Thursday, December 8, 2022

کیا شاہ ولی ﷲ معجزۂ شق القمر کے منکر تھے؟

▪️ *کیا شاہ ولی ﷲؒ معجزۂ شق القمر کے منکر تھے؟* ▪️

 ایک بات حضرت شاہ ولی ﷲ محدث دؔہلوی صاحبؒ کی بابت یوں مشہور ھے کہ حضرت العلام حضور اکرم نبی کریم علیہ السلام کے معجزۂ شق القمر کے منکر تھے اور یہ بات گزشتہ صدی میں عالم اسلام کے معروف محدث وفقیہ اور خلافتِ عثمانیہ کے نائب شؔیخ الاسلام علامہ محمد زاہد کؔوثریؒ نے بھی لکھی ھے جسکی عبارت درج ذیل ھے: 


 وله ( رحمة الله عليه) خدمة مشکورۃ فی إنهاض علم الحدیث فی الهند،لکن ھذا لایبیح لنا السکوت عما ینطوی علیه من أعمال تجافی الصواب.

 ترجمة: ’’آپ ؒ کی ہندوستان میں علم الحدیث کی اشاعت میں قابل تشکر خدمات ہیں ۔لیکن محض اس بات کی وجہ سے ہم آپ کی بیان کردہ ان باتوں پر خاموشی نہیں اختیار کرسکتے جو درستگی سے دور ہیں ۔‘‘ 

 ★المصدر: حسن التقاضی فی سیرۃ الامام ابی یوسف القاضیؒ
 ★ المؤلف: العلامة زاهد الكوثريؒ 
★ الصفحة: 96 
 ★
 الطبع: المكتبة الأزهرية للتراث، قاهرة، مصر.

 مزيد لكهتے هيں:

 ° ومن إغراباته عدّه انشقاق القمر عبارة عن ترائيه هكذا للأنظار، وليس سحر الأعين من شأن رسل الله صلوات الله وسلامه عليهم أجمعين.

 ترجمة: 

 شاہ صاحبؒ کا’’ شق قمر‘‘کے بارے میں موقف یہ ہے کہ چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا ؛بلکہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوا تھا ۔علامہ کوثریؒ کہتے ہیں: کہ رسولوںؑ کی شان میں سے نہیں ہے کہ وہ لوگوں کی آنکھوں پر جادو کریں، یہ موقف شاہ صاحبؒ کا تفرد ہے ۔ 

 ٭ المصدر: حسن التقاضي في سيرة الإمام أبي يوسف القاضي ٭ المؤلف: العلامة زاهد الكوثري 
٭ الصفحة: 98 
٭ الطبع: المكتبة الأزهرية للتراث، قاهرة، مصر

. 🪷 *شاہ صاحبؒ نے کیا کہا؟* 🪷 

 شاہ صاحب کی ایک تالیف موسوم " تاویل الاحادیث" ہے جس میں حضرت حجہ اللہ شاہ صاحب لکہتے ہیں : " (کہ بعض اہل علم فرماتے ہیں) کہ شق قمر علامات قیامت میں سے ایک علامت ھے جیسا کہ زلزلے اور خسف وغیرہ من جملہ علامات قیامت میں سے کہے جاتے ہیں , ﷲ ان تمام کو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے بنادیا ؛ کیونکہ مشرکین وقت آنحضور سے دعوئ نبوت پر دلیل طلب کیا کرتے تھے البتہ یہ ضروری نہیں ھے کہ چاند کا شق ( پھٹنا ) درحقیقت ہوا ہو بل کہ ممکن ہے کہ ایسا ہوا ہو کہ چاند کے درمیان میں دھواں ( نما) شیئ آگئ ہو اور اہل دنیا کو چاند ایسا لگ رہا ہو جیسے دو الگ الگ ٹکڑوں میں بٹ گیا ھے۔ 

 تاویل الاحادیث کے حاشیہ نگار استاذ کبیر علامہ غلام مصطفی سندھی قاسمیؒ لکہتے ہیں: کہ غلط فہمی کی بنیاد( جو کہ علامہ زاہد کوثری کو بھی ہوئی ھے کہ انہوں نے بھی شق قمر کی بابت حضرت شاہ صاحب کے متعلق کہا ھے کہ یہ شاہ صاحب کے تفردات میں سےھے ) یہ ھے کہ " تاویل الاحادیث" کتاب کا مطبوعہ نسخہ اس مقولے کو جو شق قمر کے متعلق ھے حضرت شاہ صاحب کی جانب منسوب کرتا ھے ؛ جبکہ شیخ سندھی فرماتے ہیں میں نے خطی نسخہ دیکہا ھے اس میں صاف لکہا ھے کہ اس بات کا قائل علم و معرفت کا آگاہ کوئی شاہ صاحب کے علاوہ شخص ھے :

 ⏹️ *تاويل الاحاديث* ⏹️

 (قال بعض من له معرفة بعلم الأثر والحكمة الطبيعة،كان) من هذا القبيل انشقاق القمر فإنه حادثة قليلة الوقوع، جعلها الله تعالي أمارة بقرب القيامة، كما جعل الخسف والزلازل والملاحم آيات له، وجعلها معجزة لنبينا من حيث أنهم سألوه آية، فأخبر أن الله تعالي سيريهم آية، فلما انشق القمر، أراهم ذلك، قال ( أي ذلك من له معرفة) وليس يجب أن يكون انشقاقه البتة انشقاقا لعين القمر، بل يمكن أن يكون ذلك بمنزلة الدخان، وانقضاض الكواكب والخسوف والكسوف مما يظهر في الجوّ لأعين الناس، فيستعمل بإزاءها في اللغة العربية ألفاظ وضعت لما يقع علي أنفس هذه الأشياء، وإنما نزل القرآن علي لغة العرب، ونظير ذلك ما ذكر عبد الله بن مسعود، وناهيك به، أنهم أصابهم قحط، فكانوا كلما نظروا، أبصروا دخانا في السماء، وفي ذلك نزلت: يوم تأتي السماء بدخان مبين.

 قال المحشي ( الشيخ غلام مصطفي السندي القاسمي): لم توجد) ما بين القوسين من العبارة وإنما نقلتها من النسخة الخطية، فعلم منها: أن هذا الرأي نقله المؤلف الإمام ممن له معرفة بعلم الأثر والحكمة الطبيعية، وليس من إغراباته كما عدّه العلامة البحاثة الكوثري منها، حيث يقول في تاليفه: "حسن التقاضي " ومن إغراباته (الشاه ولي الله) عدّه انشقاق القمر عبارة عن ترائيه هكذا للأنظار، وليس سحر الأعين من شأن رسل الله صلوات الله وسلامن عليهم أجمعين. 

 ٭ المصدر: تاويل الأحاديث 
٭ المؤلف: الشاه ولي اللهؒ 
 ٭ المحشي: غلام مصطفي القاسميؒ 
٭ الصفحة: 102 
٭ الطبع: أكاديمية الشاه ولي الله الدهلوي، حيدرآباد، پاكستان. 

✴️ *حضرت تھانویؒ کا ارشاد* ✴️ 

 حضرت شاہ ولی اللہ کا قول شق القمر کے بارے میں ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے کہ شق قمر کا معجزہ علامات قیامت سے ہے اس میں وقوع کا انکار نہیں بلکہ معجزہ نہیں ـ مطلب یہ ہے کہ جیسے طلوع شمس من المغرب ـ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ نہیں بلکہ علامات قیامت ہے ایسے ہی شق القمر بھی معجزہ نہیں بلکہ علامات قرب قیامت سے ہے جیسے آیت میں اقتراب ساعت کے اقتران سے مفہوم بھی ہوتا ہے اقتربت الساعۃ وانشق القمر ـ

 ترجمہ قیامت نزدیک آپہنچی اور چاند شق ہو گیا ـ 

 • المصدر: ملفوظات حكيم الأمة 
• المؤلف : مولانا اشرف علی تھانویؒ 
 • المجلد: 1 
• الصفحة: 220 
• الرقم : 254 
• الطبع: إداره تاليفات أشرفية، ملتان، پاكستان. 

 خلاصه: حضرت شاہ صاحب نے شق قمر کو علامت قیامت مانا ھے ؛ یعنی جیسے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ایک قیامت کی نشانی اور علامت ھے اسی طرح شق القمر بھی قیامت کی نشانی ھے۔

 وﷲ تعالی اعلم 
✍🏻... کتبہ: *محمد عدنان وقار صؔدیقی*

 ۸ دسمبر، ؁ ۲۰۲۲ء

Sunday, November 27, 2022

حضرت عمر کی اہلیہ ان پر حاوی تہیں؟

▪️ *حضرت عمر کی اہلیہ ان پر حاوی تہیں؟* ▪️

 ایک واقعہ خطباء اور واعظین معاشرت اور گھریلو مسائل کے متعلق بہت بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص امیرُالمُؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر حاضرہوتا ہے۔ جب آپ کے دروازے پر پہنچا تو ان کی زوجہ کو ناراضی کے عالم میں گفتگو کرتے سنا۔ وہ شخص یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ میں تو اپنی بیوی کی شکایت کرنے کے ارادے سے ان کے پاس آیا تھا(مگر)یہی معاملہ تو خود ان کے ساتھ بھی ہے(لہٰذا یہ کیونکر میرا مسئلہ حل کر پائیں گے؟ )۔ امیرُالمؤمنین حضرت عمر نے اسے بلوایا اور آنے کا مقصد دریافت فرمایا۔ اس نے عرض کی کہ میں تو آپ کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت کرنے کے ارادے سے آیا تھا، تو جب میں نے(آپ کے بارے میں)آپ کی زوجۂ محترمہ کی گفتگو سُنی تو(مایوس ہوکر)واپس لوٹ گیا۔ امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا فاروق نے اس سے ارشاد فرمایا: میری بیوی کے مجھ پر چند حقوق(Rights)ہیں(یعنی مجھے اس سے چند فوائد حاصل ہوتے ہیں) جن کی بنا پر میں اس سے درگزر کرتا ہوں: (1)وہ میرے لئے جہنم سے آڑ ہے، اس کی وجہ سے میرا دل حرام سے بچا رہتا ہے(یعنی میں اس کے ذریعے خواہشِ نفس کی تسکین کرلیتا ہوں اور یوں حرام کام سے بچ جاتا ہوں)۔ (2)جب میں اپنے گھر سے نکل جاتا ہوں تووہ میری خزانچی اور میرے مال کی نگہبان بن جاتی ہے۔ (3)میری دھوبن ہے، میرےکپڑے دھوتی ہے۔ (4) میرے بچے کی پرورش کرتی ہے اور(5)میرے لئے روٹیاں اورکھانا پکاتی ہے۔ یہ سن کروہ شخص بولا کہ بے شک مجھے بھی اپنی بیوی سے وہی فائدے حاصل ہوتےہیں جو آپ کو حاصل ہیں مگر میں نےاس کے ساتھ کبھی درگزر سے کام نہ لیا ؛لہٰذا اب میں بھی درگزر سے کام لوں گا۔ 

 كيا يه واقعه معتبر هے؟!

 ••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق:* 

یہ واقعہ متعدد کتب میں منقول ہے ؛ لیکن سب میں بغیر سند مذکور ھے اور واقعے کا بیان محض صیغۂ تمریض یعنی غیر یقینی انداز سے ھے ؛ لہذا اس واقعے کی بابت یقینی ہونا معلوم نہیں ہوتا ھے: 

 ⏹️ *تنبيه الغافلين* ⏹️

 ذُكِرَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إلَى عُمَرَ يَشْكُو إلَيْهِ زَوْجَتَهُ، فَلَمَّا بلغَ بَابَه،سَمِعَ امْرَأَتَهُ أُمَّ كُلْثُومٍ تَطَاوَلَتْ عَلَيْهِ، فَقَال الرَّجُلُ : إني أردت أن أشكو إليه زوجتي،، وبه من البلوي مثل ما بي، فرجع، فدعاه عمر، فسأله، فقال: إني أردت أن أشكو إليك من زوجتي، فَلما سَمِعْتُ من زَوْجَتِكَ ما سمعتُ،رَجَعْتُ، فَقَالَ عُمَرُ : إنِّي أتجاوز عنها لِحُقُوقٍ لَهَا عَلَيَّ، أولها: إنها ستر بيني وبين النار فيسكن بها قلبي عن الحرام، والثاني: إنها خازنة لي إذا خرجت من منزلي، حافظة لي، والثالث: إنها قصارة لي، تغسل ثيابي، والرابع: إنها ظئر لولدي، والخامس: إنها خبازة، وطباخة لي، فقال الرجل: إن لي مثل ما لك، فما تجاوزت عنها، فأتجاوز عنها.

 ٭ المصدر: تنبيه الغافلين 
٭ المؤلف: الفقيه أبو الليث السمر قندي 
 ٭ الصفحة: 517 
٭ الطبع: دار ابن كثير، دمشق، الشام.

 والله تعالي أعلم
 ✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*
 27 / 11 / 2022