Sunday, May 12, 2019

آدم کے آنسوں اور چیل

*حضرت آدم کے آنسوں*


جب حضرتِ آدم کو خطا کے بعد دنیا میں بھیجا گیا تو حضرت ندامت سے رونے لگے اور اللہ سے استغفار کرنے لگے روتے روتے زمین پر آنسو جمع ہو گئے کہتے ہے ایک پیاسی چیل آئی  اور وہ اُن آنسوؤں کو پینے لگی اور کہنے لگی یہ میٹھے پانی کا چشمہ کہاں سے نکلا حضرتِ آدم نے فرمایا یہ میری ندامت کے آنسوں ہیں,اُس چیل نے کہا مجھے زمین پر رہتے ہوئے 2ہزار  سال ہو گئے آج تک میں نے اتنا میٹھا پانی کبھی نہیں پیا پھر چیل نے کہا یاد رکھنا آدم ندامت سے نکلا ہوا آنسوں دنیا کے سارے چشموں کے پانی سے زیادہ میٹھا ہے ۔


 کیا یہ واقعہ دُرست ہے
رہنمائی فرمائیں!!!

<< *باسمہ تعالی*>>
*الجواب باسم ملھم الصواب*

 جی یہ واقعہ دو بڑے جلیل القدر بزرگ, اماموں نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ھے؛ لیکن فقط از روئے نصیحت ذکر کیا ھے ؛ تاہم یہ واقعہ حدیث نبوی نہیں ھے کہ اسکی نسبت حضور کی جانب کی جاسکے ۔

♦ *واقعہ کی عبارت*

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ دِينَارٍ  ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ الْعَنْبَرِيُّ ، عَنِ ابْنِ السَّمَّاكِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي  عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ :  " أَنَّ آدَمَ لَمَّا أَكَلَ مِنَ الشَّجَرَةِ تَسَاقَطَ عَنْهُ  جَمِيعُ زِينَةِ الْجَنَّةِ ، فَلَمْ يَبْقَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ زِينَتِهَا إِلا التَّاجُ وَالإِكْلِيلُ وَجَعَلَ لا يَسْتَتِرُ بِشَيْءٍ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ إِلا سَقَطَ عَنْهُ فَالْتَفَتَ إِلَى حَوَّاءَ بَاكِيًا وَقَالَ : اسْتَعِدِّي لِلْخُرُوجِ مِنْ جِوَارِ اللَّهِ , هَذَا أَوَّلُ شُؤْمِ الْمَعْصِيَةِ . قَالَتْ : يَا آدَمُ مَا ظَنَنْتُ أَحَدًا يَحْلِفُ بِاللَّهِ كَاذِبًا , وَذَلِكَ أَنَّ إِبْلِيسَ لَمَّا قَاسَمَهُمَا عَلَى الشَّجَرَةِ , وَانْطَلَقَ آدَمُ فِي الْجَنَّةِ هَارِبًا اسْتِحْيَاءً مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، فَتَعَلَّقَتْ بِهِ شَجَرَةٌ بِبَعْضِ أَغْصَانِهَا ، ظَنَّ آدَمُ أَنَّهُ قَدْ عُوجِلَ بِالْعُقُوبَةِ , فَنَكَّسَ رَأْسَهُ يَقُولُ : الْعَفْوَ الْعَفْوَ . فَقَالَ اللَّهُ : يَا آدَمُ فِرَارًا مِنِّي ؟ قَالَ : بَلْ حَيَاءً مِنْكَ سَيِّدِي . فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى الْمَلَكَيْنِ : أَخْرِجَا آدَمَ وَحَوَّاءَ مِنْ جِوَارِي ، فَإِنَّهُمَا قَدْ عَصَيَانِي . فَنَزَعَ جِبْرِيلُ التَّاجَ عَنْ رَأْسِهِ ، وَحَلَّ مِيكَائِيلُ الإِكْلِيلَ عَنْ جَبِينِهِ . قَالَ مُجَاهِدٌ فَلَمَّا أُهْبِطَ مِنْ مَلَكُوتِ الْقُدُسِ إِلَى دَارِ الْجُوعِ وَالْمَسْغَبَةِ ، بَكَى عَلَى خَطِيئَتِهِ مِائَةَ سَنَةٍ . قَدْ رَمَى بِرَأْسِهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى نَبَتَتِ الأَرْضُ عُشْبًا وْأَشْجَارًا مِنْ دُمُوعِهِ ، حَتَّى يَقَعَ الدَّمْعُ فِي نُقُرِ الْجَلاهَمِ وَأَقْعِيَتِهَا . فَمَرَّ بِهِ نَسْرٌ عَظِيمٌ قَدْ أَجْهَدَهُ الْعَطَشُ ، فَشَرِبَ مِنْ دُمُوعِ آدَمَ وَأَنْطَقَ اللَّهُ النَّسْرَ فَقَالَ : يَا آدَمُ إِنِّي فِي هَذِهِ الأَرْضِ قَبْلَكَ بِأَلْفَيْ عَامٍ , وَقَدْ بَلَغْتُ شَرْقَ هَذِهِ الأَرْضَ وَغَرْبَهَا ، وَشَرِبْتُ مِنْ بُطُونِ أَوْدِيَتِهَا ، وُغُدْرَانِ جِبَالِهَا ، وَسِيفِ بِحَارِهَا ، مَا شَرِبْتُ مَاءً أَعْذَبَ وَلا أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ هَذَا الْمَاءِ . قَالَ آدَمُ وَيْحَكَ يَا نَسْرُ ! أَتَعْقِلُ مَا تَقُولُ ؟ مِنْ أَيْنَ تَجِدُ عُذُوبَةَ دَمْعِ مَنْ عَصَى رَبَّهُ ، وَجرَى عَلَى خَدَّيْنِ عَاصِيَيْنِ ؟ وَأَيُّ دَمْعٍ أَمَرُّ مِنْ دَمْعِ عَاصٍ ؟ وَلَكِنْ أَظُنُّ بِكَ أَيُّهَا النَّسْرُ أَنَّكَ تُعَيِّرُنِي لأَنِّي عَصَيْتُ رَبِّي ، فَأُزْعِجْتُ مِنْ دَارِ النِّعْمَةِ إِلَى دَارِ الْبُؤْسِ وَالْمَسْكَنَةِ . فَقَالَ النَّسْرُ : يَا آدَمُ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ التَّعْيِيرِ ، فَمَا أُعَيِّرُكَ ، وَلَكِنْ هَكَذَا وَجَدْتُ طَعْمَ دُمُوعِكَ . وَأَيُّ دَمْعٍ أَعْذَبُ مِنْ دَمْعِ عَبْدٍ عَصَى رَبَّهُ ، وَذَكَرَ ذَنْبَهُ ، فَوَجِلَ قَلْبُهُ ، وَخَشَعَ جِسْمُهُ ، وَبَكَى عَلَى خَطِيئَتِهِ خَوْفًا مِنْ رَبِّهِ "  .

🔘 *ترجمہ مع خلاصہ*

 جب آدم نے شجرہ ممنوعہ سے کچھ کھالیا تو بحکم خداوندی ان کے جنتی لباس وتاج وغیرہ سب اتارلیے گئے, آدم اللہ سے بہت شرمارھے تھے تو اللہ نے پھر دو فرشتوں کو حکم دیا : کہ آدم کو مع ان کی اہلیہ حواء کے ہمارے پڑوس سے اب دور لیجاؤ. غرضیکہ ان کے تاج و لباس واپس لے لیے گئے اور جب آدم ملاء اعلی سے اس بہوک و غربت کی دنیا میں آئے

تو 100 سال گھٹنوں پر سر رکھ کر روتے گئے اور اتنا روئے کہ ان کے آنسوؤں سے زمین میں کچھ گھاس بہی اگ آئی , اور کثرت آنسوں نے چھوٹی چٹان و پتہر میں سوراخ بہی کردیا .
 چنانچہ ایک مرتبہ وہاں سے ایک چیل (گدھ) کا گزر ہوا جسکو سخت پیاس لگی تہی تو اس نے آدم کے آنسوؤں سے بہنے والے چشمہ سے پی لیا , تبہی خداوند نے اس چیل (پرندہ) کو گویائی عطا کی ,اور وہ چیل کہنے لگی : کہ آدم! میں دو ہزار سال سے آپ سے بہی پہلے سے اس دنیا میں ہوں. اور میں نے مشرق و مغرب کو گھوما ھے, پہاڑوں کے جہرنوں , وادیوں اور سمندروں کے پانی سے پیا ھے؛ لیکن اس پانی سے زیادہ شیریں ذائقہ کبہی نہ پیا.
حضرت آدم بولے: اے چیل ! تو مجھے عار دلا رہی ھے بھلا گنہگار کے آنسوؤں میں کڑواہٹ کے سوا کیا ہوسکتا ھے

 تو چیل نے کہا: میں عار نہیں دلارہی ہوں ؛ بلکہ میں نے حقیقتا وہ ذائقہ محسوس کیا ھے اور گنہگار بندے کے آنسوں جو رب کے آگے گناہ کو یاد کرکے نکلتے ہیں اس سے زیادہ شیریں پانی ہوتا ہی نہیں ھے ۔

📓 *واقعہ کا مصدر*

 یہ واقعہ امام ابن ابی الدنیا رح نے اپنی کتاب" الرقة والبكاء " مىں ذكر كيا هے.

المصدر: الرقة والبكاء
المؤلف: ابن ابي الدنيا
الصفحة: 225
رقم القصة: 328
الطبع: دار ابن حزم، بيروت، لبنان

♻ *دوسرا مصدر*

 اسی طرح یہ واقعہ قدامة مقدسي نے بہی ذکر کیا ھے :

المصدر: الرِّقة والبكاء
المؤلف: موفق الدين قدامة المقدسي
الراوي: مجاهد
الصفحة: 60
الطبع: دار القلم، دمشق، الشام

🛑 *واقعہ کی حیثیت*
 یہ واقعہ جیسا کہ محققین نے کہا ھے از قبیل اسرائیلیات ھے ۔

(حوالہ بالا)

 ◀   اسرائیلیات وہ باتیں جو بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے بکثرت منقول ہیں یا نصاریٰ سے۔

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے رقم فرمایا کہ:

"اسرائیلیات یا اسرائیلی روایات ان روایات کو کہتے ہیں جو یہودیوں یا عیسائیوں سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں سے بعض براہِ راست بائبل یا تالمود سے لی گئی ہیں بعض منشاءاوران کی شروح سے اوربعض وہ زبانی روایات ہیں جو اہل کتاب میں سینہ بسینہ نقل ہوتی چلی آئی ہیں اور عرب کے یہود ونصاری میں معروف ومشہور تھیں"۔

 (علوم القرآن, صفحہ: 345, طبع: مکتبہ دار العلوم کراچی)

⚫  *اسرائیلیات کا حکم*⚫

   اس سلسلہ میں تقریباًً علمائے امت نے ایک ہی جواب دیا ،الفاظ وتعبیرات اگر چہ مختلف ہیں؛ لیکن حکم ایک ہی ہے، آگے ہم مختلف علماء کرام کی تحریریں پیش کریں گے،
سب سے پہلے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کے دلنشین اورصاف وشفاف تحریر کو نقل کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ ابن کثیرؒ کے حوالہ سے پیش کی ہے؛ چنانچہ رقمطراز ہیں کہ:
(۱)پہلی قسم وہ اسرائیلیات ہیں جن کی تصدیق دوسرے خارجی دلائل سے ہوچکی ہے مثلا: فرعون کا غرق ہونا وغیرہ، ایسی روایات اسی لیے قابلِ اعتبار ہیں کہ قرآن کریم یا صحیح احادیث نے ان کی تصدیق کردی ہے۔

 (۲)دوسری قسم وہ اسرائیلیات ہیں جن کا جھوٹ ہونا خارجی دلائل سے ثابت ہوچکا ہے،مثلا: یہ کہانی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام آخر عمر میں (معاذ اللہ) بت پرستی میں مبتلا ہوگئے تھے یہ روایت اس لیے قطعا باطل ہے کہ قرآن کریم نے صراحۃ ًاس کی تردید فرمائی ہے۔

 (۳) تیسری قسم ان اسرائیلیات کی ہے جن کے بارے میں خارجی دلائل ہے نہ یہ ثابت ہو تا ہے کہ وہ سچی ہیں اورنہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹ ہیں، مثلا تورات کے احکام وغیرہ ایسی اسرائیلیات کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لا تصدقوھا ولاتکذبوھا"۔ اس قسم کی روایات کو بیان کرنا تو جائز ہے؛ لیکن ان پرنہ کسی دینی مسئلہ کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے نہ ان کی تصدیق یا تکذیب کی جاسکتی ہے *اوراس قسم کی روایات کو بیان کرنے کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں*۔

(علوم القرآن:صفحہ: 346, طبع: مکتبہ دار العلوم کراچی).

••• *خلاصہ کلام* •••

مذکورہ واقعہ توبہ و استغفار اور خدا کے آگے گریہ و زاری کی ترغیب کے سلسلے میں حدیث کا عنوان دیئے بغیر  بیان کیا جاسکتا ھے ۔

✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*






Sunday, May 5, 2019

منٹوں میں ارب پتی بنئے

▪ *منٹوں میں ارب پتی بنیئے* ▪

حضرت تمیم داری حضور سے روایت کرتے ہیں: کہ جوشخص دس مرتبہ "أشهَدُ أن لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ ، وحدَهُ لا شريكَ لَهُ، إلَهًا واحدًا أحَدًا صمَدًا، لم يتَّخِذْ صاحبةً ولا ولَدًا، ولم يَكُن لَهُ كُفوًا أحدٌ" کہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے چار کروڑ نیکیاں لکھے گا ۔
اور چونکہ رمضان میں ہر نیکی کا ثواب ستر 70 گنا زیادہ ملتا ھے ؛ تو اس لحاظ سے ان الفاظ کا ثواب دو ارب اسی کروڑ ہوجایئگا۔

   اس روایت کی تحقیق مطلوب ھے ؛ یہ روایت مساجد اور عوامی مقامات پر پمفلٹ اور اشتہار کی صورت میں عام ہورہی ھے!!!

<< *باسمہ تعالی*>>
*الجواب وبہ التوفیق*

مذکورہ پوسٹ دو باتوں پر مشتمل ھے:
1) حضرت تمیم داری کی روایت جس میں مذکورہ کلمات پڑھنے پر چار کروڑ نیکیاں ملنے کا ذکر ھے۔
2) رمضان کریم میں ہر نیکی کا اجر ستر گنا زیادہ ہوجاتا ھے۔

1⃣ *حضرت تمیم کی روایت*

🔘حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن الْخَلِيل بْن مُرَّةَ ، عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( مَنْ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، إِلَهًا وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ ) .

« *ترجمة*»
حضرت تمیم داری سے مروی ھے: کہ حضور کریم کا ارشاد ھے: کہ جس نے مذکورہ کلمات دس مرتبہ پڑھے تو ﷲ اسکے لیے چار کروڑ نیکیاں لکھے گا۔

المصدر: سنن الترمذي
الراوي: تميم الجاري
المحدث: ابو عيسي الترمذي
المجلد: 5
الصفحة: 461
الرقم: 3473
الطبع: دار الغرب الاسلامي، بيروت، لبنان.

♦ جبکہ مسند احمد میں چار کروڑ کی بجائے چالیس ہزار نیکیوں کا ذکر ھے۔

 ※ المصدر: مسند احمد
    الراوي:تميم الداري
    المحدث: احمد بن حنبل
    المجلد: 28
    الصفحة: 151
    الرقم:16952
    الدرجة:ضعيف، ومنقطع
    المحقق: شعيب الارنؤوط
    الطبع:مؤسسة الرسالة، بيروت


🔰 اسی طرح طبرانی کی المعجم الکبیر میں بہی چالیس ہزار کا لفظ موجود ھے

 。 المصدر: المعجم الكبير
      الراوی: تمیم الداری
      المحدث: طبرانی
      المجلد:2
      الصفحة: 57
      الرقم:1278
      الطبع:مكتبة ابن تيمية، قاهرة، مصر

⚠ *امام ترمذی کا قول*

   امام ترمذی روایت ذکر کرنے کے بعد اس پر کلام فرماتے ہیں : کہ سند میں ایک راوی" خلیل بن مرہ" ہیں جو کہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں نیز امام بخاری رح نے "خلیل بن مرہ" کو *منکَر الحدیث* کہا ھے.

🔅هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه "والخليل بن مرة" ليس بالقوي عند أصحاب الحديث، قال محمد بن إسماعيل "هو منكر الحديث").


(ترمذی حوالا بالا)

♻ *امام بخاری کے قول کی صراحت*

 امام بخاری کی صراحت کے مطابق وہ جسکو منکر الحدیث کہتے ہیں تو اس سے روایت نہ کی جائے ۔

▫قال البخاري: كل من قلت فيه "منكر الحديث " فلا تحل الرواية عنه.

المصدر: مقدمة التحقيق لاعلاء السنن (حاشية)
المحقق: عبد الفتاح ابوغدة
الصفحة: 258
الطبع: إدارة القرآن والعلوم الاسلامية، كراتشي، باكستان.

🛑لیکن امام بخاری کا یہ قاعدہ خود منتقد علیہ ھے یعنی اس قاعدے کی خلاف ورزی خود امام بخاری کرتے ہیں بس معلوم ہوا کہ یہ قول بخاری کہ جسکو میں منکرالحدیث کہدوں اس سے روایت حلال نہیں یہ قاعدہ محل نظر ھے؛ کیونکہ ابن عدی جیسے معتدل محدث نے خلیل بن مرہ کو ضعیف کہا ھے متروک نہیں کہا جیساکہ آگے آرہا ھے۔ اسی طرح ابن حجر نے بہی ضعیف کہا ھے

دیکھئے!
  الرفع والتکمیل , صفحہ: 208 تا 210, طبع: دار السلام، قاهرة، مصر.

🔴 اور "خلیل بن مرة" کے متعلق ابن عدی نے الکامل میں لکہا ھے: کہ ان کی روایت کردہ حدیث قبول کی جاسکتی ھے ؛ کیونکہ یہ متروک الحدیث نہیں ہیں ۔

▪قال الشيخ: وللخليل احاديث غير ما ذكرته أحاديث غرائب، وهو  شيخ بصري، وقد حدث عنه الليث غير ما ذكرته وأهل الفضل، ولم أر في أحاديثه حديثا منكرا قد جاوز الحد، وهو في جملة من يكتب حديثه، وليس هو بمتروك الحديث.

المصدر: الكامل في الضعفاء
المؤلف: ابن عدي
المجلد: 1
الصفحة:930
الطبع: دار الفكر بيروت.

✳⚠ *خلیل بن مرہ ابن حجر کی نظر میں*

خليل بن مرة الضبعي -بضم المعجمة وفتح الموحدة- البصري نزيل الرقة، ضعيف، من السابعة، مات سنة ستين.

ترجمة: خليل بن مرة ضعيف هيں.

المصدر: تقريب التهذيب
المؤلف: ابن حجر العسقلاني
الصفحة: 302
الرقم: 1767
الطبع: دار العاصمة،

🌐 *دوسری بات کی تحقیق*

 رمضان المبارک میں ہر نیکی کا اجر بڑھ کر 70 گنا ہوجاتا ھے
یہ بات درست ھے کہ ماہ رمضان میں عبادات کا اجر و ثواب دو چند ہوجایا کرتا ھے ؛ لیکن 70 گنا اجر کی صراحت روایات میں نہیں البتہ اتنا ضرور ھے کہ ماہ رمضان میں نفل عبادت کا اجر ایسا ھے کہ جیسے فرض کا ثواب اور فرض ادا کرنے کا ثواب اتنا ھے کہ جتنا 70 فرض ادا کرنے کا ثواب.. یعنی ایک فرض کی ادایئگی پر 70 گنا اجر بڑھ جاتا ھے نہ کہ نفل و مستحبات کا لہذا کسی بہی ذکر و اذکار کے متعلق اپنی جانب سے کسی عدد کے ساتھ خاص نہ کیا جائے۔

📓عن سلمان الفارسي رضي الله عنه أنه قال : ( خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر يوم من شعبان فقال : أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم مبارك ، شهر فيه ليلة خير من ألف شهر ، جعل الله صيامه فريضة ، وقيام ليله تطوعاً ، *من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه ومن أدى فيه فريضة كان كمن أدّى سبعين فريضة فيما سواه* الخـ...

المصدر: صحيح ابن خزيمة
الراوي: سلمان الفارسي
المحدث: محمد بن اسحاق
الصفحة:191
الرقم:1877
الدرجة: ضعيف
الطبع: المكتب الاسلامي، بيروت، لبنان

⏳ *رمضان میں نیکیوں کا اجر*

رمضان میں اعمال صالحہ کا اجر بڑھ جاتا ھے اور اسی طرح رمضان میں اعمال بد کا گناہ و وبال بہی بڑھ جاتا ھے؛حضرت ابوہریرہ سے مَروی ہے کہ نبی کریمﷺ اِرشاد فرماتے ہیں :

”فَاتَّقُوا شَهْرَ رَمَضَانَ، فَإِنَّ الْحَسَنَاتِ تُضَاعَفُ فِيهِ مَا لَا تُضَاعَفُ فِيمَا سِوَاهُ وَكَذَلِكَ السَّيِّئَاتُ“

رمضان کے مہینے میں(اللہ تعالیٰ سے)ڈرتےرہنا کیونکہ اِس مہینے میں نیکیوں(کے اجر)کو اِس قدر بڑھادیا جاتاہے جتنا رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں نہیں بڑھایا جاتا، اِسی طرح گناہوں(کے وَبال)کو بھی (اِس قدر بڑھادیا جاتا ہےجتنا رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں نہیں بڑھایا جاتا)۔

 المصدر: المعجم الاوسط
الراوی: ابو ھریرہ
المحدث: طبرانی
المجلد: 5
الرقم: 4827
الطبع: دار الحرمین للطباعہ, قاہرہ, مصر۔

🌷حقیقت یہ ھے: کہ جگہ کے محترم و مشرف ہونے اور زمانہ کے بابرکت و باعظمت ہونے کی بنا پر بہی اعمال کا اجر بڑھ جایا کرتا ھے اس کی صراحت علامہ ابن رجب حنبلی نے بہی " لطائف المعارف" میں فرمایئ ھے؛ اور مزید فرمایا: کہ ابراہیم نخعی رح کہا کرتے تھے کہ رمضان میں تسبیحات کا اجر غیر رمضان کے مقابلے میں ہزار تسبیحات سے افضل ہوجاتا ھے۔

دیکھئے:

لطائف المعارف
مؤلف: ابن رجب
صفحہ: 284 تا 285
طبع:دار ابن کثیر , دمشق۔

<< *الحاصل*>>

   حضرت تمیم داری والی روایت میں جو چار کروڑ نیکیوں کا ذکر ھے وہ روایت کمزور ھے لہذا اسکی نسبت نبی کریم کی جانب کرنے اور اس قدر فضیلت ماننے میں احتیاط کرنی چاہئے,کیونکہ روایات میں الفاظ بہی مختلف ہیں جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں,تاہم بہت زیادہ کمزور نہیں ھے کہ روایت ناقابل بیان ہو, نیز ماہ رمضان میں اعمال صالحہ کے اجر وثواب میں اضافے و زیادتی سے کسی کو انکار نہیں ؛ البتہ اجر و ثواب کی اپنی جانب سے تحدید نہ کیجائے۔ ہاں جن احادیث میں اجر کی تحدید مذکور ھے اسکو اسی محدد اجر کی صراحت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ مذکورہ ورد و ذکر جو حضرت تمیم
کی روایت میں ھے اس میں چار کروڑ والی بات تک بیان کیا جائے اسکو رمضان میں زیادتی اجر والی روایت سے ضرب دیکر اربوں نیکیاں بیان نہ کی جایئں۔

وﷲ تعالی اعلم
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*