Thursday, May 28, 2020

زمین نے تیل واپس کردیا

▪️ *زمین نے تیل واپس کردیا* ▪️

عہدِ فاروقیؓ میں ایک خاتون کا تیل زمین پر گر گیا۔ تیل زمین پر گر کرزمین میں جذب ہوگیا۔ وہ عورت فرطِ غم سے کھڑی رو رہی تھی کہ وہاں سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گزرے ۔ آپ نے اس خاتون سے رونے کی وجہ پوچھی: تو اس نے سارا معاملہ عرض کردیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کوڑا لے کر زمین کو مارنے لگے اور فرمانے لگے:   ’’ اے زمین! کیا تونے میرے دورِ خلافت میں اس خاتون کا تیل غصب کیا ؟ تیل واپس کر۔ورنہ میں تیرے اندر ایسے شخص کو دفن کردونگا جو بے نمازی ہوگا ‘‘  یہ فرمانا تھا کہ زمین نے تیل اگل دیا اور اس خاتون نے اسے اپنے برتن میں ڈال لیا۔

اس واقعے کی اصل مطلوب ھے!!!

••• *باسمہ تعالی* •••
*الجواب وبہ التوفیق:*

 یہ واقعہ ہمکو تلاش بسیار کے بعد بہی کسی مستند کتاب میں نہ مل سکا؛ تاہم علمائے بریلویت کی ایک کتاب "مرآۃ المناجیح  شرح مشکات المصابیح " میں ملا ھے؛ لیکن اس میں بے نمازی کی تدفین کی دھمکی کا ذکر نہیں ہے,  بہت اختصار کیساتھ اتنا لکہا ھے:

🔰 کہ ایک عورت کا تیل زمین میں گرگیا وہ رونے لگی , زمین تیل چوس چکی تہی وہاں سے حضرت عمرؓ کا گزر ہوا وجہ رونے کی پوچھی :اور کوڑے سے زمین کو مارنے لگے اے زمین کیا میرے دور خلافت میں تونے اسکا تیل غصب کیا, واپس اگل! تیل واپس اگلا, عورت نے برتن میں بٹور لیا۔

__*حوالہ* ___

• نام كتاب: مؔرآة المناجيح
• نام مؤلف: احمد يار خان نؔعيمي
• جلد: 8
•صفحة: 349
• طبع: نعيمي كتبخانه گجرات، پاكستان.

★ خلاصه ★

یہ واقعہ کسی مستند کتاب میں مذکور نہیں؛ لہذا بیان کو موقوف رکھا جائے۔

وﷲ تعالی اعلم
✍🏻... کتبہ : *محمد عدنان وقار صؔدیقی*
28 مئی؁ء  2020

جنت کا انوکھا پھل

▪️ *جنت کا انوکھا پھل* ▪️

حضرت علیؓ سے روایت ھے: کہ ﷲ  نے جنت میں ایک درخت پیدا فرمایا ھے جسکا پھل سیب سے بڑا,انار سے چھوٹا, مکھن سے نرم, شہد سے میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ھے,اس درخت کی شاخیں تر موتیوں کی, تنے سونے کے اور پتے زبرجد کے ہیں , اس درخت کا پھل صرف وہی کھاسکے گا جو حضور  صلی ﷲ  علیہ وسلم  پر کثرت سے درود پاک پڑھے گا۔

اسکا حوالہ و حقیقت مطلوب ھے!!!

••• *باسمہ تعالی* •••
*الجواب وبہ التوفیق:*

 سوال میں مذکور درود پاک پڑھنے کی جو فضیلت و انعام ہے اسکو  امام سیوطیؒ و عبد الرحمن صفوریؒ نے ذکر کیا ھے؛ لیکن اسکی سند نہیں ذکر کی گئ ھے؛ لہذا سند ملنے تک اسکے بیان کو موقوف رکھا جائے۔

🔰  *سيوطي كي عبارت* 🔰

وقال علي: " خَلَقَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً ثَمَرُهَا أَكْبَرُ مِنَ التُّفَّاحِ، وَأَصْغَرُ مِنَ الرُّمَّانِ، أَلْيَنُ مِنَ الزُّبْدِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَأَغْصَانُهَا مِنَ اللُّؤْلُؤِ الرَّطْبِ، وَجُذُوعُهَا مِنَ الذَّهَبِ، وَوَرَقُهَا مِنَ الزَّبَرْجَدِ لَا يَأْكُلُ مِنْهَا إِلَّا مَنْ أَكْثَرَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".

٭ المصدر: الحاوي للفتاوي
٭ المؤلف: السيوطيؒ
٭ المجلد: 2
٭ الصفحة: 39
٭ الطبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.


💠 *نزهة المجالس ميں*

یہی بعینہ عبارت حضرت علیؓ سے بلا سند امام عبد الرحمن صفوری شافعیؒ نے بہی ذکر کی ھے:

• نام كتاب: نزهة المجالس
• نام مؤلف: عبد الرحمان الصفوريؒ
• المجلد 2
• الصفحة: 344
• الطبع : المكتب الثقافي، قاهرة، مصر.

والله تعالي اعلم
✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صؔديقي*
۲۸ مئی: ؁ء۲۰۲۰