 ستمبر، 2021

Thursday, September 9, 2021

کیا حنفی لوگ دیگر مسالک والوں کے نزدیک حیوانوں سے بھی بدتر ہیں

▪️ *کیا حنفی لوگ دیگر مسالک والوں کے نزدیک حیوانوں سے بھی بدتر ہیں؟*▪️

 مفتی صاحب مجھ سے ایک شیعہ نے کہا ھے: کہ تم حنفی لوگ امام شافعی کے ماننے والوں کے نزدیک جانوروں سے بھی بدتر ہو ؛ اس نے کہا: کہ شوافع سے اگر فتوی معلوم کروگے کہ اگر کھانے پینے کی چیز میں نبیذ گر جائے تو اسکا کیا کریں؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس کھانے کو کسی کتے یا حنفی کو ڈال دو ؛ کیونکہ احناف نبیذ کو حلال کہتے ہیں جبکہ امام شافعی حرام کہتے ہیں۔ 

مجھے اس بات کی تحقیق مطلوب ھے!!! 

 ••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق:*

 ہماری معلومات کے مطابق کسی بھی شافعی مفتی یا عالم کا ایسا کوئی فتوی نظروں سے نہیں گزرا ھے ؛ لہذا یہ سراسر شوافع پر الزام ھے؛ البتہ ایک کتاب میں پڑھا ھے کہ تعصب کی مثال یہ ھے کہ جیسے کسی شافعی عالم نے نبیذ کے متعلق جواب دیا کہ وہ کسی کتے یا حنفی کو کھلادو؛ کیونکہ نبیذ حنفیوں کے نزدیک حلال ھے: جبکہ صاحب کتاب نے نہ تو اس شافعی کتاب کا حوالہ درج کیا ھے نہ ہی اس کے قائل کا؛ البتہ تعصب خواہ کسی کی جانب سے بھی ہو غلط ھے ؛ لیکن کسی ایک انجان شخص کی بات نہ دلیل ھے نہ مذہب؛ اس لیے حنفیوں کے متعلق ایسی سوچ رکہنا ذہنی گمراہی ھے:

 🔖 *التعددية والحرية في الإسلام* 🔖

 وسُئل بعض المتعصبين من الشافعية عن حكم الطعام الذي وقعت عليه قطرة نبيذ؟ فقال:-عفا الله عنه- يرمى لكلب أو حنفي!.

 ٭ المصدر: التعددية والحرية في الإسلام 
٭ المؤلف: حسن بن موسي الصفار 
٭ الصفحة: 228 
٭ الطبع: مركز الحضارة لتمية الفكر الإسلامي، بيروت، لبنان.

 وﷲ تعالی اعلم

 ✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی*

 9، ستمبر:؁ 2021ء

Wednesday, September 23, 2020

قبر کو بوسہ دینا

 ••• *قبر کو بوسہ دینا* •••


 قبر کو بوسہ دینے کے متعلق ایک روایت گردش میں ھے: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ رسول اللہ علیہ السلام میں نے آستانِ جنت چومنے کی قسم کھائی تھی حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ماں کے پاوں اور باپ کی پیشانی چومے مروی ہے کہ اس نے عرض کیاکہ اگر میرے ماں باپ نہ ہوں تو فرمایا ان دونوں کی قبروں کو بوسہ دے عرض کیا کہ اگر قبریں معلوم نہ وہں تو فرمایا دو خط کھینچ اور نیت کر کہ ایک ان میں سے ماں کی قبر ہے اور دوسری باپ کی ، ان دونوں کو بوسہ دے تیری قسم اتر جائے گی۔۔


اس روایت کا حوالہ اور قبر بوسی کے مسئلہ کی تحقیق مطلوب ھے!!!!



••• *باسمہ تعالی* •••

*الجواب وبہ التوفیق:* 


 اولا ہم قبر بوسی کے عدم جواز کے متعلق فقہی عبارات پیش کرینگے:


🔷 *فتاوی قاسمیہ جلد :3, صفحہ: 143. طبع: مکتبہ اشرفیہ, دیوبند*🔷



*قبر کو بوسہ دینا*


سوال ]٦٥٤[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ کیا قبر کا بوسہ شرک ہے ؟

المستفتی: محمد رضوان الحق ، عمری کلاں، مرادآباد


*باسمہ سبحانہ تعالیٰ*

*الجواب وباللّٰہ التوفیق:*


اگر عبادت اور تعظیم کے طریقہ سے بوسہ دیتاہے تو موجب کفر اور شرک ہے اور اگر جوش محبت میں بوسہ دیتاہے تو شرک وکفر نہیں ہے؛ بلکہ گناہ کبیرہ ہے اس سے احتراز لازم ہے ۔


وکذا مایفعلونہ من تقبیل الأرض بین یدی العلماء والعظماء فحرام والفاعل والراضی بہ آثمان لانہ یشبہ عبادۃ الوثن وہل یکفر؟ إن علیٰ وجہ العبادۃ والتعظیم کفر وإن علیٰ وجہ التحیۃ لا: وصار آثما مرتکبا لکبیرۃ الخ۔


 (الدر المختار ،کتاب الخطر والإباحۃ ، باب الاستبراء کراچی۶/۳۸۳، زکریا۹/۵۵۰، تبیین الحقائق ،کتاب الکراہیۃ ، فصل فی الإستبراء وغیرہ ،کوئٹہ۶/۲۵، زکریا ۷/۵۶)


وفی الجامع الصغیر تقبیل الأرض بین یدی العظیم حرام الخ۔ 


(الفتاویٰ الہندیہ ، قدیم ۵/۳۶۹، جدید ۵/۴۲۵، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۱۳/۱۳۱)


 فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم 

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ

۲۵؍ذی الحجہ۱۴۱۱ھ

(الف فتویٰ نمبر۲۷/۲۴۹۶).



🔰 *امداد الفتاوی جدید, جلد:11. صفحہ: 455. طبع: اشرفیہ دیوبند*🔰



( *قبر کو بوسہ دینے سے متعلق شبہ کا جواب* )



سوال (۳۲۵۵) : قدیم ۵/۳۱۳-:


 ایک مسئلہ کے متعلق شبہ ہے اس کی تحقیق سے سرفراز فرماویں ۔ وہ یہ ہے کہ آنحضور نے نشر الطیب میں جواز توسل کے مقام پر روایت نقل فرمائی ہے کہ قبر شریف بھی بوجہ ملابس ہونے کے مورد رحمت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ملا بست بھی سبب ورودِ رحمت ہے جس طرح ملبوسات یعنی کپڑا وغیرہ اولیاء اللہ کا بوجہ ملابستہ قابل تقبیل ہے اور اس کا چومنا اور آنکھ سے لگانا  جائز اسی طرح مزارات اولیا اللہ بھی بوجہ ملابستہ اس کا بھی چومنا آنکھ سے لگانا جائز ہونا چاہئے حالانکہ ہمارے فقہاء علیہم الرحمۃ قبور کے بوسہ وغیرہ کو حرام فرماتے ہیں خواہ قبر کسی بزرگ کی ہو یا والدین کی اور بظاہر بوجہ ملابست بوسہ وغیرہ جائز ہونا چاہئے جیسا کہ کپڑے کا بوسہ، تحقیق اس میں کیا ہے اور ماخذ حرمت حضرات فقہاء علیہم الرحمۃ کی کونسی حدیث ہے۔ مدّلل تحریر فر ما کر عزت بخشیں ۔


*الجواب:*


 یہ ضرور نہیں کہ تمام ملابسات سب احکام میں متساوی ہوں ۔ تقبیل ثوب میں کوئی دلیل نہی کی نہیں ۔ اس لئے اباحت اصلیہ پر ہے بخلاف قبور کے کہ اس کی تقبیل پر دلیل نہی موجود ہے فافترقا۔ اور وہ دلیل نہی ہم مقلدوں کے لئے تو فقہاء کا فتویٰ ہے اور فقہاء کی دلیل تفتیش کرنے کا ہم کو حق حاصل نہیں مگر تبرّعاًکہا جاتا ہے کہ وہ دلیل مشابہت ہے نصاریٰ کی۔ کما قالہ الغزالی (۱) اور احتمال ہے افضاء الی العبادۃ کا چنانچہ قبور کو سجدہ وغیرہ کیا جاتا ہے حتیٰ کہ اگر ثوب میں کہیں ایسا احتمال ہو تو وہاں بھی یہی حکم ہوگا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کا شجرۂ حدیبیہ کو قطع کرادینا اس کی دلیل ہے(٢)۔ 

۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۱؁ ھ (تتمہ ثانیہ ص ۲۰)


_______________

(١) والمستحب في زیارۃ القبور أن یقف مستدبر القبلۃ مستقبلا بوجہہ المیت و أن یسلم ولایمسح القبر ولایمسہ ولایقبلہ فإن ذٰلک من عادۃ النصاریٰ۔


 (إحیاء علوم الدین للعلامۃ غزالي، ربح المنجیات، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، المقام الأول من المربطۃ: المشارطۃ، دار المعرفۃ بیروت ۴/۴۹۱)


قال أبو موسیٰ الحافظ الأصبہاني: قال الفقہاء الخراسانیون: لایمسح القبر ولایقبلہ ولایمسہ فإن کل ذٰلک من عادۃ النصاریٰ، قال: وما ذکروہ صحیح، وقال الزعفراني: لایستلم القبر بیدہ ولایقبلہ، قال: وعلی ہذا مضت السنۃ ومایفعلہ العوام الآن من البدع المنکرۃ شرعا۔ 


(البنایۃ، کتاب الصلاۃ، قبیل باب التشہد، مکتبہ أشرفیہ دیوبند ۳/۲۶۱- ۲۶۲)


قال الحافظ أبو موسیٰ الأصفہاني: قال الفقہاء المتبحرون الخراسانیون: ولایمسح القبر بیدہ ولایقبلہ ولایمسہ فإن ذٰلک عادۃ النصاریٰقال: وما ذکروہ صحیح … وقال الشیخ ابن تیمیہ: اتفق السلف والأئمۃ علی أن من سلم علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم أو غیرہ من الأنبیاء والصالحین فإنہ لایتمسح بالقبر ولایقبلہ بل اتفقوا أنہ لایستلم ولایقبل إلا الحجر الأسود والرکن الیماني، یستلم ولایقبل علی الصحیح۔


 (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۴۳/۳۱۲، ہندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب السادس عشر في زیارۃ القبور وقرأۃ القرآن في المقابر قدیم زکریا ۵/۳۵۱، جدید زکریا ۵/۴۰۵)


(٢) أخبرنا عبد الوہاب بن عطاء أخبرنا عبد اللہ بن عون عن نافع قال: کان الناس یأتون الشجرۃ التي یقال لہا شجرۃ الرضوان فیصلون عندہا، قال: فبلغ ذٰلک عمر بن الخطاب فأوعدہم فیہا و أمر بہا فقطعت۔ 


(الطبقات الکبریٰ لابن سعد، غزوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الحدیبیۃ، دار الکتاب العلمیۃ بیروت ۲/۷۶، دار الفکر بیروت ۱/۴۱۶)


عن نافع قال: بلغ عمر بن الخطاب أن ناسا یأتون الشجرۃ التي بویع تحتہا، قال: فأمر بہا فقطعت۔


 (المصنف لابن أبي شیبۃ، الصلاۃ، في الصلاۃ عند قبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم وإتیانہ، مؤسسۃ علوم القرآن ۵/۱۷۹، رقم: ۷۶۲۷)


ثم وجدت عند ابن سعد بإسناد صحیح عن نافع أن عمر بلغہ أن قوما یأتون الشجرۃ فیصلون عندہا فتوعدہم ثم أمر بقطعہا فقطعت۔ 


(فتح الباري، کتاب المغازي، باب غزوۃ الحدیبۃ، مکتبہ أشرفیہ دیوبند ۷/۵۶۹، تحت رقم الحدیث: ۴۱۶۵)



✳️  *فتاوی عالمگیری میں*✳️


فتاوی عالمگیری ( ہندیہ) میں ھے: کہ قبر کو بوسہ نہ دے؛ 



ولا یمسح القبر ولا یقبلہ فإن ذلک من عادة النصاری ولا بأس بتقبیل قبر والدیہ کذا في الغرائب۔


* المصدر : فتاوی عالمگیری

* المجلد: 5

* الصفحہ: 405

* الطبع: دار الفکر, بیروت, لبنان.


⚠️ *فتاوی ہندیہ کی عبارت پر اعتراض*


فتاوی ہندیہ کی عبارت جو اوپر گزری اس میں لکہا ھے: کہ "ولا باس بتقبیل قبر والدیہ". کہ والدین کی قبر کو چوما جاسکتا ھے ؟


اسکا جواب " فتاوی رشیدیہ " میں موجود ھے: 


*قبر کو بوسہ دینا*


سوال: بوسہ لینا قبر کا جائز ہے یا حرام؟


(جواب:)


بوسہ لینا قبر کا حرام ہے؛ فی المدارج و بوسہ دادن قبر راوسجدہ کردن آنر اور سر نہادن حرام و ممنوع ست و دربوسیدن قبر والدین روایت فقہی نقل میکنذ و صحیح آنست کہ لایجوز انتہی و ادنی لا یجوز گناہ صغیرہ است و اصرار برآن کبیرہ است ہکذافی شرح عین العلم۔


( ترجمہ) 


بوسہ لینا قبر کا حرام ہے، مدارج میں ہے: اور بوسہ دینا قبر کا اور اس کو سجدہ کرنا اور سر رکھنا حرام اور ممنوع ہے اور والدین کی قبروں کو بوسہ دینے میں ایک فقہی روایت نقل کرتے ہیں، اور صحیح یہ ہے کہ لا یجوز (جائز نہیں) اور لا یجوز کا ادنی گناہ، گناہ صغیرہ ہے اور اس پر ا صرار کرنا گناہ کبیرہ ہے۔


• نام کتاب: فتاوی رشیدیہ

• نام مؤلف: حضرت مفتی رشید احمد گنگوہی 

• صفحہ:154

• طبع : دار الاشاعت, اردو بازار, کراچی,پاکستان.


💠 *اعتراض کا دوسرا جواب فتاوی رحیمیہ میں*💠


*قبر کو بوسہ دینے کا کیا حکم ہے؟:*

(سوال٣٦ ) جو مضمون پہلے سوال میں نقل کیا گیا ہے ، اس کے بعد ایک عنوان ہے ۔ قبر کو بوسہ دینا اس عنوان کے تحت تحریر ہے :۔

’’کنز العباد‘‘ میں بحوالہ ’’ شعبی کرت تحریر ہے ، اپنے والدین کی قبروں کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ *نیز شعبی سے ایک روایت یہ بھی ہے ۔ ایک صحابی نے دربار رسالت میں آکر یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں ’’باب الجنہ‘‘ اور ’’حور جنت‘‘ کو بوسہ دوں گا اب مجھے یہ قسم کیسے ادا کرنی چاہئے* ۔ *حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر تو اپنے والدہ کے قدم اور والد کی جبین چوم لے تو تیری قسم ادا ہوجائے گی ۔ اس شخص نے کہا ۔ میرے والدین نہ ہوں تو کیا کروں ؟ حضورﷺ نے فرمایاان کی قبروں کو چوم لے ۔ اس نے کہا کہ ان کی قبروں کو بھی نہ جانتا ہوں تو ؟ حضورﷺ نے فرمایا کہ زمین پر دوخط کھینچ کر ایک کو والدہ کی اور دوسری کو والد کی قبر سمجھ کر دونوں خط چو م لو ۔ تیری قسم ادا ہوجائے گی۔* اس روایت کو دلیل بنا کر امام طحطاوی نے لکھا ہے کہ اس طریقہ سے استاد و مرشد کی قبر چومنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اس لئے کہ ان کا درجہ والدین سے بڑھ کرہے ۔ ’’ طوالع الا نوار‘‘شرح درمختار میں لکھا

ہے کہ قرآن مجید کے علاوہ اور اشیاء انبیاء ، شہداء اور صالحین کی قبروں کو برکت حاصل کرنے کی خاطر بوسہ دینے کے بارے میں علماء امت میں سخت اختلاف ہے


(الجواب)


صحیح یہ ہے کہ والدین کی قبر کو بوسہ دینا بھی منع ہے اور قول صحیح کو ترک کر کے قول ضعیف پر عمل کرنا مذموم ہے ۔ حضرت شاہ اسحاق محدث دہلوی کی فارسی کتاب ’’ مأۃ مسائل ‘‘ میں فتویٰ ہے کہ :۔


(سوال ۳۷) *بوسہ گرفتن قبر والدین چہ حکم دارد؟ جائز یا گناہ ؟ کدام گناہ* !


ترجمہ:۔ والدین کی قبر کو بوسہ دینا کیساہے ؟ جائز ہے یا گناہ؟ اور گناہ ہے تو کون سا ؟ 


(الجواب)


بوسہ دادن قبر والدین غیر جائز ست علے الصحیح وفی مدارج النبوہ وبوسہ دادن قبر را وسجدہ کردن آں راورخسار نہادن حرام و ممنوع است ۔ ودر بوسہ دادن قبر والدین روایت فقہی نقل می کنند وصحیح آنست کہ لایجوز ! انتہیٰ و ادنی ٰ لا یجوز گناہ صغیرہ است و اصرار برآن گناہ کبیرہ است کما تقدم !

ترجمہ:۔ صحیح یہ ہے کہ والدین کی قبر کو بھی بوسہ دینا جائز نہیں ۔’’ مدارج النبوۃ‘‘ میں ہے قبر کو چومنا سجدہ کرنا ،رخسار لگانا حرام اور ممنوع ہے اور والدین کی قبر کو بوسہ دینے میں روایت فقہی نقل کرتے ہیں ۔ حالانکہ صحیح یہ ہے کہ ناجائز ہے اور ناجائز کا ادنیٰ مرتبہ گناہ صغیرہ ہے اور اس پر اصرار گناہ کبیرہ ہے ۔


(مأۃ مسائل ص ۷۱)


رضاخانی کتاب ’’ بہارِشریعت‘‘میں ہے ۔مسئلہ ، قبر کو بوسہ دینا بعض علماء نے جائز کہا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ منع ہے(مشکوٰۃ) بہار شریعت ج ۵ ص ۱۵۷۔

مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کا فتویٰ یہ ہے کہ احادیث صحاح مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یا محتمل واقعے یا متشابہہ پیش کرتے ہیں ۔ انہیں اتنی عقل نہیں یا قصداً بے عقل بنتے ہیں کہ صحیح کے سامنے ضعیف، متعین کے آگے محتمل ، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے ۔(احکام شریعت ۱ ص ۳۴) اس بارے میں جو حدیث بیان کی گئی ہے ، حدیث کی کتابوں میں اس کا نام و نشان نہیں ہے ۔ ایسی روایت بے اصل پر بھروسہ کرنا غلط ہے اور حدیث رسول مان لینا آنحضرت ﷺ پر بہتان دھرنے کے برابر ہے ۔ آپ کا فرمان ہے کہ جو آدمی جان بوجھ کر غلط باتوں کو میری طرف منسوب کرے اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں تلاش کرے ۔ (معاذﷲ ) فقط ۔ وﷲ اعلم بالصواب۔


÷ نام کتاب : فتاوی رحیمیہ

÷ جلد :2

÷ صفحہ : 104

÷ طبع : دار الاشاعت, اردو بازار, کراچی, پاکستان.


♻️*سوال میں معلوم کردہ روایت کا ماخذ*


فتاوی رحیمیہ کے حوالے سے معلوم ہوگیا ھے کہ سوال میں معلوم کی گئ روایت کا حدیث کی کتابوں میں نام و نشان تک نہیں ھے اور واقعتا ایسا ہی ھے؛ ہم نے معمولی سی تلاش کے بعد یہ روایت شیعی کتاب میں پائی ھے: 


وعن كفاية الشعبي، وفتاوي الغرائب، ومطالب المومنين وخزانة الرواية ما هذا لفظه: لا باس بتقبيل قبر الوالدين؛ لان رجلا جاء الي النبي، فقال یارسول الله! انی حلفت ان اقبل عتبۃ باب الجنۃ وجبهة حور العين،  فامره النبی ان یقبل رجل الام  ووجبهة الاب،  قال یارسول الله ان لم یکن ابواي حيين؟ فقال:  قبل قبرھما، قال: فان لم اعرف قبرھما؟ قال: خط خطین وانو بان احدھما قبرالام والآخر قبرالاب فقبلهما! فلا تحنث فی یمینک.


٭ المصدر: كشف الارتياب في أتباع محمد بن عبد الوهاب

٭ المؤلف: محسن امين العاملي

٭ الصفحة: 440

٭ الطبع: قُم،  إيران.



وﷲ تعالی اعلم

✍🏻...کتبہ : *محمد عدنان وقار صدیقی*

23 ستمبر:2020

Sunday, February 23, 2020

امام اعظم اور زنا کا جواز

▪ *امام اعظمؒ اور زنا کا جواز*▪

احباب میں سے ایک صاحب نے استفسار کیا : کہ دار الحرب (دار الکفر) میں اگر کوئی مسلمان کسی کافرہ یا مسلمہ عورت سے زنا کرلے تو کیا یہ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ھے؟ انہوں نے اس کے متعلق امام سیوطی کی ایک عبارت ارسال فرمائی جس میں سیوطی نے صاف لکہا ھے : کہ امام اعظم نے دار الحرب میں زنا کے جواز کو کہا ہے۔ اور اس عبارت کو لیکر فقہ کے مخالفین اور امام اعظم کے ناقدین بہت شور و شغب مچارھے ہیں۔

💠 *سیوطیؒ کی عبارت* 💠

امام سیوطیؒ نے اپنی کتاب " الاکلیل فی استنباط التنزیل " میں سورہ توبہ کی آیت " ولا یطئون موطئا" کے تحت لکہا ھے: کہ اس آیت سے امام ابوحنیفہؒ نے دار الحرب میں زنا کے جواز پر استدلال کیا ھے۔

★ قوله تعالي: [ ولا يطئون موطئا] التوبة (120) الآية.
استدل بها أبوحنيفة علي جواز الزنا بنساء أهل الحرب في دار الحرب.

٭ المصدر: الإكليل في استنباط التنزيل
٭ المؤلف: جلال الدين السيوطيؒ
٭ الصفحة: 123
٭ الطبع: دار الكتاب العربي، بيروت، لبنان.

▫ *سیوطیؒ کے قول کی حقیقت* ▫

 امام اعظم ابوحنیفہؒ کی جانب دار الکفر میں مسلمان کیلیے زنا کے جواز کی نسبت کرنا درست نہیں؛ کیونکہ زنا جیسا شنیع اور گندا عمل کسی بہی ملت و مذہب میں جائز نہیں چہ جایئکہ امام اعظم جیسا مجتہد و فقیہ اسکے جواز کا حکم صادر فرمائے۔


🔰 امام شربيني نے كها كه زنا كسي بهي ملت و مذهب ميں جائز نهيں ـ

※ واتفق اهل الملل علي تحريمه،وهو من افحش الكبائر، ولم يحل في ملة قط، ولهذا كان حده اشد الحدود؛ لانه جناية علي الاعراض والانساب.

٭ المصدر: الإقناع في حل الفاظ أبي شجاع
٭ المؤلف: شمس الدين الشربيني
٭ الصفحة: 437
٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.

🌷 جب زنا کسی ملت میں جائز ہی نہیں تو امام سیوطی کا مذکورہ قول فقط سہو اور خطاء ھے؛ کیونکہ احناف کی کتب میں کہیں بہی یہ بات نہیں ملتی, نیز امام جلال الدین سیوطی مسلکا شافعی ہیں اور شافعی حضرات سے بہتر احناف کے علماء اپنے امام کے مسلک سے بخوبی واقف ہیں ( کہ زنا کا جواز جو منسوب بطرف امام اعظم ہے وہ درست نہیں)

🔹 *احناف کا مسلک* 🔹

اگر ہم احناف کی کتب میں دار الحرب میں زنا کے متعلق مسئلہ دیکہیں تو وہاں یہ مذکور ھے کہ اگر کوئی مسلم دار الحرب میں کسی خاتون سے زنا کا ارتکاب کرے تو اس پر حد یعنی کنوارے پر سو کوڑے اور شادی شدہ کو رجم (سنگسار) کی سزا نہ ہوگی؛ کیونکہ دار الکفر میں مسلمان امیر المومنین کو اتھارٹی و پاور حاصل نہیں۔خواہ وہ شخص واپس آکر اقرار بہی کرلے کہ مجھ سے زنا کا صدور ہوا ہے؛ کیونکہ جب ابتداء اس سے حد ساقط ہوگئ تو اب انتہاء یہ حد دوبارہ لوٹ کر نہ آئگی ۔نیز اگر مسلم لشکر کافروں کی سرحد پر مقابلہ آرا ہو پڑاؤ ڈالے ہوئے ہو اور کوئی مسلم دار الحرب کی سرحد سے پہلے یعنی اسلامی چھاؤنی میں اس گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے اور لشکر کی کمان خلیفہ یا امیر المومنین کے ہاتھ میں نہ ہو تو فی الوقت اسکو سزا نہ ہوگی کیونکہ اس سزا دینے کا اختیار غیر خلیفہ و غیر امیر المومنین کو نہیں ھے ۔ لیکن اگر لشکر کی سربراہی خود امیر المومنین یا مسلمانوں کا خلیفہ کر رہا ہو اور اسلامی چھاؤنی میں کوئی سپاہی یہ غلط اقدام کرلے تو اسکو سزا دی جایئگی کیونکہ امیر المومنین اور خلیفہ کو سزا دینے کا حق ھے۔


* نام کتاب : البناية شرح الهداية
*  نام مؤلف: بدر الدين العينيؒ
* جلد: 6
* صفحة: 313
* طبع: دار الكتب الاسلامية بيروت،لبنان.

💎 *مزيد تفصيل فتح القدير ميں ملاحظه هو*

٭ المصدر: فتح القدير
٭ المؤلف: ابن الهمام الحنفيؒ
٭ المجلد: 5
٭ الصفحة: 254
٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.

▪ *احناف کا استدلال* ▪

احناف نے جو موقف اختیار کیا ھے کہ دار الکفر میں زانی پر حد( شرعی سزا) نافذ نہیں کی جایئگی اسکی دلیل ایک روایت ھے:

 قال عليه السلام: ‌《لا تقام الحدود في دار الحرب.

ترجمہ: آقائے کریم کا ارشاد ہے: کہ دار الحرب میں حد کا نفاذ نہ ہوگا۔

÷  نام کتاب: نصب الرایہ
÷ نام محدث: زیلعی
÷ جلد: 3
÷ صفحہ: 343
÷ حدیث نمبر: 5573
÷ الطبع:  دار القبلة للثقافة الإسلامية، جدة، السعودية.

➕ *طریقہ استدلال* ➕

سب کو معلوم ھے کہ دار الکفر میں مسلمانوں کے خلیفہ کو پاور و اختیارات حاصل نہیں ہیں تو جب ایسا ہے تو وہ کفار کے ملک میں کسی حکم شرعی کے نفاذ پر بہی طاقت نہیں رکہتا ھے تو پھر حدیث  کیوں ذکر کی گئ ؟ تو اسکا جواب یہی ھے کہ حدیث کا ذکر اسلیے ھے کہ اس زانی پر حد واجب نہ ہوگی نہ وہاں اور نہ یہاں دار الاسلام واپس آکر ۔


🔹 *دوسری حدیث*

قال ابو یوسف :حدثنا بعض أشياخنا عن مكحول عن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال: لا تقام الحدود في دار الحرب مخافة أن يلحق أهلها بالعدو.

ترجمہ) حضرت امام ابو یوسف نے اپنے کچھ اساتذہ کے حوالے سے حضرت مکحول سے انہوں نے حضرت زید بن ثابت سے روایت کیا: دار الحرب میں شرعی سزا کا نفاذ نہ ہوگا ؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجرم ( مارے خوف کے) دشمنوں سے جا ملے۔ (حوالہ بالا)


🔰  *سند پر کلام*

 اس روایت کی سند پر امام شافعی نے کلام فرمایا: کہ سند کے درمیان سے چند راوی محذوف ہیں یہ کون ہیں؟ نیز مکحول جو ہیں وہ زید بن ثابت سے کس طرح روایت کرسکتے ہیں جبکہ انہوں نے زید کو دیکہا تک نہیں!!!

💡 قال الشافعي: ومن هذا الشيخ؟ ومكحول لم ير زيد بن ثابت.

( حوالہ بالا)

☪   *اعتراض کا جواب*

مؔحقق «ابو الوفاء افغانی» نے اسکا جواب دیا ھے: کہ امام ابویوسف نے جو اپنے شیوخ و اصحاب کا تذکرہ نہیں کیا ھے وہ بطور اختصار کیا ہے ایسا نہیں ھے کہ ان کو وہ روات معلوم نہ ہوں؛ بلکہ وہ اپنے اوپر کے راویوں کو بخوبی جانتے ہیں ۔نیز حضرت مکحول کا حضرت زید کو نہ دیکہنا بھی قادح نہیں ھے ؛ کیونکہ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ لازم آتا ھے کہ سند میں انقطاع ہوگیا ھے یا سند مرسل ہوگئ ھے حالانکہ احناف کے یہاں ثقہ لوگوں کی مرسل روایت مقبول ہوتی ھے اور مکحول ثقہ ہیں امام ہیں ۔

قلت: روى أبو يوسف عمن روى عن ثور ومكحول كمحمد بن اسحاق وسفيان وعيسى والكلبي وأبي حنيفة وأضرابهم، ومن عادته أن يبهم أسماء شيوخه اختصاراً منه، وهو أعلم بشيوخه ، ولا بأس بعدم رؤية مكحول زيداً لأنه ثقة إمام؛ لأنه يرى الاحتجاج بالمرسل. والمنقطع، وإن لم يره الشافعي رحمه الله، فمذهبه فيه لا يكون قدوة له.

• المصدر: الرد علي سير الأوزاعي
• المؤلف: الامام أبويوسفؒ
• المحقق: أبو الوفا الأفغاني
• الصفحة: 82
• الطبع: لجنة إحياء المعارف النعمانية، حيدر آباد، الهند.

⚠ *خلاصہ کلام*

 امام اعظم ابوحنیفہؒ کا یہ مسلک بالکل نہیں کہ دار الحرب میں زنا جائز ھے؛ لہذا امام سیوطیؒ کا قول محض سہو اور خطا ہی مانا جایئگا۔

وﷲ تعالی اعلم
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی*
۲۳ فروری ؁ء ۲۰۲۰

Friday, June 28, 2019

جمعہ رمضان عیدین میں خرچ کا حساب

▪ *جمعہ, رمضان, اور عیدین میں خرچ کا قیامت میں حساب* ▪


♦ عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ رمضان میں جو بھی چیز استعمال کی جائے مثلاً کپڑے وغیرہ خریدے جائیں یا کوئی کھانے پینے کی چیز خریدی جائے وہ سب بے حساب ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان چیزوں کا کوئی حساب وکتاب نہیں لیا جائے گا۔اسی طرح جمعہ اور عیدین کے متعلق خرچ اور کپڑوں کے متعلق مشہور ہے اس بات کی کیا اصل ہے؟


 ••• _*باسمہ تعالی*_•••
_*الجواب وبہ التوفیق*_

💡 عوام میں مشہور بات بے اصل ہے؛ ”جمعہ کے دن پہنے جانے والے نئے کپڑوں, اشیائے خورد و نوش وغیرہ کا آخرت میں کوئی حساب نہیں ہوتا“ اس سلسلے میں تلاش کے باوجود کوئی حدیث ہمیں نہیں مل سکی۔

🔰 نیز کسی بھی چیز کا بے جا استعمال جسے اسراف اور فضول خرچی کہتے ہیں یہ ہر وقت ممنوع ہے، اس میں رمضان یا جمعہ و عیدین  کی کوئی تخصیص نہیں ہے،

قال تعال: وَلاَ تُسْرِفُوْا

 نیز سورہ تکاثر کی اخیر آیت میں ہے:

ثُمَّ لَتُسْألُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْم

”پھر اس روز تم سے ضرور بالضرور پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں“

یہ آیت بھی عام ہے کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم
✍🏻... _*کتبہ*_ *محمد عدنان وقار صدیقی*

Sunday, November 12, 2017

*حضرت موسی ع کے پیٹ میں درد* مفتی عدنان وقار صدیقی قاسمی

Hadees,Huzoor Alehissalam ny farmaya banda kehta hy mera maal mra mal..3 trah ka mal uska hy jo khaya jo pehna or jo agey bhejdya baqi warisoun ka hy uska nhi..ek or Hadees bayan ki hy rawi Hazrt Hasan Basri RaziAllahu Anhu kaha gya hy..Apney amwaal ko Zakaat sy pak karo..apny bimaroun ka ilaj sadqey sy karo or jb balaen tumhari trf rukh karen to dua sy or Allah k Huzur zaari sy Allah ki madad chaho..bimar ho to pehly sadqa nikalo phr ilaj k lye jao or agey SADQA QAZA KO BADAL DETA HY TAQDEER KO BADAL DETA HY..is k bad Hazrat Moosa Alehissalam ka jari booti wala waqiya hy jo Allah ny unko ilaj btaya tha phr zakat maal ko pak krti hy or akhr mein mazkoora bala 3 batoun wali hadees dohrakr ye kaha gya hy k agr ye mizaj nhi rakhogey to musibatoun pr musibaten ati rhengi
*باسمہ تعالی
*الجواب وبہ التوفیق:*
علامہ پیر ثاقب رضا مصطفائی ( دامت برکاتہم) کی ایک ویڈیو کلپ ھے, جس میں وہ فرماتے ہیں کہ صدقہ اور زکات ادا کرنے کے متعدد فوائد ھیں, اور مال کی بیجا محبت ممدوح نہیں ھے؛ انہوں نے مزید فرمایا کہ اپنی بیماری کے علاج سے قبل صدقہ نکالا کریں؛ کیونکہ شفا فقط اللہ کے ہاتھ ھے, ڈاکٹر محض دواء تجویز کرتا ھے, غرضیکہ انہوں نے یہ تمام بات درست فرمائی ہیں
پھر آخر میں ایک واقعہ حضرت موسی ع کا ذکر فرمایا: کہ ان کو ایک مرتبہ پیٹ درد کی شکایت ہوئی تو انہوں نے طور کا قصد کیا اور اللہ جل شانہ سے فریاد کی تو اللہ نے انکو کسی جڑی بوٹی کی طرف رہنمائی فرمائی ۔ تو ان کو شفاء ہوگئی,
پھر ایک مرتبہ حضرت موسی کو مذکورہ شکایت ہوئی تو اس بار وہ اللہ سے پوچھے بنا مذکورہ جڑی بوٹی لے آئے اور اسکو لستعمال کیا؛ لیکن اب کی بار شفاء حاصل نہ ہوسکی, تو اللہ نے فرمایا : کہ شفاء میرے دست قدرت میں ھے, جڑی بوٹی محض سبب ھے اور اسباب میں تاثیر اللہ کے حکم سے پیدا ہوتی ھے ؛ لہذا آپ کو مجھ سے معلوم کرکے جڑی بوٹی استعمال کرنا چاھئے تہی۔ اس واقعہ کی سندی حیثیت سے قطع نظر یہ بات درست ھے؛ کیونکہ اسباب میں تاثیر اللہ تعالی پیدا فرماتے ہیں انکی مرضی اور حکم کے بنا کسی چیز میں کوئی خصوصیت یا اثر نہیں ھوتا۔
_________________
خلاصۂ کلام
وہ ویڈیو 3 باتوں پر مشتمل ھے
بندہ کا مال وہ ھے جو اس نے کھا لیا یا پی لیا یا پہن لیا, اسکے سوا جو مال ھے وہ تو ختم ہونا ھے یا ورثہ کے حصے میں آنا ھے۔
روایت کی تحقیق
یہ روایت صحیح ابن حبان میں صحیح سند کے ساتھ مروی ھے۔
يقولُ العبدُ مالي وإنَّما له مِن مالِه ثلاثةٌ
ما أكَل فأفنأو ما أعطى فأبقى أو لبِس فأبلى وما سوى ذلك فهو ذاهبٌ وتارِكُه للنَّاسِ .
الراوي: أبو هريرة
المحدث: ابن حبان – المصدر: صحيح ابن حبان
 الصفحة:35
الرقم: 3244 
المجلد: 8
الطبع: مؤسسہ الرسالہ
خلاصة حكم المحدث: *صحیح*
•••••••••••••••••••••••
 دوسری بات یہ ھے: کہ اپنے اموال کی زکات ادا کرکے حفاظت کریں, صدقہ سے بیماروں کا علاج کریں, دعا اور گریہ وزاری سے مصائب کا سامنا کریں!
یہ بات بہی درست ھے؛ امام ابوداود نے اپنی مراسیل میں حضرت حسن بصری رح کے حوالے سے ذکر کی ھے,
  حَصِّنوا أموالَكم بالزكاةِ ، ودَاوُوا مرضاكم بالصدقةِ ، واستقبِلوا أمواجَ البلاءِ بالدُّعاءِ والتَّضرُّعِ .
الراوي: الحسن البصري
 المحدث: أبو داود – المصدر: المراسيل 
الصفحة أو الرقم: 210 
خلاصة حكم المحدث: أورده في كتاب المراسيل
•••••••••••••••••••••
 تیسری بات جو حضرت موسی کا قصہ ھے اسکی اصل عربی عبارت یہ ھے:
وفي الاسرائيليات: ” ان موسى بن عمران (ع) اعتل بعلة، فدخل عليه بنو إسرائيل، فعرفوا علته، فقالوا له: لو تداويت بكذا لبرئت، فقال: لا اتداوى حتى يعافيني الله من غير دواء. فطالت علته، فاوحى الله إليه: وعزتي وجلالي! لا ابرؤك حتى تتداوى بما ذكروه لك. فقال لهم: داووني بما ذكرتم. فداووه، فبرىء. فاوجس في نفسه من ذلك، فاوحى الله ـ تعالى ـ اليه: اردت أن تبطل حكمتي بتوكلك علي، فمن أودع العقاقير منافع الأشياء غيري؟ “. 
 واقعہ کی تحقیق
یہ واقعہ ” جامع السعادات” میں بلا کسی سند مذکور ھے, اور خود صاحب کتاب نے اس واقعہ کو از قبیل اسرائیلیات کہا ھے, نیز کتاب کے مصنف ایک شیعہ ہیں.
حوالہ :
[المصدر: جامع السعادات
المجلد/3,
الصفحہ: 228
المؤلف: محمد مہدی النراقی- *العالم الشیعی*-
الطبع: مؤسسہ علمی مطبوعات, بیروت, لبنان]
اسرائیلیات وہ باتیں جو بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے بکثرت منقول ہیں یا نصاریٰ سے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے رقم فرمایا کہ:
اسرائیلیات یا اسرائیلی روایات ان روایات کو کہتے ہیں جو یہودیوں یا عیسائیوں سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں سے بعض براہِ راست بائبل یا تالمود سے لی گئی ہیں بعض منشاءاوران کی شروح سے اوربعض وہ زبانی روایات ہیں جو اہل کتاب میں سینہ بسینہ نقل ہوتی چلی آئی ہیں اور عرب کے یہود ونصاری میں معروف ومشہور تھیں”۔ (علوم القرآن:۳۴۵)
 *اسرائیلیات کا حکم*
اس سلسلہ میں تقریباًً علمائے امت نے ایک ہی جواب دیا ،الفاظ وتعبیرات اگر چہ مختلف ہیں؛ لیکن حکم ایک ہی ہے، آگے ہم مختلف علماء کرام کی تحریریں پیش کریں گے، 
سب سے پہلے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کے دلنشین اورصاف وشفاف تحریر کو نقل کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ ابن کثیرؒ کے حوالہ سے پیش کی ہے؛ چنانچہ رقمطراز ہیں کہ
(۱)پہلی قسم وہ اسرائیلیات ہیں جن کی تصدیق دوسرے خارجی دلائل سے ہوچکی ہے مثلا: فرعون کا غرق ہونا وغیرہ، ایسی روایات اسی لیے قابلِ اعتبار ہیں کہ قرآن کریم یا صحیح احادیث نے ان کی تصدیق کردی ہے۔ (۲)دوسری قسم وہ اسرائیلیات ہیں جن کا جھوٹ ہونا خارجی دلائل سے ثابت ہوچکا ہے،مثلا: یہ کہانی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام آخر عمر میں (معاذ اللہ) بت پرستی میں مبتلا ہوگئے تھے یہ روایت اس لیے قطعا باطل ہے کہ قرآن کریم نے صراحۃ ًاس کی تردید فرمائی ہے۔
 (۳) تیسری قسم ان اسرائیلیات کی ہے جن کے بارے میں خارجی دلائل ہے نہ یہ ثابت ہو تا ہے کہ وہ سچی ہیں اورنہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹ ہیں، مثلا تورات کے احکام وغیرہ ایسی اسرائیلیات کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “لا تصدقوھا ولاتکذبوھا”۔ اس قسم کی روایات کو بیان کرنا تو جائز ہے؛ لیکن ان پرنہ کسی دینی مسئلہ کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے نہ ان کی تصدیق یا تکذیب کی جاسکتی ہے *اوراس قسم کی روایات کو بیان کرنے کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں*۔ (علوم القرآن:۳۶۴).
واللہ تعالی اعلم۔
..کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

 طالب دعا محمد عدنان