Wednesday, October 5, 2022

جس سال حضور پیدا ہوئے اس سال کوئی لڑکی ہی پیدا نہ ہوئی؟

••• *جس سال حضورؐ پیدا ہوئے اُس سال کوئی لڑکی ہی پیدا نہ ہوئی ؟* ••• 

 بیان کیا جاتا ہے کہ جب نبی کریمؐ کی ولادت کا وقت آیا، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آسمانوں اور جنتوں کے دروازے کھول دیئے جائیں۔ فرشتے باہم بشارت دیتے پھرتے تھے۔ سورج نے نور کا نیا جوڑا پہنا۔ اس سال دنیا کی تمام عورتوں کو یہ رعایت ملی کہ سب فرزند نرینہ جنیں۔ درختوں میں پھل آ گئے۔ آسمان میں زبر جدد یاقوت کے ستون کھڑے کئے گئے۔ نہر کوثر کے کنارے مشک خالص کے درخت لگائے گئے۔ مکہ کے بت اوندھے ہوگئے۔ وغیرہ وغیرہ۔

 اس بات کی تحقیق مطلوب ھے!!! 

 ••• *باسمہ تعالی* ••• 
*الجواب وبہ التوفیق:* 

 یہ واقعہ امام قسطلانیؒ نے " المواہب اللدنیہ " میں ذکر کیا ھے لیکن ساتھ ہی ساتھ واقعہ کے غیر معتبر ہونے کو بھی لکھا ھے:

 ⏹️ *المواهب اللدنية* ⏹️ 

 وروى أبو نعيم عن عمرو بن قتيبة قال: سمعت أبى- وكان من أوعية العلم- قال: لما حضرت ولادة آمنة قال الله تعالى لملائكته: افتحوا أبواب السماء كلها، وأبواب الجنان، وألبست الشمس يومئذ نورا عظيما، وكان قد أذن الله تعالى تلك السنة لنساء الدنيا أن يحملن ذكورا كرامة لمحمد- صلى الله عليه وسلم-.. 

 *الحديث وهو مطعون فيه* 

 ٭ المصدر: المواهب اللدنية 
 ٭ المؤلف: القسطلانيؒ 
٭ المجلد: 1 
٭ الصفحة: 124 
٭ الطبع: المكتب الإسلامي، بيروت، لبنان.

 ✴️ *الخصائص الكبرٰي* ✴️

 امام سیوطی نے بھی اس واقعہ کو اپنی کتاب " خصائص کبرٰی " میں جگہ دی ھے ؛ لیکن دل پر جبر کرکے انہوں نے یہ واقعہ ذکر کیا ھے کہ ذکر کرنے کو میرا دل تو نہیں چاہتا ھے ؛ لیکن حافظ ابونعیم کی اتباع میں مَیں ذکر کیے دیتا ہوں:

 ☪️ *الخصائص الكبري* ☪️ 

 قلتُ: هذا الأثر والأثران قبله فيها نكارة شديدة، ولم أورد في كتابي هذا أشد نكارة منها، ولم تكن نفسي لتطيب بإيرادها، لكني تبعتُ الحافظَ أبانعيم في ذلك. 

 ٭ المصدر: الخصائص الكبري 
٭ المحدث: الإمام السيوطي 
 ٭ المجلد: 1 
٭ الصفحة: 117 تا 122 
٭ الطبع: دار الكتب الحديثية،قاهرة، مصر. 

 ••• *خلاصۂ کلام* ••• 

 ساری دنیا میں ایک سال میں پیدا ہونے والے سب لڑکے ہی ہوتے تو یہ بہت ہی اہم واقعہ رونما ہوتا اور تاریخ نگار حضرات اس گوشے سے ضرور پردہ اٹھاتے اور خود کفار مکہ میں سے بعض قبائل مؤنث کی پیدائش سے جو خفا رہتے تھے ان کے گھروں میں تو ضرور گھی کے چراغ جلتے اور عرب لوگ اس غیر معمولی واقعے کا ضرور کہیں تو بیان کرتے ؛ لیکن سب اس موقعہ پر ساکت نظر آتے ہیں اور خود واقعہ نگار محدث اس کی صحت کے قائل نہیں ؛ لہذا اس بات کو بیان کرنا درست نہیں۔ 

 وﷲ تعالی اعلم 

✍🏻... کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

 5 اکتوبر / 2022ء 8 
ربیع الاول/ 1444ھ

Wednesday, August 17, 2022

سند غلامی اہل بیت کا نوشتہ

▪️ *سندِ غلامیٔ اہلِ بیت کا نوشتہ* ▪️

 ایک واقعہ بہت زیادہ واعظین اور خطباء دھڑلے سے بیان کرتے ہیں کہ : ایک مرتبہ حسنین کریمین اور فاروق اعظم کے بیٹے بچپن میں ساتھ مل کر کھیل رہے تھے کہ اچانک کسی بات کو لے کر لڑائی ہو جاتی ہے! باتوں ہی باتوں میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے فاروق اعظم کے شہزادے سے فرمایا کہ "تو میرا غلام اور تیرا باپ میرے نانا کا غلام"- یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے کو برا لگا اور وہ اس بات کی شکایت کرنے کے لیے اپنے والد کے پاس چلے گئے؛ والد صاحب سے کہا کہ حسنین مجھے ایسا ایسا کہتے ہیں- حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ جاؤ اور ان سے یہ بات لکھوا کر لے آؤ؛ چناں چہ ابن عمر نے حسنین کریمین سے کہا کہ آپ نے جو کہا ہے اسے کاغذ پر لکھ دیجیے- امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے وہی بات لکھ بھی دی- جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھوں میں وہ کاغذ دیا گیا تو آپ اسے چومنے لگے اور بہت خوش ہوئے؛ پھر اپنے بیٹے سے فرمایا: بیٹا اب مجھے میدان حشر کا کوئی خوف نہیں کیوں کہ مجھے آل رسول نے رسول اللہ کا غلام لکھ دیا ہے- اس چِٹّھی کو میرے کفن میں رکھ دینا تاکہ منکر نکیر مجھ سے سوالات نہ کریں- پھر آپ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے حسنین کریمین کے فضائل بتائے اور ان کی غلامی کرنے کا حکم دیا- اس واقعہ کی سند و حوالہ مطلوب ھے!!!  

••• *باسمہ تعالی* •••
 *الجواب وبہ التوفیق:*

 یہ واقعہ مختلف الفاظ میں بیان ہوتا رہتا ھے ؛ البتہ اس کی کوئی معتبر سند یا معتبر حوالہ تلاش کے بعد بھی دستیاب نہ ہوسکا ؛ لہذا اسکو بیان کرنے گریز کرنا ضروری ھے ۔
 البتہ یہ واقعہ شیعی کتاب " چودہ ستارے " میں مرقوم ھے؛ لیکن یہ کتاب چونکہ غالی رافضی کی ھے اور خرافات کا مجموعہ ھے , اور نہ وہاں سند مذکور ھے نہ حوالہ ؛ لہذا کہا جایئگا کہ یہ واقعہ محض مشہور ھے اور واعظین کی زباں زد ھے : 

 💎 *چودہ ستارے* 💎

 علمائے اہل سنت کا بیان ھے : کہ ایک دن منزل مفاخرت میں عبد ﷲ بن عمر امام حسن اور امام حسین کے سامنے فخر و افتخار کی باتیں کرنے لگے یہ سن کر امام حسن نے فرمایا: کہ تم تو ہمارے غلام زادے ہو ؛ اتنی بڑھ چڑھ کر کیا باتیں کر رھے ہو؟ اس پر عبد ﷲ بن عمر رنجیدہ ہوکر اپنے باپ کے پاس گئے اور امام حسن نے جو کچھ کہا تہا اسے بیان کیا , یہ سنکر حضرت عمر نے فرمایا: بیٹا! یہ بات ان سے لکھوالو! اور اگر لکھدیں تو میرے کفن میں رکھ دینا! ایک روایت میں ھے کہ انہوں نے لکھ دیا , اور حضرت عمر نے وصیت کردی کہ اسے ان کے کفن میں رکھا جائے؛ کیونکہ محمد و آلِ محمد کی غلامی بخشش کا ذریعہ ھے۔

 • نام کتاب : چودہ ستارے 
• نجم الحسن کراروی 
 • صفحة: 226 
• طبع: امامیہ کتب خانہ,مغل حویلی اندرون، موچی دروازہ،
 لاھور، پاكستان. 

 ❇️ *فتاوی اجملیہ* ❇️

 اس واقعہ کا ناقابلِ قبول ہونا رضاخانی فتوے " فتاوی اجملیہ " میں بھی مذکور ھے: " یہ واقعہ کسی عربی کی معتبر و مستند کتاب میں میری نظر سے نہیں گزرا ؛ تو یقین کیساتھ نہ اسکو صحیح کہا جاسکتا ھے نہ غلط "۔

 ÷ نام کتاب: فتاوي أجملية 
÷ نام مؤلف : مفتي اجمل سنبهلي 
÷ مجلد: 4 
÷ صفحة: 629 
÷ طبع: شبير برادرز، اردو بازار، زبيده سينٹر، لاهور، پاكستان. والله تعالي أعلم 

 ✍🏻... كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*

 17
 اگست، 2022